’مطالبے نہ مانے تو غزہ سے کوئی یرغمالی زندہ نہیں بچے گا‘ حماس کی تنبیہ، نتن یاہو کا جنگجوؤں کے سرنڈر کا دعویٰ


حماس نے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے سے جڑے مطالبات نہ مانے گئے تو ایک بھی اسرائیلی یرغمالی کو زندہ غزہ سے نکلنے نہیں دیا جائے گا۔ مگر اسرائیلی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ حماس کے درجنوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں جو کہ ’جنگ کے خاتمے کی شروعات ہے۔‘

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس منگل کو ہوگا جس میں امریکہ کی جانب سے ویٹو کے بعد مستقل جنگ بندی کے لیے دوبارہ ایک مجوزہ قرارداد پر ووٹنگ ہوگی۔

اسرائیل کی فوج نے شمال میں غزہ سٹی اور جنوب میں خان یونس کے رہائشیوں کو نقل مکانی کا حکم دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فوج شمالی غزہ کا ’مکمل کنٹرول‘ حاصل کر لے گی۔

فلسطینی حکام کے مطابق شمال میں اسرائیلی بمباریوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔ ادھر غزہ سے کئی راکٹ اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین کی ایجنسی نے کہا کہ اس کی امداد کی ترسیل کا نیٹ ورک مشکلات کا شکار ہے۔

غزہ

’مطالبات پورے نہ ہوئے تو کوئی یرغمالی غزہ سے زندہ واپس نہیں جائے گا‘

اتوار کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ’حماس کے درجنوں جنگجو ہتھیار ڈال رہے ہیں اور خود کو ان کے حوالے کر رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جنگ عروج پر ہے‘ اور اس میں کامیابی اور حماس کی شکست میں مزید وقت لگے گا،‘ لیکن انھوں نے واضح انداز میں کہا کہ یہ جنگ اب ’حماس کے خاتمے کا آغاز ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں حماس کے دہشت گردوں سے کہتا ہوں کہ اب بس سب ختم ہونے کے قریب ہے۔ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کے لیے اپنی جانیں مت گنوائیں، اب ہتھیار ڈال دیں۔‘

حماس کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو کوئی بھی اسرائیلی یرغمالی غزہ سے زندہ واپس نہیں جائے گا۔

حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’نہ تو اُن کا دشمن (اسرائیل) اور نہ ہی اُس کی مغرور قیادت اور نہ ہی ان کے حامی کوئی بھی مذاکرات، قیدیوں کے تبادلے، اور شرائط پر اتفاق کیے بغیر غزہ سے کسی بھی یرغمالی کو زندہ نہیں لے جا سکے گا۔‘

حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے زیر حراست 138 افراد کے رہائی سے متعلق اسرائیل اور دیگر فریقین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے بارہا وعدہ کیا ہے کہ وہ باقی یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ مجموعی طور پر 110 یرغمالیوں کو اب تک رہا کروایا جا چکا ہے لیکن ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی جس کے تحت درجنوں افراد کو رہا کیا گیا تھا، گذشتہ ہفتے ختم ہو گئی تھی اور اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

زمینی کارروائی میں 100 سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک زمینی کارروائی کے دوران اُن کے 100 سے زائد فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ پیر 11 دسمبر کی صبح ہلاک ہونے والے چار افراد میں سے تین جنوبی غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے جبکہ چوتھا فوجی ایک حادثے میں مارا گیا۔

آئی ڈی ایف نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد سے ہلاک ہونے والے 430 فوجیوں کے نام شائع کیے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سے 101 ہلاکتیں 27 اکتوبر کو آئی ڈی ایف کی جانب سے غزہ پر وسیع پیمانے پر زمینی حملے کے آغاز کے بعد سے ہو چکی ہیں۔

تاہم دوسری جانب غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنی جوابی کارروائی میں تقریبا 18 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چُکے ہیں۔

غزۃ

اٹلی، فرانس اور جرمنی نے حماس پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کر دی

اٹلی، فرانس اور جرمنی نے یورپی یونین سے حماس اور اس کے حامیوں کے خلاف عارضی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کو ایک خط لکھا گیا ہے۔

اٹلی، فرانس اور جرمنی نے یورپی یونین سے حماس اور اس کے حامیوں کے خلاف عارضی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کی جانب سے کہا جا رہے کہ ادارے کے سامنے وہ خط بھی آیا ہے کہ جس میں ان مُمالک کے وزرائے خارجہ نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کو حماس پر پابندیوں سے متعلق لکھا ہے۔

رائٹرز کے مطابق خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس کے لئے (حماس پر پابندی کے لیے) اپنی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہیں، خط میں حماس اور اس کے حامیوں پر عارضی پابندیاں لگانے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی بنائی جائے۔‘

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کو لکھطے جانے والے خط میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’حماس پر پابندیوں کی فوری منظوری سے ہم حماس کے خلاف یورپی یونین کے عزم اور اسرائیل کے ساتھ اپنی یکجہتی کے بارے میں ایک مضبوط سیاسی پیغام حماس انتظامیہ کو بھیج سکتے ہیں۔

غزہ

غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سکول اور کاروباری ادارے بند

جنگ زدہ غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں زیادہ تر سکول، یونیورسٹیاں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

مشرقی یروشلم سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخصیت کا کہنا ہے کہ ’یہ عوام کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ منافقت کی انتہا ہو گی کہ میں اپنی زندگی خاموشی سے جاری رکھوں اور اپنے کیریئر میں ذاتی ترقی کی کوشش کرتا رہوں، تب جب غزہ کے لوگ، جو مجھ سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں، قتل کیے جا رہے ہیں اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔‘

اردن میں بھی بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’بہت سے کاروباری مراکز اور دیگر اداروں نے ہڑتال کی کی اس کال پر ردعمل ظاہر کیا ہے، اور مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک میں واضح طور پر کمی دیکھائی دے رہی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31990 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments