نواز شریف کی بریت اور عمران خان کی جیل یاترا
مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت ہو گئی ہے جب کہ نیب نے نواز شریف کی فلیگ شپ ریفرنس میں ان کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت بھجوانے کی درخواست مسترد کر کے نواز شریف کی سزا بڑھانے بارے نیب کی اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔ نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپیل پر اپنے دلائل مکمل کر لئے ہیں۔ اب 12 دسمبر 2023 ء کو نیب کا پراسیکیوٹر اپیل پر دلائل دے گا۔
العزیزیہ ریفرنس میں بریت کے بعد نواز شریف کو دی گئی تمام سزائیں کالعدم ہو جائیں گی۔ اس کے بعد نواز شریف پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے کے لئے اہل ہو جائیں گے۔ ان کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ دوسری طرف عمران خان 5 اگست 2023 ء کے بعد سے مسلسل جیل میں ہیں۔ اب تک ان کی جیل یاترا کو 5 ماہ ہو گئے ہیں اگرچہ کچھ مقدمات میں ان کی ضمانتیں ہو گئی ہیں لیکن توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہونے کے باوجود ان کی ضمانت پر رہائی ہوئی ہے اور نہ ہی سائفر اور القادر ٹرسٹ کیس میں ان کی فوری ضمانت کا امکان ہے۔
لہذا ان کے فوری طور پر جیل سے باہر آنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے البتہ وہ گناہ بے لذت میں پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو پابندی سے بچانے کے لئے چیئرمین شپ سے دستبردار ہوئے ہیں۔ عمران خان نے مائنس ون کا فارمولہ بلاوجہ قبول نہیں کیا ہے۔ آج عمران خان اس پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ جہاں 2017 ء میں نواز شریف کھڑے تھے۔ پی ٹی آئی پر اتنا برا وقت شاید پہلے نہ آیا ہو جتنا آج اسے دیکھنا پڑ رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیاسی کیڈر میں ایک شخص بھی ان کا جانشین بننے کا اہل نہیں یا ان کا اپنی سیاسی ٹیم پر اعتبار نہیں اس لئے انہوں نے چیئرمین شپ کا طوق اپنی قانونی ٹیم کے ایک رکن بیرسٹر گوہر علی خان کو پہنا دیا ہے جو سیا سی لحاظ سے ایک غیر معروف شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کا پرو فائل بھی اتنا بڑا نہیں کہ وہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کا بوجھ اٹھا سکے بہرحال ان کا شمار بیرسٹر گوہر علی خان، شیر افضل مروت، نعیم پنجوتھہ اور لطیف کھوسہ پر مشتمل قانونی ٹیم پر مشتمل ہے جو دل و جاں سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمات میں دفاع کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی جیل میں عمران خان تک رسائی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ہدایت پر جس طرح عجلت میں انٹرا پارٹی الیکشن کرائے گئے لا محالہ ان کو متنازعہ ہونا ہی تھا۔ اکبر ایس بابر جو پارٹی کے بانی رکن ہیں۔ وہ پہلے ہی پی ٹی آئی کی قیادت کا تعاقب کر رہے ہیں۔ نے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس شخصیت کے سر پر پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کا سہرا سجایا گیا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کی رکن ہی نہیں بیرسٹر گوہر علی خان نے 2018 ء میں این اے 28 بونیر سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا ہے۔
وہ پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں اور وہ جئے بھٹو کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا ہے بیرسٹر گوہر خان پی ٹی آئی کے رکن ہی نہیں ان کو پارٹی کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال نے بھی انٹرا پارٹی الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا دیا ہے۔ گویا جس طریقے سے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے گئے ہیں۔ بالآخر اس کی شفافیت کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی جو پہلے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کے مسائل میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ بلاول بھٹو مسلم لیگ (ن) پر مسلسل گولہ باری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے جن کو لاہور میں گندے انڈے ٹماٹر پڑ رہے ہیں۔ ان کو پنجاب کی فکر لگی ہوئی ہے۔ نواز شریف ووٹ کی بے عزتی نہ کریں انتظامیہ کی بجائے اپنے بل پر الیکشن لڑیں اسی طرح پیپلز پارٹی نے 18 ویں آئینی ترمیم کی منسوخی کا الزام مسلم لیگ (ن) کے سر تھوپ دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری 18 ویں ترمیم کی منسوخی کو اسلام آباد کو اختیارات دینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) بار بار وضاحت کر رہی ہے کہ ہم 18 ویں آئینی ترمیم رول بیک نہیں بلکہ اس کی مکمل تکمیل کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اصل جھگڑا پنجاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی 141 نشستوں پر کسی جماعت کو خیرات کے طور پر ایک نشست بھی دینے کے لئے تیار نہیں مسلم لیگ (ن) کو 2018 کے انتخابات کے مقابلے میں امیدواروں کی زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اسے بعض نشستوں پر پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے مولانا فضل الرحمن نے لاہور میں نواز شریف سے اہم ملاقات کی ہے جس میں ملکی سیاسی و انتخابی صورت حال بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ تو جاری نہیں کیا گیا تاہم بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما ء اسلام کے درمیان چاروں صوبوں با الخصوص کے پی کے اور بلوچستان میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ابتدائی بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں جماعتیں جلد کمیٹیاں تشکیل دیں گی جو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ پارٹی قیادت کے سامنے منظوری کے لئے پیش کریں گی اگرچہ آئندہ صدر بارے میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی تاہم کہا جا رہا ہے کہ صدارت کے منصب کے لئے مولانا فضل الرحمنٰ مضبوط صدارتی امیدوار ہیں۔ ان کے نام صدارت کا قرعہ فال نکلنے کا قوی امکان ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے درمیان بھی ملاقات ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے 15 سال بعد چوہدری شجاعت حسین کی دہلیز پر قدم رکھا ہے۔ بظاہر نواز شریف چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے کے لئے چوہدری شجاعت حسین کے ہاں گئے ہیں چونکہمسلم لیگ (ن) اور (ق ) اتحادی جماعتیں ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادت میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ شنید ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف سے قومی اسمبلی 10 اور صوبائی اسمبلی 18 نشsتیں مانگ لی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) تلہ گنگ، گجرات اور بہاولپور کی قومی اسمبلی کی 4، 5 نشستیں مسلم لیگ (ق) کو دینے پر آمادہ ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی 7، 8 نشستوں پر مسلم لیگ (ق) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جائے گی۔ تاہم اگر مسلم لیگ (ق) اپنے انتخابی نشان کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے پر تیار ہو گئی تو چوہدری شجاعت حسین کے نامزد کردہ امیدواروں کو مزید نشستیں مل سکتی ہیں۔ تلہ گنگ سے چوہدری سالک حسین اور بہاولپور سے چوہدری طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ نون (ن) اور (ق) کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔
گجرات میں چوہدری شافع اور چوہدری وجاہت حسین کو بھی اکاموڈیٹ کیا جائے گا۔ چوہدری شجاعت حسین کا موقف ہے کہ جن نشستوں پر مسلم لیگ (ق) کے امیدوار 2018 ء میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف مسلم لیگ (ن) کوئی امیدوار نہ کھڑا کرے شنید ہے۔ ملاقات میں طے پایا ہے کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ دونوں جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی میں کیا جائے گا۔

