عمران تو ہو گا
کہا جاتا ہے جو آج عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ماضی میں اس کے سیاسی حریف کے ساتھ بھی ہو چکا ہے اب صرف وقت نے اپنی کروٹ بدلی ہے۔ جو پہلے مظلوم تھا وہ اب ظالم بن چکا ہے مگر ماضی میں کیا یہ سب بھی ہوا جو آج ہو رہا ہے؟ ایک سیٹ سے شروع ہونے والی سیاسی پارٹی 23 سالہ محنت کے بعد عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی مگر اپنا دورانیہ بھی نا پورا کر سکی اور اٹھا کر اقتدار سے بھی باہر نکال دی گئی مگر عوام میں مقبولیت/قبولیت کم نا ہو سکی۔ بات یہاں پر بھی نہ رکی تو اس پارٹی کے خلاف سازشیں تیار ہونے لگیں وجہ صرف ایک ہی تھی کہ اس پارٹی کی عوام میں مقبولیت/قبولیت کو کم کیا جائے۔ یہاں تک کہ اس پارٹی کے لیڈر کو بھی جان سے مارنے کی سازش کی گئی مگر وہ بھی ناکام ہوگی
بات یہاں پر بھی نہ رکی تو اس کے سیاسی حریفوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنت نئے سازشی منصوبے بنائے جانے لگے کبھی سیاسی مہروں کو پارٹی اور اس کے لیڈر کے خلاف لانچ کیا گیا تو کبھی خود ادارہ اٹھ کر سیاست کرنے آ گئے جو کہتے تھے کہ ہمارا سیاست سے لینا دینا نہیں۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ مکمل سیاسی ہوتے گئے اور کھل کر سامنے آ گئے ان سب کا مقصد صرف ایک تھا کہ اس پارٹی اور اس کے لیڈر کی مقبولیت اور عوام میں قبولیت کو کم کیا جائے۔ مگر مؤرخ کو تو کچھ اور ہی منظر نظر آر ہا تھا وقت نے اپنی کروٹ ایسی بدلی کہ اس پارٹی، اس کے لیڈر کی مقبولیت اور عوام میں قبولیت کو گراتے گراتے وہ سب خود اس کھائی میں جا گرے جہاں سے اپنی 76 سالہ مقبولیت کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ اب ان کے پاس اپنے کھونے کو تو کچھ بچا نہیں تھا۔ نا ہی اپنا مقصد پورا ہوتا نظر آ رہا تھا اور لانچ کیا گیا ایک کے بعد ایک ڈرامہ فلاپ ہو رہا تھا کیوں کہ عوام کسی سازشی ڈرامے کو ماننے سے انکاری تھی۔ اب ان سازشی ڈھکے چھپے، اور ظاہری مہروں کا صبر بھی جواب دے۔ چکا تھا تو مملکت خداداد میں 9 مئی واقع ہو گیا
اس 9 مئی کی تاریخ کو صدیوں یاد رکھا جائے گا کیوں کہ اس 9 مئی کو سیاسی اور غیر سیاسی مقاصد کے حصول کی ہوس میں اپنی ساکھ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے والوں نے دن دہاڑے جمہوریت کا قتل کیا، آئین کو روندا اور عوامی طاقت، مقبولیت، قبولیت کو گریبان سے گھسٹتے ہوئے روند دیا۔ یہ حالات دیکھتے ہوئے جمہوری ووٹر، سپورٹر نعرہ حق بلند کرتے اپنا جمہوری حق استعمال کرنے نکل پڑے۔ مگر ان سازشی کرداروں نے اس عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے ان جمہوری ووٹر، سپورٹر کے جوش و خروش کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور جمہوری عمل کو انتشار میں بدل ڈالا۔ اور پھر اس انتشار کا شکار املاک کو نمائش گاہ بنا کر بیچنا شروع کر دیا یہ منظر دیکھ کر ان کرداروں کو اپنا ہدف کچھ حد تک پورا ہوتا ہوا نظر آنے لگا اور اس انتشار کو بہانا بناتے ہوئے نا کوئی آئین، قانون باقی رہا۔ نہ کسی مرد، عورت، بوڑھے، جوان کا فرق باقی رہا جو جو نظر آیا ہو غائب/اٹھایا جاتا رہا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس 23 سالہ سیاسی جدوجہد سے بنی پارٹی کو 23 دن کے اندر اکھاڑ دیا گیا لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا۔ لوگوں کی عزتیں نیلام کر دی گئیں، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا معاشرے میں اتنا خوف و ہراس پھیلا گیا کہ لوگوں کو جان کے لالے پڑنے لگے۔ پارٹی کا صفایا کر دیا گیا کیوں کہ اس کے ووٹر، سپورٹر، لیڈران کو اٹھا کر زندان میں ڈال دیا گیا۔ یہ دیکھ کر ان سیاسی، غیر سیاسی کرداروں۔ کو بہت تسلی ہوئی کیوں کہ ان کا مقصد کافی حد تک حاصل ہو چکا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں عوامی طاقت نے پھر ان سب کو مات دے دی ہے کیوں کہ اتنا سب کے باوجود بھی اس پارٹی کے لیڈر کے مطالبے میں کوئی کمی آئی نا ہی اس کے حوصلے کم ہوئے آج سے زندان میں ڈالے 4 ماہ ہونے کو ہیں مگر ابھی بھی وہ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ وہ کہتا ہے میں باقی حریفوں کی طرح ملک سے نہیں بھاگوں گا نا ہی کوئی ڈیل کر کے نکلوں گا۔ اس کی اس بہادری کی وجہ سے جو لوگ اس کے خلاف سازشوں میں مہرے بنے وہ آج پھر اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں بظاہر اس کا نام لینے میں پابندی ہے مگر آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گیا ہے بظاہر تو وہ زندان میں ہے مگر درحقیقت وہ آزاد نظریہ بن چکا ہے آج اس کی عوام میں شعور آ چکا ہے آج اس کی عوام مقابلہ کرنا جانتی ہے سوال کرنا جانتی ہے۔ آج ملک کا کوئی کونہ نہیں جہاں اس کی مقبولیت، قبولیت والا نا ہو اور اس کے تمام سیاسی حریف مکمل غیر سیاسی سپورٹ کے ساتھ بھی سر پکڑ بیٹھے ہیں کہ اس کی عوام میں مقبولیت، قبولیت کو کیوں کر کم نہ کر سکے اور غیرسیاسی کردار جنہوں نے ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنا تھا اپنوں سے ہی الجھ کر اپنی ساکھ تباہ کر بیٹھے اور آج عوامی ردعمل۔ سے اتنا خوفزدہ ہیں کہ ان کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔


