سقوط ڈھاکہ کا سیاہ باب
وطن عزیز کی تاریخ میں 16 دسمبر 1971ء کا دن ذلت اور رسوائی کے ایک ایسے داغ کی حیثیت رکھتا ہے جس کو شاید کبھی بھی مٹایا نہ جا سکے۔ یہ وہ دن تھا جب ہمارے وطن عزیز کا ایک بازو ہماری کوتاہیوں اور دشمن کی ریشہ دوانیوں سے کاٹ کر ہم سے علیحدہ کر دیا گیا۔ آئیے ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے اس المیے کے اسباب و علل کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی 26 جولائی 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے خصوصی حکم پر تشکیل دی گئی۔ جس کا بنیادی کام آئین اور قانون کی تشکیل تھا۔ اس اسمبلی میں موجود اراکین کو 1946ء کے انتخابات کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔ اس اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 69 تھی۔ جس میں 44 اراکین مشرقی پاکستان سے 17 پنجاب سے 4 سندھ سے 3 صوبہ سرحد سے اور ایک رکن پارلیمنٹ صوبہ بلوچستان سے موجود تھا۔ اس کا افتتاحی اجلاس 10 اگست 1947ء کو ہوا اور اس اجلاس کی صدارت اسمبلی کے غیر مسلم رکن اور نامزد وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے کی۔
14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ تو قائد اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ نئے آئین کی تیاری تک اس ملک کو انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی اس نوزائیدہ مملکت کو بہت سے مسائل میں گھرا ہوا چھوڑ کر قائد اعظم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین کو ان کی جگہ گورنر جنرل بنایا گیا۔ جو کہ اس وقت وطن عزیز میں طاقت اور اختیارات کے لحاظ سے طاقت ور ترین عہدہ تھا۔
اگر ہم لیاقت علی خان کے چار سالہ دور حکومت کا جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ سیاسی قیادت نئے ملک میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے غیر مطمئن بلکہ خوفزدہ تھی اور عام انتخابات کا سامنا کرنے سے گریزاں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آئین سازی کا عمل انتہائی سست رہا۔ 1950ء میں آئین کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے ملک کے آئین کا خاکہ پیش کیا۔ جیسے مشرقی پاکستان نے یک سر مسترد کر دیا۔ یہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اختیارات کے حصول کے لیے پیدا ہونے والے اختلافات کی پہلی دراڑ تھی۔ جس نے آخر کار اس ملک کو دولخت کر دیا۔ آئین کے مجوزہ خاکہ میں پارلیمنٹ کے دو ایوانوں کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ایک ایوان کا منتخب اور دوسرے ملک کے یونٹوں کی اسمبلیوں کا منتخب شدہ ایوان۔ خاکہ میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں ایوانوں کو مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔ اور اس ایوان میں ملک کے تمام یونٹوں کی نمائندگی مساوی ہوگی اور کسی مسئلہ پر اختلاف کی صورت میں وفاقی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اپنے مشترکہ اجلاس میں اس کا فیصلہ کریں گے۔
مشرقی پاکستان نے ایک خاص کنوینشن میں اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مشرقی اور مغربی پاکستان کے دو خود مختار یونٹوں پر مشتمل کنفیڈریشن طرز کی حکومت کے قیام کا مطالبہ پیش کیا۔ اور ملکی آبادی کی بنیاد پر تشکیل پانے والی مرکزی پارلیمنٹ کو صرف خارجہ امور کرنسی اور دفاع کے اختیارات حاصل ہوں۔ اس مطالبے سے پتہ چلتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو باقی چاروں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ آبادی رکھنے کے باوجود اپنے حقوق کے تحفظ کے بارے میں آغاز سے ہی تحفظات موجود تھے۔
1951ء میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد آئین سازی کا سست رفتار عمل تقریباً رک ہی گیا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ جس طرح لیاقت علی خان کے قاتل آج تک خفیہ راز میں ہیں۔ بالکل اسی طرح آج تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون سی نادیدہ قوت تھی جس نے ملک کے طاقت ور ترین عہدہ گورنر جنرل پر فائز خواجہ ناظم الدین کو اس عہدے سے سبکدوش کیا اور اس کی جگہ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا۔ ملک غلام محمد چونکہ وہ بیوروکریٹ تھے۔ اس لیے ایک غالب طبقے کا خیال ہے کہ تمام اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے لئے یہ پلان اسی طبقے کی طرف سے وارد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد کا یہ دور جو 1951 ء سے 1955 ء پر مشتمل تھا۔ اور اس دور میں زیادہ تر عرصہ مملکت فداداد پاکستان کے عہدے کے لحاظ سے یہ طاقت ور ترین شخص ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج حالت میں رہا نہ یہ درست طریقے سے بول سکتا تھا اور نہ ہی سن اور سمجھ سکتا تھا۔ لیکن مطلق العنان حاکم یہی تھا۔ 1951 ء میں گورنر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے والے مسلم لیگی راہنما خواجہ ناظم الدین کو 1953 ء میں اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے وزارت عظمٰی کے عہدے سے معزول کر دیا۔ جبکہ انہوں نے حال ہی میں اسمبلی سے نہ صرف بجٹ منظور کر دیا تھا بلکہ اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کیا تھا۔ اور ان کی جگہ امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو بلوا کر وزارت عظمٰی کو قلمدان بھی ایک غیر سیاسی اور بیوروکریسی کے نمائندہ فرد کو سونپ دیا گیا۔
گویا کہ اس وقت گورنر جنرل پاکستان اور وزیراعظم پاکستان دونوں ہی بڑے عہدے سیاستدانوں کی بجائے بیوروکریسی کے نمائندگان کے پاس تھے۔ محمد علی بوگرہ نے اس وقت کے کمانڈ ران چیف محمد ایوب خان کو وزیر دفاع مقرر کر دیا۔ وہ بیک وقت کمانڈر انچیف اور وزیر دفاع کے دونوں عہدوں پر ہی فائز تھے۔ اور کابینہ کی میٹنگنز میں یونیفارم پہن کر بیٹھتے تھے۔ اقتدار کے ایوانوں میں فوج کی اس شرکت کے اثرات دن بدن بڑھتے ہی چلے گئے۔ جو ہر دور میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
خواجہ ناظم الدین کی برطرفی سے قبل 1952ء میں آئین کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے اپنی دوسری رپورٹ پیش کی۔ جس میں پہلی بار ملک کے دونوں حصوں کے درمیان مساوی نمائندگی کی تجویز پیش کی گئی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان سے ساٹھ ساٹھ اراکین پارلیمنٹ تجویز کیے گئے۔ لیکن پنجاب نے یہ رپورٹ مسترد کر دی۔ پنجاب کے مسلم لیگی رہنماؤں نے 5 اکتوبر 1954ء کو ملک فیروز خان کی قیادت میں دستور ساز اسمبلی میں تین نکاتی آئینی مطالبہ پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مرکز کا اختیار صرف دفاع، خارجہ، کرنسی اور مواصلات تک محدود رہنا چاہیے۔ پنجاب گروپ نے یہ الٹی میٹم بھی دیا کہ اگر ان کے یہ مطالبات 27 اکتوبر تک تسلیم نہ کیے گئے تو وہ دستور ساز اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گے۔ انیس دن بعد 24 اکتوبر 1954 ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی کو توڑ کر ملک کو آئینی بحران اور قانونی معرکہ آرائیوں کے لق و دق صحرا میں پھینک دیا۔ اس کے بعد وفاقی عدالت کے حکم پر جو اسمبلی دوبارہ بنائی گئی وہ تحریک پاکستان کے ممتاز رہنماؤں خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر، قیوم خان اور مولانا اکرم خان سے محروم تھی۔
اسی اثنا میں ملک غلام محمد رخصت پر چلے گئے اور گورنر جنرل کا طاقت ور عہدہ میجر جنرل ریٹائرڈ اسکندر مرزا کے حصے میں آ گیا۔ گویا کہ اختیار کا توازن اب سول بیوروکریسی سے ملٹری بیوروکریسی کی جانب جھول کھانے لگا۔ گورنر جنرل کے عہدے کی آڑ میں وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرہ پر ایک بار پھر وار کیا گیا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے معزول کر کے واپس امریکہ میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا۔ اب گورنر جنرل سکندر مرزا نے بیوروکریٹ چوہدری محمد علی کو وزیراعظم پاکستان بنا دیا۔
نو سال بعد 1956 ء میں پہلا آئین تیار ہوا اور اس آئین کی منظوری کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ صدر مملکت کے عہدے نے لے لی۔ 1956 ء کے آئین کے تحت سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر تھے۔ اور حسین شہید سہروردی پہلے وزیر اعظم تھے ان دونوں کا تعلق بنگال سے تھا۔ لیکن حسین شہید سہروردی کو بھی انہی محلاتی سازشوں کی بدولت جلد ہی چلتا کر دیا اور ان کی جگہ آئی آئی چندریگر کو قائم مقام وزیراعظم بنا دیا گیا۔
1956 ء کے آئین کے تحت پہلے عام انتخابات فروری 1959 ء کو منعقد ہونا تھے۔ 1958 ء کے آخری نصف میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ مسلم لیگ کے نئے صدر خان عبدالقیوم خان بہت فعال اور ہر دل عزیز لیڈر تھے۔ انہوں نے جہلم سے گجرات تک ایک بہت بڑا جلوس نکال کر اپنی عوامی حمایت پر ایک مہر ثبت کر دی تھی۔ دوسری طرف حسین شہید سہروردی بھی مقبولیت میں کافی آگے تھے اور نظر آ رہا تھا کہ شاید اس ملک کے آئندہ وزیر اعظم وہی ہوں گے۔
سکندر مرزا جو کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کا حامی تھا اور اس کا سرعام اظہار بھی کرتا تھا۔ اس کو اب صاف نظر آ رہا تھا کہ اس کے صدر پاکستان رہنے کے امکانات بہت محدود بلکہ معدوم ہونے جا رہے ہیں۔ اس نے 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ اور ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ جس نے 27 اکتوبر کو سکندر مرزا کو رخصت کر کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی۔ ایوب خان نے دس سال کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے ذریعے حکومت کی۔
جب 1968ء میں سیاسی مخالفت اور عوامی جلوسوں کے سبب اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہوئے تو اپنے ہی بنائے گئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار سپیکر کے حوالے کرنے کی بجائے آرمی چیف یحییٰ خان کے حوالے کر کے رخصت ہو گئے۔ جو ایک نئے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ ان کی زیر قیادت عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ دسمبر 1970 ء میں ہونے والے یہ واحد انتخابات میں جن کی کریڈ یبیلٹی پر کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا۔ ان انتخابات میں دو بڑی عوامی پارٹیاں ابھر کر سامنے آئیں۔
ایک مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ تھی جس کے سربراہ مجیب الرحمن تھے۔ جنہوں نے مشرقی پاکستان کی کل 162 سیٹوں میں سے 160 نشستیں حاصل کی تھیں۔ دوسرا مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔ جس نے مغربی پاکستان کے مختلف صوبوں کی کل 138 سیٹوں میں سے 81 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ دونوں پارٹیوں کی دوسرے یونٹ میں نمائندگی صفر تھی۔ گو کہ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کل 200 نشستوں میں سے 160 نشستیں حاصل کر کے اپنے آپ کو اقتدار کے حصول کے اہل ثابت کر چکی تھی۔
لیکن وہی پرانی محلاتی سازشیں اور سیاسی اختلافات آڑے آتے رہے۔ 25 مارچ 1971ء کو عوامی لیگ پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے ممبران کے خلاف کارروائیاں شروع کر کے اور اس کے بعد لیڈر شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر کے اعلان کیا گیا۔ کہ پاکستان کو بچا لیا گیا۔ جس کو حالات کے دھارے نے غلط ثابت کیا۔ بنگالیوں کی مزاحمت اور ہندوستانی فوج کی مداخلت کے سبب وطن عزیز پاکستان 16 دسمبر 1971ء کو دولخت ہو گیا۔ وہاں پر موجود 93 ہزار فوجی اور غیر فوجی پاکستانی ہندوستان کی قید میں چلے گئے۔
ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں پاکستان آرمی کا سرنڈر کرنا ایک ایسا قومی المیہ ہے۔ جو ناقابل فراموش ہے۔ اس کے اسباب و علل کا جائزہ لینے کے حمود الرحمن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ جس کی رپورٹ سرکاری طور پر پیش نہیں کی جا سکی۔ لیکن اس سے محرکات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سیاسی مفاد پرستی، سول بیوروکریسی کی بے جا مداخلت اور فوجی سربراہوں کی طالع آزمائیاں اس کے المیے کے نمایاں اسباب ہیں۔


