بھاگڑی برادری کے لوگ ووٹ سے محروم رہتے ہیں


سندھ کا آخری ضلع کشمور ایٹ کندھ کوٹ ہے جس کی آبادی 1233957 ہے ٹوٹل ووٹ 584494 ہے اقلیتی آبادی 81890 ہے ضلع میں تین تحصیل شامل ہیں تینوں تحصیلوں میں اقلیتی برادری کا ووٹ بیک موجود ہے شہری علاقے اور دیہی علاقوں میں رہنے والے اقلیتی برادری کا ووٹ کثیر تعداد میں اندراج ہے اقلیتوں میں پاکستان کے اندر کئی برادریاں شامل ہیں جس میں ایک بھاگڑی برادری ہے جس کا کام کھیتی باری کرنا ہے جو فروٹ اور سبزیاں کاشت کرتے ہیں اس کاشت کی وجہ سے وہ اپنے علاقوں سے دور جا کر دوسرے علاقوں میں آبادی کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر وہ ووٹ دینے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ فصل کرنے کے لئے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر کے دوسرے علاقے کو میں کھیتی باری کا کام کرتے رہتے ہیں

بھاگڑی برادری کے رہنما اور قانون دان فقیر گوکل داس نے بتایا کہ ہماری برادری سندھ بھر میں آباد ہے کندھ کوٹ ضلع مین تیس ہزار کی آبادی ہے جس کے مطابق دس ہزار تک ووٹ ہونگے جس میں اکثریت ووٹ نہیں دیتے ہین ہمارے لوگ جو ہیں کھیتی باری کا کام کرتے ہیں جو نسل در نسل کرتے آ رہے ہیں سبزیاں اور فروٹ کی کاشت جو اکتوبر اور نومبر ماہ سے فصل اگانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو چھہ ماہ تک جاری رہتا ہے اس دوران وہ لوگ اس زمین پر ہی رہائش اختیار کرتے ہیں چھہ ماہ کے دوران کبھی بھی ملک میں عام انتخابات ہو یا بلدیاتی انتخابات ہو مگر وہ لوگ ووٹ دینے کے لیے اپنے علاقوں میں واپس نہیں آتے کیونکہ ان کو ووٹ کے حوالے سے کوئی آگاہی پروگرام نہیں دیا جاتا اور وہ پڑھے لکھے لوگ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ووٹ کی اہمیت کا ہی پتہ نہیں ہوتا کندھ کوٹ کے حلقہ سے نقل مکانی کر کے وہ جہاں دوسرے علاقے میں جاتے ہیں جس حلقہ میں ووٹ درج ہوتا ہے یہاں کے امیدوار بھی کوئی اہمیت نہیں دیتے کیونکہ اس امیدوار کو پتہ ہے کہ ہم ان کے کوئی کام نہیں کرتے ہیں اور ان کو اگر وہاں سے بلایا گیا تو ان کے کام کرنے پڑتے ہیں اس لیے اس کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن آفیسر ستار سردار نے بتایا کہ ہم آگاہی پروگرام کرتے ہیں جو لوگ جہاں پر رہائش کرتے ہیں وہ اپنا ووٹ درج کروائیں تاکہ الیکشن میں وہ اپنے علاقے کی پولنگ اسٹیشن پر ووٹ دے سکے باقی ہم کسی خاص جیسے کہ اقلیتی برادری کے لوگوں کے لئے آگاہی پروگرام نہیں کرتے ہیں ووٹ لسٹیں بھی ایک ساتھ ہیں سب پاکستانی ایم پی ایم، این اے کو منتخب کرنے کے لئے ووٹ کا حق استعمال کر سکتے ہیں ان ہی برادری کے جو بھی پڑھے لکھے سیاسی شعور رکھنے والے افراد کو اپنا کردار ادا کرنا چائے تاکہ یہ طبقہ کیسی بھی وجہ سے ووٹ سے محروم ہے وہ ووٹ کا قومی حق ادا کرسکے گے

کھیتی باری کرنے والی محنت کش کرشن بھاگڑی سے بات چیت کی تو اس نے بتایا کہ ہمیں الیکشن میں ووٹ دینے کا کیا فائدہ ہو گا جو ہم دیں ہماری روزی روٹی کھیتی باری پر ہے ہم اپنے بچوں اور خاندان کے لوگوں کا گزارا فصل کر کے کرتے ہیں 50 سال کا ہوا ہوں ایک بار بھی ووٹ نہیں دیا ہے ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے ووٹ کس مقام پر ہیں کیونکہ کھیتی باری کی وجہ سے ہم کبھی کندھ کوٹ سے ٹھل تو کبھی ٹھل سے جیکب آباد چلے جاتے ہیں جب کھیتی باری کے سیزن نہیں ہوتی تو ہم کراچی بھی جا کر رہتے ہیں جہاں پر مزدوری کرتے ہیں کراچی میں ہمارا ووٹ تو نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے شناختی کارڈ کندھ کوٹ کے ہوتے ہیں تو ہم پولنگ کے دن گھر میں ہی گزارتے ہیں اب ہمارے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہم اپنا ووٹ دیں

قومی اسمبلی کی نشست پر 2018 میں جے ڈی ای کی ٹکٹ الیکشن لڑنے والے قانون دان عبدالغنی بجارانی نے اسی حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کھیتی باری کرنے والے اقلیتی بھاگڑی برادری کی افراد کو ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے اگاہی دینے کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اس برادری میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم ہیں کھیتی باری کی وجہ سے نقل مکانی کرتے رہتے ہیں میں نے اپنی طرف سے الیکشن مہم اور اس کے بعد کوشش کی ہے لیکن یہ کام اگر الیکشن کمیشن والے کریں تو کافی بہتری آ سکتی ہے میری کوشش ہے کہ کچھ لوگ جو کبھی بھی ووٹ نہیں دیتے تھے وہ قائل ہوئے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان برادری کے لوگوں کے مسائل کوئی حل نہیں کرتا جو منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچتے ہیں انہوں نے کبھی بھی ان کا حال نہیں پوچھا اگر ان کے حال چال پوچھیں ان سے رابطے میں رہیں تو یہ ووٹ دینے کے لیے بھی قائل ہو سکتے ہیں

الیکشن 2018 میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے امیدوار برائے سندھ اسمبلی دل مراد نے اقلیتی برادری کی کھیتی باری کرنے والے لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے ووٹ سے محروم ہونے پر بتایا کہ بالکل یہ اہم بات ہے لیکن الیکشن کے دوران کام زیادہ ہونے سے اس طبقے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے اصل میں یہ لوگ نقل مکانی زیادہ کرتے ہیں کندھ کوٹ کراچی سکھر لاڑکانہ شکارپور سمیت دیگر شہروں میں رہائش کرتے ہیں اور کارڈ اس کا جہاں کا ہوتا ہے وہ وہاں سے نقل مکانی کر لیتے ہیں اس لیے دشواری ہوتی ہے کہ یہ سب پہلے ان لوگوں کی مکمل تفصیلات ہمارے پاس ہونی چاہیے اور اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان آگاہی پروگرام منعقد کرائے ان کے پاس جاکر لوگوں کو ووٹ کی اہمیت اور قومی فرض کے لئے قائل کرنا ہو گا تاکہ یہ لوگ ووٹ دینے سے محروم نہ ہو سکیں ہم بھی اپنے طرف سے کوشش کریں گے کہ ہمارے حلقہ کے لوگ جو نقل مکانی کر کے گئے ہیں وہ ووٹ ہمارے حلقے میں ہے تو مکمل تفصیل لے کر ان کو وہاں کے لیے ورک کریں گے اور کوشش کریں گے تاکہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکے

پاکستان پیپلز پارٹی میناٹی سندھ کے رہنما ڈاکٹر مہر چند نے بتایا کہ اقلیتی برادریوں میں بھاگڑی برادری بہت کم پڑھی لکھی ہے وہ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے ہیں کہیں رہتے ہیں تو کہیں ان کا شناختی کارڈ ہوتا ہے اسی وجہ سے ان کے ووٹ حق بھی ان کو نہیں ملتا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ووٹ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے کیونکہ ان کے پاس کوئی بھی اقلیتی نمائندہ یا منتخب نمائندہ نہیں پہنچتے ہیں مخصوص سیٹوں پر اقلیتی نمائندہ بن کر اسمبلیوں میں جانے والے اقلیتی برادری کے نمائندے نہیں بلکہ پارٹی کی نمائندے ہوتے ہیں وہ صرف پارٹی کے لئے کام کرتے ہین کیونکہ وہ کبھی بھی اقلیتی برادریوں کے پاس جا کر ان کے مسائل حل نہیں کرتے ہیں حلقہ سے منتخب ہونے والی نمائندے کہتے ہیں کہ اپنے جو بھی مندر۔

درگاہ کی تعمیر کے لئے اسکیم ہو دیوالی۔ ہولی یا اور کیسی تہوار پر ان غریبوں کے لئے کوئی فنڈ ہو یا مسائل ہیں وہ اپ اقلیتی نمائندوں کے پاس جائیں اسی وجہ سے وہ ووٹ دینے اور الیکشن میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے غریب اور کھیتی باری کرنے والا طبقہ ووٹ دینے سے محروم رہ جاتا ہے کندھ کوٹ ضلع میں بھاگڑی برادری کے چار سے پانچ بڑے گاؤں ہیں جہاں پر ان کی ہزاروں میں آبادی وہاں پر رہتی ہے اگر ان کے پاس جاکر الیکشن کمیشن ان کو قائل کریں تاکہ ان کو ووٹ کی اہمیت کے لئے بتایا جائے تو وہ لوگ ووٹ دینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں

پاکستان کے اندر کچھ سال قبل جداگانہ الیکشن ہونے کی وجہ سے اقلیت نمائندے امیدوار ہوتے تھے وہ اپنے ووٹروں کو ڈھونڈ نکال دیتے پرویز مشرف کے دؤر میں یہ نظام ختم کر کے اب جو مخصوص اقلیتی نمائندے ہیں اب اقلیتی برادری کے مسائل سے بھی دور ہے کیونکہ وہ ان کے نام پر نمائندگی کرتے ہیں لیکن وہ ان سے ووٹ نہیں لیتے ہیں اسی وجہ سے نقل مکانی کرنے والا نچلا اقلیتی طبقہ کے لوگ جو ووٹ دینے سے محروم ہیں اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان سیاسی پارٹیاں امیدواروں کو چاہیے کہ آگاہی مہم چلا کر ووٹ سے محروم طبقے کو ووٹ کا حق ادا کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ اقلیتوں کی نمائندگی بنائی جا سکے

Facebook Comments HS