بادشاہ، راہب اور قیدی

تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے بہت سے بادشاہ اور سلطنتوں کے شہنشاہ ہو گزرے جو خلق خدا کے انتقام کا نشانہ بنے تو حکم جھاڑنے کی عادت کی تسکین کے لئے رہبانیت کا بناوٹی جبہ پہنا، انجیل کی چند مشہور آیتوں کو ازبر کیا اور دکھاوے کی فاقہ کشی کا ڈرامہ رچا کر سماج میں اجارہ داری سے راج کیا۔ ایسے راہبوں میں اکثریت ان بادشاہوں کی تھی جنہوں نے اپنی طاقت کے نشے میں عزیز و اقارب سمیت امرا اور اشرافیہ کو عوام پر مسلط کیا اور خلقت خدا کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھنے کی روش کو اختیار کیا۔ لیکن نگاہ جمہور میں جب قابل نفرت ٹھہرے تو پھر راہ فرار ہی میں عافیت سمجھی لیکن انجام کار نشان عبرت کا بنے۔
حکمرانوں کی دوسری قسم کی اکثریت کا تعلق مقبروں میں دفن شہیدوں اور زندان میں مقید ان قیدیوں سے ہے جنہوں نے محنت کشوں اور محروموں کی عزت نفس کے احترام اور انسانی آزادی کی روش کو اپنایا لیکن امراء کے نزدیک حکمراں کا یہ اقدام ناقابل قبول ٹھہرا، آخر کار درباری امرا ء ہی کے ذریعے سازشوں، گٹھ جوڑوں اور خفیہ اتحاد کے ہاتھوں یا تو قتل ہوئے یا زندان میں ڈال دیے گئے۔
ایسے ہی قدیم زمانے میں ایک شہر پر اچانک غیرملک بادشاہ کے حملے سے حالات پلٹے تو مظلومان شہر کے ہجوم مشتعل سے جان بچا کر بادشاہ وطن سے فرار ہو کر نکلا تو ہندوستان میں دریا کنارے پہنچ کر جھونپڑا بنایا اور بھیس راہب کا بدل وہیں پہ ڈیرہ لگایا۔ کچھ دن انجیل کی آیتوں کو یاد کرنے میں لگے۔ کام چلانے کے لئے تھوڑی بہت جو یاد ہوئیں وہ کافی تھیں۔ گلے میں صلیب لٹکا کر وعظ و نصیحت کی بھاشا بولنے لگا تو بھانت بھانت کے گنہگار آگے سر جھکا کر بیٹھنے لگے۔ حالت غضب میں رعب جمانے کی عادت تو پہلے سے موروثی اور شاہی تھی۔ چنانچہ راہب بن کر رعب جمانے میں دقت پیش نہ ہوئی۔ جلد ہی شہر کے بڑے بدکاروں پر اس کے رعب کی دھاک جم گئی۔ نظر نیاز، لنگر پانی، خدمت گار، دھرم، بھرم ہر وہ چیز جو بادشاہی میں میسر تھی یہاں بھی جنبش ابرو پہ حاضر ہو جاتی۔
فرق صرف یہ کہ جب باdشاہ تھا تو طاقت اور جلالت اپنی باندی تھی۔ انسان تو کیا جنگل کے جانور میں بھی دم مارنے کی مجال نہ تھی۔ لیکن لگام رہبانیت کے رعب اور دبدبے کی ہاتھ میں اپنے نہ تھی بلکہ لوگوں کے رحم و کرم پر تھی۔ نہ جانے کب کون سر پھرا بدکار اس کے احترام کی مٹی پلید کردے اور گریبان کو چاک کر کے بھرم کا ناس کر دے۔ رہ رہ کے یہ ہی ایک ڈر تھا۔ ایسے ہی پاگل قسم کے آسیب زدہ ایک بدکار سے پالا پڑا تو دم پھونک پھونک کر ہلکان ہو گیا کنپٹیوں سے پسینہ بہہ نکلا لیکن اثر ایک بھی نہ ہوا تو راہب نے کام کچھ غضب سے لیا ہی تھا کہ کمینے نے اینٹ کا روڑا اٹھا کے سیدھا راہب کے سر پہ دے مارا، بس وہ دن اور آج کا دن تب سے بدکاروں کو جھاڑ پلاتے ہوئے نری احتیاط سے کام لیتا۔
یہ خیال بھی جان کو کھاتا کہ جان بچا کر شہر سے بھاگا اور اب جب راہب بن چکا تو خطرہ تب بھی نہ ٹلا۔ دل میں کسی سر پھرے کا سامنا ہونے کا ڈر بیٹھ چکا تھا۔ دکھ ایک یہ بھی تھا کہ نہ تو شہر کے امراء نے لاج کچھ اس کی رکھی اور دیار غیر میں بھی قدر اس کی ویسی نہ ہوئی جیسی کہ اس نے سوچی تھی۔ ایسے حد درجہ تلخ واقعات کے بعد سے وقت جب ملتا پڑا پڑا با آواز بلند اکیلا خود سے ہم کلام ہوتا کہ جب ذلیل ہی ہونا ہے۔ تو پھر کیوں نہ جی بھر کے ذلیل ہوا جائے۔ کون سی ذلالت سے جی بہلایا جائے۔ اور کون سی ذلالت کو زیادہ عزیز سمجھا جائے۔ اس دو کوڑی کے حقیر جبے کی یا پھر بادشاہت کی؟ بولتے بولتے تھک جاتا تو رات بھر جھونپڑی میں زمین پر نوک دار پتھر کی نوک سے بادشاہت اور رہبانیت کے درمیان فرق کی لکیریں کھینچتا اور پھر زبان پہ۔ یہ ہی فرق ہے۔ ہاں فرق تو ایک یہ ہی ہے۔ فرق بس یہ ہی ہے۔ فرق ہمیشہ سے یہ ہی ہے۔ کہتے کہتے نیند میں ایک طرف کو ڈھلک جاتا۔
کہاں رہبانیت کی بساط اور کہاں بادشاہی کی شان۔ لباس رہبانیت میں بھی ہوک دل میں جاہ جلالت کی اٹھتی تو قابو خود پہ نہ رہتا اور جھونپڑی کی رسیاں چیخ سے اس کی لرز اٹھتی۔ سال ایک اور مہینے چند اسی طرح گزرے تو بازی ایک آخری تخت شا ہی کی کھیلنے کا جنون سر پہ سوار ہوا۔ ایک رات چوری چھپے جھونپڑی سے نکلا اور راستے کے کتوں اور ر خونخوار چمگادڑوں کے حملے سے بچتا بچاتا چھپتا چھپاتا خاک صحرا اور جنگلوں کی چھانتا ہوا چند کوس وطن سے پہلے اجڑی ہوئی ایک بستی کی پرانی حویلی کے قریب پہنچا تو چوکھٹ پہ قدم رکھتے ہی یاد آیا کہ۔ سروں پر پگڑیاں اور زربفت سنہری کی کرتیاں پہنے چوب داروں میں سے استقبال کو کوئی ایک بھی نہیں۔ رکے قدموں سے چوکھٹ پہ لٹکی مقیش کی موتیوں سے لدی جھولتی ہوئی ڈوریوں کو ہاتھ سے ہٹانے کو ہاتھ مارا تو بنا لگے کسی شے کو ہاتھ ہوا میں جھول گیا۔ اوہ۔ خالی ہے کیا۔ تف ہے۔ گستاخی ہے۔ بیابان یہ وہی ہے جو چمنستان تھا۔
آہ۔ وہ وقت کہ سواری جب ظل الہی کی نکلتی تو شہر کے کوٹھوں اور منڈیروں پہ خلقت خدا شان سواری کا جلوس دیکھنے کو امڈ آتی۔ شاہی خیالات کی عالی شان یادوں کو جھٹک کر سر سے ٹہلتے ٹہلتے بدن کی گدڑی ساتھ اپنے پیروں میں زمین پر گھسیٹتا ہوا اجاڑ کمرے میں مٹی اور چونے کی چوڑی دیوار پر چسپاں نظر دیس کے نقشے پر پڑی تو اچانک ٹھٹھک کر رہ گیا۔ نظر ایک حیرت اور حسرت کی ڈالتے ہوئے قریب جا کر ہاتھ سے اس پر جمی ہوئی مٹی کی گرد جھاڑی تو نقشہ دیس کا یوں چمک اٹھا کہ جیسے میلے برتن پہ کسی نے چاندی کی کلی پھیر دی ہو۔ یہ دیکھ مسکرایا اور قسمت کو خود پہ قربان سمجھ کر مکھ پہ کھیس ڈال سکون کی نیند لیٹا تو جلد ہی آنکھ لگ گئی۔
لیکن خواب کیا دیکھتا ہے کہ ابھی دیوار پہ آویزاں شہر اپنے کے جس نقشے کی گرد جھاڑ اتاری تھی کہ آنکھ ذرا سی لگتے ہی وہ ٹکڑا کاغذ کا زندہ سلامت صورت انسان کی دیوار سے نکلا اور سامنے اس کے کلام کر کے کہنے لگا۔
اے گرگ ظالم میری بچی کھچی ہڈیوں کو اپنے سفاک دانتوں سے توڑ کر نگلنے کی حسرت نے ایک بار پھر تجھے ماتھے سے میرے جمی گرد جھاڑنے پر مجبور کیا۔ تیری کمان کے نکلے تیر سے میری آنکھوں سے لوتھڑے لہو کے بہہ نکلے ہیں اور تو چاہتا ہے کہ میں پھر سے تیری باندی بن جاؤں؟
تیری آنکھوں کی پتلیوں میں میرے جگر کے لہو کے پیالے کی ہوس اب بھی کالے پانی میں غلیظ مگر مچھ کی طرح تیرتی ہے۔
لیکن پس زندان مقید قیدی کی نظم کے لفظوں کی بجلی سے تاریک آسمان پھٹ چکا ہے اور افق کے اس پار پہلی شعاعیں سفیدی کی سر اپنا اٹھا چکی ہیں اور میری نسوں کا منجمد لہو بھی اب کھولنے لگا ہے اور تو اپنے منحوس قدم اٹھاتا ہوا جنگل سے شہر کو آ نکلا ہے۔
سادہ لوح بھلے مانس دیہاتی بھی اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جاہ و جلالت کے غضب اور عیش و عشرت کی خواہش جب تجھ پر غالب ہوتی ہے تو چہرے سے تیرے پردہ عاجزی کا چاک ہو جاتا ہے اور آواز تیری بدل جاتی ہے تب تو اپنی خود غرضی کی حرص کے ہاتھوں مجبور ہو کر رات کی تاریکیوں میں بھوکے بھیڑیے کی طرح چیخ اٹھتا ہے۔ تو اور تیرے جیسے تارک الدنیا اپنے ناپاک جھونپڑوں میں کان سے کان لگا کر اپنی جاہ و جلالت کے وہ نقشے دیکھا کرتے ہیں کہ جو زمانہ قارون میں بھی انتہا درجے کے بدکاروں اور عیش و عشرت کے پجاریوں کے دماغوں میں بھی نہیں آتے ہوں گے۔
قدیم بابل کے دیوقامت بت اور آسمان تک پہنچے ہوئے مصر کے احرام بھی اب تو خوفزدہ ہو کر کہنے لگے ہیں کہ سماج کے مظلوموں اور محروموں کو اپنے حقوق کے شعور کی روشنی مل جائے تو پھر تجھ جیسے کے لئے جائے امان کی گنجائش رتی بھر نہیں رہتی اور زمین شک ہو کر اس کو نگل جاتی ہے۔ دھرتی ماں کے لبوں سے یہ الفاظ نکلتے ہی، زمین سچ مچ میں شک ہو گئی۔ خوف سے راہب کی آنکھ کھلی لیکن تب تک زمین اس کو نگل چکی تھی اور منہ سے اس کے بھیانک خوف کی چیخ نکلی اور ایک لخت گم ہو گئی۔
بڑے بزرگ حال سناتے ہیں کہ بٹوارے کے بعد چاند سی دلہن کے ہاتھوں کی مہندی اور مانگ میں سندور کا رنگ ابھی تازہ ہی تھا کہ سربازار اس کے سر سے دستور کی چادر کھینچ لی گئی تھی۔

