جاتے ہوئے وائس چانسلر کو گدھے کا تحفہ


پچھلی صبح ابھی موبائل پر انٹرنیٹ کھولا ہی تھا کہ ایک عزیز دوست کی طرف سے ایک وڈیو موصول ہوئی جس کا عنوان کچھ ایسا ہی تھا جیسے اس مضمون کا موضوع۔ میں نے وڈیو کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وطن عزیز کی ایک بڑی سرکاری جامعہ کے بہت سارے ملازمین ایک گدھے کو ریٹائر ہونے والے وائس چانسلر کے دفتر کی طرف ایک جلوس کی شکل میں لے جا رہے ہیں اور بتانے والا بتا رہا ہے کہ جانے والے کو دم کٹے گدھے کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ جناب نے لوگوں کی زندگی کیسی اجیرن بنا رکھی ہو گی کے آج ان کے جانے پر یہ ہزیمت ان کی منتظر ہے۔ وہاں ایک دوست پڑھاتے ہیں، ان سے رابطہ کیا اور وڈیو کی تصدیق چاہی، دکھ بھرے لہجے میں بقول پروین شاکر کہنے لگے ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“ ۔ وہ واقعات جو دوسروں کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ ہمارے لیے سامان عبرت لیے ہوتے ہیں اگر ہم سیکھنا چاہیں تو۔

وڈیو دیکھ کر ایک اور سرکاری جامعہ کا برسوں پرانا واقع یاد آ گیا جس میں ایک ادارے کی سربراہ شخصیت کو عہدہ سے اس لیے علیحدہ کرنا پڑا کیونکہ ادارہ کے تمام اساتذہ نے احتجاجاً کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ کئی روز سے سراپا احتجاج تھے۔ اس وقت مجھے بتایا گیا کہ یہ سب ان کے لوگوں کے ساتھ بد ترین سلوک کا نتیجہ تھا اور ایسا اس ادارے کی تاریخ میں پہلی اور آخری بار ہوا تھا۔ برسوں بعد مجھے کسی جگہ اس شخص کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو میں نے چند دنوں میں ہی جان لیا کہ جو عمر کے اس حصے میں اتنا مہلک ہے اس کا زہر بھری جوانی میں کیا ہو گا۔

یہ گدھا پیش کرنے والے واقعے کی وجہ کیا ہوگی اور کیا ایسے واقعات اور بھی ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک مضمون ”ہماری یونیورسٹیاں اور فرنگی دور کی دیسی ریاستیں“ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ کیسے ہمارے ہاں وائس چانسلر صاحبان اپنے آپ کو ضابطوں سے بالا تر سمجھتے ہوئے یونیورسٹی کو ایسے چلاتے ہیں جیسے فرنگی دور کے ریاستی نواب چلاتے تھے۔ ان کی ریاست تو ان کی جاگیر ہوتی تھی اور یہ جاگیر سمجھ لیتے ہیں۔ ایسی باتوں کا انجام پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔

جب آپ لوگوں پر اپنا کوئی ایسا من پسند مسلط کر دیں جو چور دروازے سے داخل کیا گیا ہو، جس کو سارے ضابطے بالائے طاق رکھ کر ترقیاں دی گئیں ہوں، جس کو آپ نے کئی عہدوں پر فائز کر رکھا ہوں، جو پر لے درجے کا بد تمیز، بد زبان، بدقماش، بد معاملہ ہو، جس کو آپ ہر جائز و ناجائز طریقے سے نواز رہے ہوں اور اس نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہو۔ اس کی خواہشات ہر آپ لوگوں کے خلاف انہیں سنے بغیر اقدامات کر رہے ہوں اور اس کی بد سلوکیوں، بد اعمالیوں اور بد عنوانیوں کی طرف سے چشم پوشی کر رہے ہوں، تو مجھے بتائیے لوگ کیا کریں، وہ کیا کریں گے۔ جناب وہ کم از کم آپ کی رخصت پر آپ کو گدھا ہی پیش کریں گے وہ بھی دم کٹا۔

یونیورسٹی میں ایسے واقعے کا ہونا ہمارے سماج کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، وہ جگہیں جہاں ہمارا مستقبل تخلیق ہونا ہے وہاں اگر حالات ایسے رہنے ہیں تو پھر ہماری تباہی لازم ہے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم ایسے اقدامات کریں جس سے ایسے واقعات کے اسباب کی روک تھام ہو سکے۔ ایک صاحب اپنے ادارے میں حضرت وائس چانسلر اور ان کے حواریوں کی حرکتوں پر رنجیدہ ہوتے ہوئے کہنے لگے، لگتا ہے ہمارے ہاں ان صاحب کو جاتے وقت سور پیش کیا جائے گا، نہیں معلوم دم والا یا دم کٹا۔

Facebook Comments HS