زندہ رود از جاوید اقبال: علامہ اقبال سے ملنے کا اک بہانہ ہی تو ہے

علامہ اقبال ہماری تاریخ کی وہ بڑی شخصیت ہیں جن سے تعارف اب ہماری تہذیب، تمدن اور ماحول کا حصہ ہے۔ نا چاہ کر بھی ہم اقبال سے واقف رہتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ اقبال کی شخصیت، فکر، شاعری، فلسفہ، سیاست اور کردار غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار ان چند شخصیات مین ہوتا ہے جن کو اپنی زندگی کے اولین دور میں ہی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ مفکر پاکستان اور حکیم الامت

Read more

دروازہ کھلتا ہے از ابدال بیلا

میں نے اردو کے زیادہ تر شاہکار تو پڑھے ہیں مگر سب نہیں، اس لیے مصنف اور ناشر کے اس دعوے پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ”دروازہ کھلتا ہے“ اردو کا سب سے ضخیم ناول ہے۔ اس کے کل اٹھارہ سو صفحات پڑھ کر ضخامت کا، احساس تو ضرور ہوتا ہے مگر ناول کہیں بھی بوجھ نہیں بنتا۔ ابدال بیلا کی کتاب ”بندہ“ پڑھی تو اس کی اور کتابیں بھی پڑھنے کا من کیا، آپ جانتے ہیں کہ یہ

Read more

میرے والد، پروفیسر محمد سلیم سندھو – کچھ یادیں کچھ باتیں

وطن عزیز کی خاطر اس پار سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ نہ صرف اسلاف کا صدیوں میں بننے والا اثاثہ وہاں چھوڑ آئے بلکہ یہاں آ کر تعمیر نو کے مرحلہ سے بھی دوچار ہوئے۔ میرے والد جناب محمد سلیم سندھو صاحب جولائی 1953 کو ایسے ہی ایک گھرانے میں پیدا ہوئے جو 1947 میں جموں شہر کے محلہ پیر مٹھا سے ہجرت کر کے براستہ سیالکوٹ۔ کوٹلی لوہاراں ڈسکہ شہر میں آباد ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے

Read more

مطلب پرستوں کی دوستی

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہیں پایا کیکر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا (اردو ترجمہ: مطلب پرست لوگوں کے ساتھ آشنائی یا دوستی سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے انگور کی بیل کو کیکر کے درخت ہر چڑھایا جائے اور نتیجتاً انگوروں کو نقصان پہنچے ) میاں محمد بخش صاحب ( 1830۔ 1907 ) ہمارے قریب کے زمانے میں ہونے والے سب سے بڑے پنجابی صوفی شاعر ہیں۔ آپ

Read more

تعصب کی عینک

انسانی معاشروں میں پھیلی ہوئی ایک بڑی بیماری تعصب بھی ہے، یہ صرف افراد کو ہی اپنی لپیٹ میں نہیں لیتی بلکہ گروہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس بیماری کی آفات اتنی زیادہ ہیں کہ ہر کوئی ان کی زد میں آ جاتا ہے۔ تعصب بالکل عینک کی طرح کام کرتا ہے، یعنی جیسے آپ جیسی عینک پہنیں ویسا ہی دکھتا ہے ایسے ہی تعصب بھی آپ کو وہی کچھ دکھاتا ہے جو حقائق کے منافی ہو۔ تعصب

Read more

معصوم شاہ کا دربار؛ میرا پہلا سکول

عید کے روز میں اپنے آبائی محلے کو جا رہا تھا کہ راستہ میں ایک مانوس چہرہ گلی کے راستے میں موٹر سائیکل کھڑی کر کے ایک بچے کو گھر کا راستہ دکھا رہا تھا۔ میں قریب سے گزرا تو اس نے مجھے بانہوں میں بھر لیا اور میرا نام پکارا، غور سے دیکھا تو وہ ریاض تھا، میرا پہلا ہم جماعت۔ اس کے ساتھ ہی میں نے برسوں پہلے سکول اور سیپارہ پڑھنے کا سفر شروع کیا تھا۔ میں

Read more

نہ لکھے گئے مضمون کی آفت

بہت دنوں بعد ہمزاد ملا تو اس کو پوچھا کہ کن سوچوں میں گم ہو۔ کہنے لگا نہ لکھے گئے مضمون کی آفات کے متعلق سوچ رہا ہوں۔ کیا بجھارتیں بھجوا رہے ہو، کچھ کھول کر بیان کرو۔ کہنے لگا ایک صاحب تھے، ہاں وہ جو اب جا چکے ہیں۔ وہی والے جو کانے دجال کے مرید تھے۔ نہیں معلوم اس کے مرید تھے یا سرپرست، البتہ وہ ان کے ساتھ اس وقت تک سائے کی طرح لگا رہا جب

Read more

جی ایم بٹ : کچھ یادیں کچھ باتیں

میں جب 2004 اکتوبر میں پنجاب کالج سیشن کورٹ روڈ گوجرانوالہ کے تدریسی عملے کا حصہ بنا تو میرے ساتھ نوید اقبال، مولوی احسان، عمران صدیق اور حافظ عمران بٹ صاحب بھی تھے۔ ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم سے کچھ ماہ پہلے انگریزی میں ریاض اور جی ایم بٹ، اسلامیات میں جاوید صاحب بھی تدریسی عملے کا حصہ بن چکے تھے۔ تمام لوگوں سے میرا ایسا تعلق قائم ہوا جو عمروں پے محیط ہوتا ہے مگر جی ایم

Read more

آسماں در آسماں از شاہد صدیقی: کتابِ دیگر است

کچھ روز پہلے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ہر اک ہنگامہ سا برپا تھا، ایسے لگتا تھا کہ کسی نے تھوڑی سی پی لی ہو۔ ہنگامہ یہ برپا تھا کہ پروفیسر شاہد صدیقی کی کوئی نئی کتاب آ رہی ہے ”آسماں در آسماں“ ، کچھ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کتاب کی رونمائی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہونے والی ہے۔ ناشر کے یہ پیغامات بھی موصول ہونے لگے کہ پیشگی خریداری پر رعایت بھی ملے گی۔ میں

Read more

کیا مختلف سطح کی شناختوں میں توازن ممکن ہے؟

یہ سوال بہت دنوں سے دل و دماغ پر دستک دے رہا ہے کہ کیا فرد کے لیے مختلف سطح کی شناختوں میں توازن ممکن ہے؟ ہم جب دنیا میں آتے ہیں تو ہماری سب سے پہلی شناخت نسلی و لسانی ہوتی ہے، عام طور پر انسانوں کی نسلوں اور زبانوں کا تعلق کسی علاقے سے ہوتا ہے اس لیے اس سطح کی شناخت علاقائی بھی کہلاتی ہے۔ اس سطح کی شناخت ایک طرح سے مستقل ہوتی ہے اور آخری

Read more

ہمارا آبائی محلہ

آپ گوجرانوالہ۔ سیالکوٹ روڈ پر محو سفر ہیں، ڈسکہ آنے کو ہے، آپ کی لاری چیمہ والی نہر کا پل پار کر کے لاری اڈے پر رکتی ہے تاکہ ڈسکہ کی سواریاں اتر جائیں۔ آپ اگر یہاں نہ اترنا چاہیں تو آپ اس سے آگے سول ہسپتال والے چوک پر بھی اتر سکتے ہیں۔ وہاں بھی نہ اتریں تو آگے جا کر آٹھ نمبر چونگی پر بھی اتر سکتے ہیں۔ میری طرح زیادہ تر مسافر مگر لاری اڈے پر ہی

Read more

پھر ذکر کریں لاہور کا

شیام چڈھا نے منٹو سے درست ہی کہا تھا کہ لاہور وہ محبوبہ ہے جس کی گلیوں نے ہمیں عشق کرنا سکھایا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ شیام چڈھا منٹو کا یار غار ہندی فلموں کا معروف ہیرو تھا جو عین شباب جوانی میں فلم کی شوٹنگ کے دوران گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے مر گیا۔ جی یہ وہی شیام چڈھا ہے جسے معروف اداکارہ ساحرہ کاظمی کا والد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نہرو نے بھی

Read more

ہمارے ڈسکہ میں محرم کے وہ دن

آپ سمبڑیال روڈ سے محلہ ٹھٹھیاراں کی گلی میں داخل ہو چکے ہیں اور آپ کو انچائی چڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اب آپ کے بائیں جانب گردوارے کی عمارت ہے، ہمارے محلے کی پرشکوہ عمارت، اور دائیں جانب بھلے کے بھائیوں کی پتیسہ بنانے کی دکان ہے، اس پتیسہ جیسا ذائقہ اب ان کی دکان کے ساتھ ہی تمام ہو چکا ہے۔ ان کی دکان کے ساتھ جونی کا گھر ہے، ان کے گھر کے ساتھ چاچو ایوب اور

Read more

میرا داغستان: یوسف ابراہیم، شاہجہان اور میں

عید کے تیسرے روز بدھ کے دن صبح سویرے میں نے قسمت آزمائی کے لیے یوسف ابراہیم صاحب، شاہجہان اور دیگر صاحبان کے لیے پیغام چھوڑا کہ یارو! ملاقات کی کوئی صورت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کے ہم سب پھر کھیتوں کھلیانوں کو سینچنے اور سنوارنے کے لیے لوٹ جائیں اور پھر کسی اور تہوار کا انتظار کریں۔ یوسف صاحب کا جواب آیا کہ کچھ پرانے دوستوں کے نرغے میں ہوں اور وہ مجھے گھیر کر گورونانک پورہ

Read more

منٹو کی ہیرا منڈی سے سنجے بھنسالی کی ہیرا منڈی تک

مغل دور میں شاہی قلعہ کے دیوان عام اور روشنائی دروازے کے سامنے ایسے لوگوں کا محلہ تھا جو شاعری، گانے بجانے اور ناچنے میں مہارت رکھتے تھے۔ شاہی قلعہ اور محل کی ہمسائیگی کی وجہ سے اس محلے کو شاہی محلہ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں اس محلے کے رہائشیوں کا قلعہ اور شاہی محل میں بہت آنا جانا تھا، اور ان کو شاہی محل اور امراء قلعہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ محلے کے لوگ ہی صرف قلعہ

Read more

تاریک سلطنت از ششی تھرور

تاثر و تبصرہ محمّد رضوان سلیم سندھو بہت دنوں سے یہ کتاب میرے سرہانے رکھی تھی مگر ایک کے بعد دوسری کتاب راہ میں حائل تھی۔ پچھلے جمعہ کو بالآخر کتاب ہاتھ میں لی اور فہرست ابواب کا جائزہ لیا تو دل نے کہا ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ مصنف معروف شخصیت ہیں، ان کا تعلق ہندوستان سے ہے، وہاں کی پارلیمنٹ میں کانگریس کی طرف سے رکن ہیں۔ بہت پڑھے لکھے اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی

Read more

دو کتابوں پر مختصر تاثر

پہلی کتاب : پاکستان کیسے بنا؟ از زاہد چودھری کچھ برس پہلے یہ کتاب پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں دیکھی تو خریدنے کو دل للچایا مگر بوجہ خرید نہ سکا۔ 2019 میں لاہور ایکسپو سینٹر کتاب میلے کے آخری دن آخری وقت میں باہر نکلتے ہوئے پھر کتاب پر نظر پڑی اور خریدنے کو بہت دل للچایا، بیگم ساتھ تھیں وہ مجھے دیکھ کر مسکرائیں آپ کی ادا کو میں نے اجازت جانا اور دکان دار سے قیمت دریافت کی۔

Read more

حقے کا کرشمہ

قریبی عزیزوں میں ہونے والے شادی کے اجتماع کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو آپ ان بہت سے عزیزوں سے مل لیتے ہیں جن سے عام دنوں میں ملنے کا امکان نہیں ہوتا، اور دوسرا بہت سی ایسی باتیں سن لیتے ہیں جو عام ملاقاتوں میں کوئی نہیں سناتا۔ ماموں زاد کی شادی تھی اور ہم ماموں کے ہاں ان کے مرکزی کمرے میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ ماموں کہاں

Read more

پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک انٹرویو پر تبصرہ

آج کل پنڈت جواہر لال نہرو، بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور آزادی کے بڑے رہنما، کے انٹرویو کی ایک ویڈیو گھوم رہی ہے جس میں پنڈت جی نے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے : 1۔ جناح صاحب آزادی کے حق میں نہیں تھے 2۔ مسلم لیگ انگریزوں نے بنائی 3۔ مطالبہ پاکستان کی اصل وجہ مسلم لیگ میں شامل بڑے زمینداروں کی جاگیروں کا تحفظ تھی ذاتی طور پر میں پنڈت جی کی علمیت اور سیاست کا

Read more

چار آدمی از ڈاکٹر امجد ثاقب: ایک مسحور کن متحرک کتاب

میرے ایک عزیز دوست اس روز بڑے دنوں کے اصرار کے بعد ملنے آئے تو انھوں نے دو عنایات فرمائیں ؛ ایک تو وہ پروفیسر سجاد حسین کی کتاب ”شکستِ آرزو“ واپس لے آئے اور دوسرا انھوں نے کتاب ”چار لوگ“ تحفتاً پیش کی۔ اب اس زمانے میں ایسے بھلے لوگ کہاں جو نا صرف ادھار لی ہوئی کتاب سود سمیت واپس کر دیں بلکہ انھوں نے اسے پڑھ بھی لیا ہو۔ امجد ثاقب صاحب ویسے تو اب بڑے معروف

Read more

کیا بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی نوکریوں کے لیے خطرہ ہے؟

مجھ کو لگتا ہے کہ کتنے ہی بدلتے ہوئے زمانوں میں یہ سوال مستقل پوچھا جاتا رہا ہو گا کہ کیا نیا زمانہ ہم سے ہمارا کام چھین لے گا، نہیں معلوم کے اہل علم اس کا کیا جواب دیتے ہوں گے ۔ ہر زمانے کی طرح آج بھی ہمیں اس سوال کا سامنا ہے۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں اسے مصنوعی ذہانت اور سیکھتی مشینوں کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف نئی سہولتوں کی

Read more

کیا جناح اور نہرو انگریز کے ایجنٹ تھے؟

بھارتی اپنے بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ جناح انگریز کے ایجنٹ تھے اور ہم اپنے بچوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ نہرو انگریز کے ایجنٹ تھے۔ وہاں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریز تقسیم کر کے متحدہ ہندوستان میں موجود غیر معمولی ترقی کے امکانات کو نا صرف روکنا چاہتا تھا بلکہ ایک ایسی کمزور ریاست بھی چاہتا تھا جسے خطے میں روس، چین اور ہند کے خلاف استعمال کر سکے۔ جناح چونکہ تقسیم کے سب سے

Read more

بیرسٹر محمد علی جناح نے کیا دلیل دی ہوگی؟

میرے ایک دوست نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے صفحہ پر مشتاق احمد یوسفی کے نام سے یہ لکھا کہ اس وکیل نے یہ ثابت کر دیا کہ جو آٹھ سو سال سے اکٹھے رہ رہے تھے وہ اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، اور وہ وکیل جناح سے قائد اعظم ہو گیا۔ ویسے تو سماجی رابطہ کے صفحات پر اقبال، فراز اور یوسفی کے نام سے وہ کچھ چھاپ دیا جاتا ہے جس کے بارے میں شاید ان

Read more

صدر پاکستان کے ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان میں خطاب کے فکر انگیز پہلو

عارف علوی صاحب کو جب بھی سنتا ہوں تو پرانے عہد کے وہ سیاست دان یاد آ جاتے ہیں جو یہ جانتے تھے کہ کس مجلس میں کیا بولنا ہے۔ صبح انٹرنیٹ کھولا تو ورچوئل یونیورسٹی کے صفحے پر جناب صدر کا وہ خطاب موجود تھا جو انہوں نے ورچوئل یونیورسٹی کے تیرہویں جلسہ عطائے اسناد کے موقع پر بروز انیس دسمبر کو کیا۔ یہ تو میں جانتا ہوں کہ جن اداروں کے صدر چانسلر ہیں ان میں سب سے

Read more

جاتے ہوئے وائس چانسلر کو گدھے کا تحفہ

پچھلی صبح ابھی موبائل پر انٹرنیٹ کھولا ہی تھا کہ ایک عزیز دوست کی طرف سے ایک وڈیو موصول ہوئی جس کا عنوان کچھ ایسا ہی تھا جیسے اس مضمون کا موضوع۔ میں نے وڈیو کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وطن عزیز کی ایک بڑی سرکاری جامعہ کے بہت سارے ملازمین ایک گدھے کو ریٹائر ہونے والے وائس چانسلر کے دفتر کی طرف ایک جلوس کی شکل میں لے جا رہے ہیں اور بتانے والا بتا رہا ہے کہ

Read more

سقوط ڈھاکہ چند کتابوں کے آئینے میں

وہ لوگ جنہوں نے اکہتر سے پہلے ہوش سنبھالا ان کی یادوں اور یادداشتوں میں مشرقی پاکستان بھی ہے اور جو کچھ وہاں ہوا تھا وہ بھی۔ مگر وہ جو اکہتر کے بعد والے پاکستان میں پیدا ہوئے وہ یا تو کچھ جاننا نہیں چاہتے یا جو کوئی بتا دے وہ جان لیتے ہیں۔ کم ہی ایسے ہوں گے جو سچ جاننے کی مشقت جھیلنا چاہیں گے۔ سقوط ڈھاکہ کے بارے میں ہمارے ہان تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے

Read more

قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟

آج اگر ہم اپنی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ ہماری دنیا تین طرح کے ممالک میں تقسیم ہے۔ ایک وہ ممالک ہیں جو زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے ہیں اور ہر طرح سے دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں مگر منزل ابھی دور ہے، یہ ممالک کسی نا کسی لحاظ سے دنیا میں کوئی کردار

Read more

چاند گاڑی کا خاتمہ

ماموں کہنے لگے اب کے تم لاہور سے آؤ تو بس سے اترنے کے بعد رکشہ مت لینا بلکہ چاند گاڑی سے گھر تک آجانا، بچت رہے گی۔ میں نے پوچھا تو نہیں مگر سوچتا رہا کہ یہ چاند گاڑی کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی کیا دن تھے جب تانگہ چلا کرتا تھا، جیب بھری ہوتی تو سالم ہی کروا کر لاری اڈے سے نوشہرہ روڈ چلا جاتا اور اگر جیب ہلکی ہوتی تو سواریوں کے ساتھ جا بیٹھتا۔ جب

Read more

کرپشن مسئلہ ہے یا حل

(کرسچنسن کی کتاب ”پروسپیرٹی پیراڈوکس“ سے ماخوذ ) اب تو اک عمر بیت گئی یہ سنتے ہوئے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اہل وطن کسی اور نام پر اتنا نہیں لوٹے گئے جتنا کرپشن ختم کرنے کے نام پر۔ جو بھی سیاست کا علم لے کر نکلتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ مجھ سے پہلے سب کرپٹ تھے اور میں ہی وہ نجات دہندہ ہوں جو وطن عزیز کو کرپشن

Read more

تلاش بہاراں، علی پور کا ایلی اور الکھ نگری : ایک تاثر

برسوں پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو ایک ضخیم کتاب میں ڈوبے ہوئے دیکھا تو کتاب کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا یہ وہی کتاب ہے جو ہم کچھ روز پہلے کتاب میلے سے لائے تھے۔ میں نے پوچھا کیا کہتی ہے، کہنے لگا یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو خود کو بڑا منحوس سمجھتا ہے۔ کتاب کا نام ”علی پور کا ایلی“ تھا۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگا تمھیں شاید اچھی نا لگے۔ اس کا یہ

Read more

ہماری یونیورسٹیاں اور فرنگی دور کی دیسی ریاستیں

جب بھی دیوان سنگھ مفتون کی کتاب ناقابل فراموش پڑھتا ہوں تو دھیان فرنگی دور کی دیسی ریاستوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ ریاستیں جو اب قصہ پارینہ ہو چکی ہیں، مگر ان کی کہانیاں، نشانیاں اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔ یہ دیسی ریاستیں تھیں کیا اور یہ دیوان سنگھ مفتوں کون تھا اور ان کا ہماری یونیورسٹیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ فرنگی دور کا ہندوستان دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک وہ حصہ جس پر انگریز

Read more

دو حکایتیں: انسان یا بچھو اور زندہ آنکھ

پہلی حکایت: یہ انسان ہیں یا بچھو؟ برسوں پرانی بات ہے، میں اور مولوی عتیق، وہ انقلابی لڑکا جو اب جینٹلمین بینکر بن چکا ہے، اس کے ہاسٹل کے احاطے میں بیٹھے شام کی چائے چسکیاں لے کر پی رہے تھے، وہ یونیورسٹی کے دن تھے، سال کوئی 2002 ہو گا۔ مولوی کہنے لگا یہ بتا انسان اور آدمی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میں نے کہا تو بتا۔ کہنے لگا اب کی بار میں چشتیاں گیا تو ایک اہل

Read more

نوجوانوں کی کردار سازی

(یہ مضمون استاد جاوید احمد غامدی صاحب اور ورچوئل یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ گفتگو دنیا ٹی وی پر دو پروگراموں میں 2019 کے آغاز میں نشر کی گئی۔ گفتگو کی بنیاد ذیل میں دیے گئے سوالات تھے : کردار کیا ہے؟ کردار کیوں ضروری ہے؟ کیا کردار کے بغیر کامیابی ممکن نہیں؟ ہم کردار میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں؟ مذہب کردار سازی میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟

Read more

ڈارون کی مشہور زمانہ کتاب پر ایک تاثر

زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر انسان صدیوں سے سوچ رہا ہے۔ سوال اور اس کے حل کے لیے انسان کی جدوجہد اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان خود۔ سوال کے بہت سارے جواب پیش کیے جا چکے ہیں جو کے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ پہلا اور بڑا گروہ، جس کا تعلق اہل مذہب سے ہے، اس بات کا قائل ہے کہ زندگی کی تمام شکلیں جو آج موجود

Read more