تمھاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
ملک میں قائم وفاقی اور صوبائی نگران حکومتیں آئین پاکستان کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانے کے لیے معروض وجود میں آئیں تھیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ مدت میں انتخابات نہ کرانے کے ناپسندیدہ عمل کے باعث آج تک ایوان اقتدار میں براجمان ہیں۔ اگرچہ عدالت عالیہ اور عظمٰی نے اپنے ایک سے زیادہ فیصلوں میں انتخابات کرانے کی ہدایات جاری کی تھیں لیکن پنجاب اور کے پی کے میں قائم نگران حکومتوں نے اعلی عدلیہ کی طرف سے انتخابات کے لیے عدالتی عملے کی عدم فراہمی کے فیصلے اور اپنے ہی ماتحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی جانب سے افرادی قوت کی فراہمی سے انکار کو جواز بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے ضروری معاونت فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
اس تمام تر قضیے میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی مایوس کن رہا کیونکہ اس نے آئین پاکستان کے مطابق تفویض کیے ہوئے وہ تمام اختیارات استعمال کرنے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی جس کے تحت مملکت کے سارے ادارے اسے ہر ممکنہ معاونت فراہم کرنے کے پابند تھے۔ جس کے نتیجے میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات پے در پے التوا کے بعد اب ملک گیر انتخابات کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں۔
بعد ازاں مرکز میں قائم نگران حکومت جس کی بنیادی ذمہ داری محض 90 دن میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد تھا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات سے پہلے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے اقدام کو جو کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق آئین پاکستان سے صریحاً انحراف تھا کو ”بوجوہ“ من و عن تسلیم کر لیا جو کہ اس کے مختصر عرصہ اقتدار میں خاطر خواہ اضافے کا باعث ثابت ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں عدالت عظمی کے سخت احکامات کی بنا پر الیکشن کمیشن کو با امر مجبوری صدر مملکت کی مشاورت سے عام انتخابات کے لیے 8 فروری 2024 کی تاریخ دینا پڑ گئی۔
اگرچہ ملک میں مروجہ قوانین کی بنا پر نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کو بغیر کسی تعصب اور تفریق کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ جس دوران اس نے امور حکومت کو محض روزمرہ کی بنیاد پر سرانجام دینا ہوتا ہے۔ لیکن اس دفعہ ملک میں جاری شدید اقتصادی بحران اور آئی ایم ایف سے مزید مذاکرات اور معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے جاتے جاتے ایک زور زبردستی کی قانون سازی کے ذریعے آنے والی نگران حکومت کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے کی منظوری دینے کے علاوہ اسے پہلے سے جاری کردہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نجکاری کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کے اختیارات بھی سونپ دیے۔
متذکرہ بالا اقدامات کی وجہ سے موجودہ نگران حکومت آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں کامیاب رہی جس کی رو سے آئی ایم ایف پاکستان کو 700 ملین ڈالر کی قسط جنوری کے تیسرے ہفتے میں جاری کر سکتا ہے۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جن کے تحت آئی ایم ایف نے موجودہ نگران حکومت سے معاہدہ کی تمام شرائط با آسانی منظور کرا لیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی آئی ایم ایف ہے جس نے سابقہ وزیراعظم عمران خان کو بالعموم اور پی ڈی ایم کی شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کو بالخصوص ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔
نگران حکومت کی اور آئی ایم ایف کے درمیان حالیہ معاہدے کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ عمران خان اور شہباز شریف کی سابقہ حکومتوں کے عین برعکس موجودہ نگران حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام تر شرائط کو بغیر کسی تامل کے من و عن قبول کر لیا۔ جس کے نتیجے میں بجلی کی نرخوں میں ناروا اضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو اور صنعتی اداروں کے لیے گیس کی قیمتوں میں 300 فیصد تک کا تاریخ ساز اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ اعزاز صرف نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے گیس کے لائف لائن صارفین کو بھی گیس کی قیمتوں میں کیے جانے والے بے پناہ اضافے سے مزید غربت اور مہنگائی کی چکی میں پیس ڈالا ہے۔ گیس کے نرخوں میں جنوری 2024 میں بھی ایک بڑا اضافہ متوقع ہے جو کہ ملک میں اس وقت پائی جانے والی 41 فیصد افراط زر کی سطح میں مزید اضافے کا موجب بنے گا۔
یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ ملک میں قائم گزشتہ ایک سے زیادہ حکومتوں نے جب بھی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو ملکی ذرائع ابلاغ خصوصاً نجی ٹی وی چینلز نے اس حکومتی فیصلے کو ہمیشہ بے رحمانہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو بالخصوص ذرائع ابلاغ کی منظم مہم کا سامنا کرنا پڑا جس نے دوران حکومت ان کی ذاتی مقبولیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں انہیں اپنے دور حکومت میں ہونے والے متعدد ضمنی انتخابات میں زیادہ تر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سابق وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت بھی ذرائع ابلاغ کی تنقید کا نشانہ بنی لیکن اس کی شدت بہر طور عمران خان کی حکومت کی نسبت بہت کم تھی۔
بہرحال یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ اس بار ملکی ذرائع ابلاغ نے اپنی ماضی کی روایات کے برعکس نگران حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کو آخر کس طرح کامیاب اقتصادی اصلاحات کے نام پر حق بجانب قرار دیا ہے۔ ملکی ذرائع ابلاغ کا یہ رویہ اس حقیقت کے بالکل برعکس ہے کہ بجلی اور گیس میں حالیہ اضافے نے پاکستان کے غریب اور مجبور عوام کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے کے علاوہ ملک کے صنعتی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے خطے میں کاروباری مسابقت کے امکانات کو ناممکن بنا دیا ہے۔
نگران حکومت ان دنوں انتخابات کے انعقاد کو ہر ممکن بنانے کی بجائے ”حیران کن“ طور پر پی آئی اے اور اس کے زیر ملکیت روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری میں ضرورت سے زیادہ مصروف کار ہے۔ نگران وزیراعظم اور ان کے رفقائے کار بالخصوص وفاقی وزیر برائے صنعت گوہر اعجاز ان دنوں کچھ عرب ممالک کے سرکاری اور نجی شعبے سے کی جانے والے مفاہمت کی چند یادداشتوں (ایم او یوز) کو سرمایہ کاری قرار دے کر اسے اپنی حکومت کی عظیم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
جناب گوہر اعجاز جو وزیر بننے سے پہلے اپٹما کے پلیٹ فارم سے ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے ہمہ وقت بجلی کے نرخوں کو خطے بالخصوص بھارت اور بنگلہ دیش میں رائج نرخوں کے برابر رکھنے کے لیے مصروف عمل تھے اب کسی ”نامعلوم وجوہات“ کی بنا پر اس مطالبے سے مکمل طور پر دستبردار ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستانی اخبارات ان دنوں بھی اپٹما کی جانب سے شائع کردہ ان اشتہاروں سے بھرے ہوئے نظر آرہے ہیں جن میں وہ وزیر موصوف سے گرتی ہوئی برامدات کو روکنے کے لیے بجلی کے مسابقتی نرخوں کی درخواست کر رہے ہیں۔ لیکن اس جائز مطالبہ پر کوئی دھیان دینے کی بجائے جناب گوہر اعجاز 100 بلین ڈالر کی برامدات کے خشک کن دعوے کرتے نظر آرہے ہیں جو کہ زمینی حقائق سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔
بد قسمتی سے متذکرہ بالا حقائق سے برعکس آج کل ملکی ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حصہ تواتر سے نگران حکومت کی مداح سرائی میں مصروف ہے۔ اس تمام تر مہم میں ایک بزرگ صحافی اور اینکر پرسن کا کردار بہت اہم ہے۔ موصوف ہفتے میں پانچ دن اپنے پسندیدہ ماہرین اقتصادیات جن میں بازار حصص کے چند مخصوص بروکرز نمایاں ہیں کے ذریعے نگران حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس میں بے پناہ اضافے، تاریخ کی بلند ترین شرح سود، بازار حصص میں محض مفروضوں کی بنیاد پر ہونے والی حالیہ تیزی، پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری اور مفاہمت کی چند یادداشتوں کو عظیم عوام دوست اقتصادی اصلاحات قرار دینے میں کسی تامل سے کام نہیں لے رہے۔
اس تمام تر صورتحال میں ملکی ذرائع ابلاغ سے درخواست ہے کہ وہ ملک کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر اپنے مجموعی طرز عمل پر فوری طور پر نظر ثانی کریں اور عوام الناس کو اصل زمینی حقائق سے آگاہ رکھیں بصورت دیگر ملک میں قائم نگران حکومتوں کا انتہائی جانبدارانہ رویہ اور بے بنیاد اقتصادی ترقی کے دعوے آئندہ ہونے والے انتخابات کو انتہائی متنازع بنانے کے علاوہ ملک کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل دیں گے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہوگی۔
صاحب مضمون اپنی تمام تر معروضات کا اختتام قومی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ملک میں قائم گزشتہ دو سیاسی حکومتوں کے ساتھ رکھا جانے والے ناروا سلوک اور وزیراعظم کاکڑ کی موجودہ نگران حکومت کی مجموعی کارکردگی اور رویے کی بے جا ستائش کے تناظر میں اس مشہور شعر پر کرنا چاہتا ہے جو کہ ملک میں پائی جانے والی صورتحال کا حقیقی عکاس نظر آتا ہے :
تمھاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی


