خیام ہند حضرت ریاض خیر آبادی


قارئین آپ نے عمر خیام کا نام تو سن رکھا ہو گا وہ چاہے آپ کے لئے ماہر ریاضیات ’ماہر نجوم یا پھر شاعر کی حیثیت رکھتے ہوں ان کی پہچان ہر ایک کے لیے مختلف ضرور ہو سکتی ہے مگر اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمر خیام ایک نابغہ روزگار اور عظیم انسان تھے۔ ان کی پہچان بنیادی طور پر پاک و ہند میں ایک بادہ نوش شاعر کی ہے۔ ان کی شاعری آپ کو مے خانہ کا طواف کرتی نظر آئے گی۔

عمر خیام کا تعلق تو فارس سے تھا لیکن جس شاعر کا ہم ذکر کرنے والے ہیں یہ ہندوستان کے خیام ہیں۔ ان کی شاعری میں غیر معمولی شوخی ’نکتہ سنجی اور طنز شامل ہے۔ ان کے کلام میں بھی آپ کو مے خانہ‘ بادہ و ساغر ’جام و صراحی‘ میکدہ وغیرہ وغیرہ کا کثرت سے استعمال ملے گا۔ یہ حضرت امیر مینائی کے شاگرد ہیں۔ یہ ہیں ریاض احمد خیر آبادی۔ استاد کا ایک شعر ہے

~ دنیا کی پڑ رہی ہیں نگاہیں ریاض پر
کس نوک کا جوان ہے کس آن بان کا

آج ایک مودبانہ نگاہ ایک شاگرد اور مداح خاص کی طرف سے ہے۔ یہ مضمون لکھنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ حضرت ریاض کا ایک ہلکا سا عکس دیا جائے۔ یہ ادبی و مفصل قسم کا مضمون بالکل نہیں اور نہ ہی طالب میں اتنی علمی استطاعت و قابلیت ہے۔ آپ خمریات کے شاعر ہیں۔ دراصل خمریات عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی ہیں ”ایسی شاعری جس میں شراپ و دیگر نشہ آور اشیا کا ذکر ہو“ ۔ ان کی شاعری شراب و لوازم شراب کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

بقول غالب :
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہت دلچسپ بات ہے کہ کوئی خمریات کا اتنا بڑا شاعر ہو اور اس نے کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگایا ہوں۔ سینکڑوں اشعار شراب پر کہے ہوں جبکہ خود وہ پانچ وقت کا نمازی اور تہجد گزار ہو۔ ایسا انسان کیسے خمار و دیگر کیفیات بعد از مے نوشی کو اتنی آسانی اور گہرائی سے بیان کر سکتا ہے۔ بقول ریاض

بے خودی ’گم گشتگی‘ سکرو تحیر ’محویت
کچھ اور مقامات بھی پڑتے ہیں مے خانے کے بعد

ریاض ایک حسین و جمیل اور خوبرو نوخیز نوجوان تھے۔ گورکھپور کے رہنے والے تھے۔ دوشیزگان گورکھپور ان پر فدا تھیں۔ خود بھی وہ ایک حسن پرست انسان تھے۔ زندگی میں چار شادیاں کیں۔ کچھ ایسے رومانیت سے بھرپور اشعار بھی کہے کہ شاید ہی کسی دوسرے شاعر نے ایسے مضمون باندھے ہوں۔ خود بہت نیک اور پارسا تھے مگر اشعار میں شیخ ’زاہد‘ پارسا جو کہ خمریاتی شاعری میں منفی کردار تصور کیے جاتے ہیں انہی پے طنز کیا۔ انہی پر زیادہ پھبتیاں کسیں۔ خمریات کے اشعار میں تصوف کے بڑے بڑے نقطے بیان کیے۔ یہی وہ غیر معمولی صلاحیت تھی جو ان کو ان کے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے

چند دلکش اشعار ملاحظہ ہوں :
~ بنائے کعبہ پڑتی ہے جہاں ہم خشت خم رکھ دیں
جہاں ساغر پٹک دیں چشمٔہ زم زم ابلتا ہے

~ تمہارے کوچے میں کچھ طور والے بیٹھے ہیں
ذرا تم آ کے لب بام مسکرا دینا

~ یوں بھی ہو شغل مے کہ پیئیں ہم پلاؤ تم
یوں بھی ہو شغل مے کہ پیو تم پلائیں ہم

~ یہ کالی کالی بوتلیں جو ہیں شراب کی
راتیں ہیں ان میں بند ہمارے شباب کی

~ مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ
مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے

~ وہی شباب کی باتیں وہی شباب کا رنگ
تجھے ریاض بڑھاپے میں بھی جوان دیکھا

جب ہم گناہ سرزد کر بیٹھتے ہیں اور پھر پچھتاتے ہیں کہ اب ائندہ نہیں کروں گا مگر پھر وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس شعر میں کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ شعر ملاخطہ ہو

~ جام مے توبہ شکن توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

حضرت ریاض ایک اعلیٰ درجہ کے صحافی اور نثر نگار بھی تھے۔ گلکدہ ریاض ’ریاض الخبار اور ایک مزاحیہ اخبار ”فتنہ و عطر فتنہ“ بھی نکالتے تھے۔ اخبار کو غدر کے پیش نظر بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے متعلق ڈاکٹر خلیل اللہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس اخبار کو ”قیامت اور محشر“ سمجھنا چاہیے۔ ریاض خود فرماتے ہیں :

~ چھوٹا سا وہ ریاض کا اخبار کیا ہوا

حضرت ریاض کی خمریہ اور عشقیہ شاعری سے جدید غزل کا پیرہن مہک اٹھا۔ وہ ایک استاد شاعر ’اردو شاعری میں خمریات کے امام اور بلند پایہ صحافی تھے۔

~ میری قسمت سے الہی پائیں یہ رنگ قبول
پھول کچھ میں نے چنے ہیں ان کے دامن کے لئے

حضرات میں نے آپ کے دامن کے لئے گلشن شعر و ادب سے ایک دلآویز پھول چنا ہے یعنی حضرت ریاض احمد خیر آبادی۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔

Facebook Comments HS