کشمیر: کوئی امید نظر نہیں آتی


بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھنا مایوس کن تھا لیکن غیر متوقع نہیں۔ 11 جولائی 2023 کو ، پانچ رکنی پینل نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت مکمل کی۔ عدالت کے اکثریتی فیصلے نے 2019 کے اعلامیے کو برقرار رکھا اور اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 370 کا مقصد جنگی حالات کی وجہ سے ایک مستقل حل کے بجائے عارضی حل تلاش کرنا تھا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت سے الحاق کے بعد اپنی خودمختاری کھو بیٹھا ہے۔

مزید برآں، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا حکم بھی دیا اور لداخ کی بھارتی یونین کے زیر انتظام الگ علاقے کے طور پر حیثیت کو برقرار رکھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر کو داخلی خود مختاری دیے بغیر دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ریاست کا درجہ دیا جائے۔

اس فیصلے کے کشمیر کی سیاست اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں اس فیصلے کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ”امید کی کرن“ کے طور پر سراہا ہے۔ وہیں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو لگتا ہے کہ بھارتی حکومت ان کو کچلنے اور ان کی شناخت کو مٹانے کے لیے ایک قانونی نظام کا سہارا لے رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں اس فیصلے کو بھارت کی طرف سے ایک اور دھوکہ دہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام مزید بے اختیار ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ کشمیری عوام کو بھارت سے مزید دور کرے گا۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی تنسیخ سے پہلے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت۔ ایک آئین، ایک علاقائی پرچم، اور قانون سازی کا اختیار حاصل تھا۔ شہریت اور زمین کی خریداری کے حقوق کو بھی ان دفعات کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا تھا کیونکہ آرٹیکل 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو کشمیر میں مستقل جائیداد خریدنے سے روکتا تھا۔

5 اگست 2023 کو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے چار سال مکمل ہو گئے، جو کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس منسوخی سے خطے کو باقی ملک کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس نے مقامی آبادی کے غم و غصے اور احتجاج کو جنم دیا، جنہوں نے اس فیصلے کو اپنی شناخت اور خودمختاری پر حملے کے طور پر دیکھا۔ پانچ اگست کے بھارتی فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، سیکورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کا بے تحاشا استعمال، مواصلاتی بلیک آؤٹ، اور نقل و حرکت پر پابندیوں جیسے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ جنہوں نے عام لوگوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا۔ پانچ اگست کے واقعے کو کشمیریوں کے خلاف سات دہائیوں میں نئی ​​دہلی کی سے طرف سے سب سے بڑی قانونی یلغار بھی کہا جاتا ہے ۔

اگست 2019 میں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور آبادیاتی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جس سے اس خطے کا روایتی توازن درہم برہم ہو گیا ہے۔ خطے کو توڑنے کی کوششوں میں سے ایک وفاقی دیہی ترقی کی وزارت نے مالی سال 2023۔ 24 کے لیے اقتصادی طور پر اور خطے میں رہنے والے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے 199,550 نئے مکانات کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ فورم فار ہیومن رائٹس ان انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے تقریباً دس لاکھ بیرونی لوگوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کر کے زمین دینے کی توقع ہے۔ اس طرح ایک ملین بھارتی شہریوں کو کشمیر میں آباد کر دیا جائے گا۔ اس طرح مسلمان اکثریتی آبادی کا اقلیت میں بدلنا ایک حقیقت بن جائے گا۔ یہ سب کچھ اگلے چند برسوں میں اور دنیا کی آنکھوں کے ساتھ ظہور پذیر ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان نے موجودہ فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر 70 سال سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ جیلانی نے مزید کہا کہ بھارت کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کشمیریوں اور پاکستان دونوں کی خواہشات کے برعکس اس متنازع علاقے کی حیثیت کا یک طرفہ فیصلہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس قلمکار سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرپرسن الطاف حسین وانی نے بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے سے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بنیادی مسئلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں جو مقبوضہ کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہیں، بھارتی پارلیمنٹ یا اس کی سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کی پابند نہیں ہیں۔

انہوں نے کشمیر کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کس طرح بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں کی تذلیل کی۔ بھارتی حکومت کی طرف سے ریاستی مشینری، بشمول بھارتی اور غیر ریاستی سبجیکٹ ملازمین، پر نافذ کردہ قانون سازی اور حکمرانی، اور قانونی جنگ نے کشمیر کے لوگوں بالخصوص نوجوان نسل میں خوف کا احساس پیدا کیا ہے۔ تاہم ان تمام چیلنجز کے باوجود کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیریوں کی تحریک نے اس سے بھی برا وقت دیکھا ہے۔

بھارتی اقدامات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کشمیر کے حالات غیر یقینی کا شکار نظر آتے ہیں۔ بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کو عالمی برادری کی جانب سے تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن یہ مذمت کوئی ٹھوس حمایت کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ حالیہ برسوں میں خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے باعث مزید مصائب کا شکار ہوئے ہیں جس سے ان کی زندگیوں اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اربوں روپے کے نقصان ہوئے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

بھارتی حکومت کی کوششوں کے باوجود کشمیری عوام نے اپنے حقوق اور اپنی شناخت کے لیے جدوجہد ترک نہیں کی۔ وہ کئی دہائیوں سے مصائب برداشت کر رہے ہیں اور کسی بھی عدالت کے فیصلے سے ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کو ان کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہیے اور ان کے مصائب کے خاتمے کے لیے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کو اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے لیے فعال اور ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارتی حکومت کو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ تب ہی بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے لوگ خوف، جبر اور بے یقینی سے آزاد، روشن مستقبل کی امید کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS