تحریک انصاف کے لئے گھٹن کا ماحول ختم کیا جائے
یہ شکایات سامنے آئی ہیں کہ گزشتہ شب تحریک انصاف کے ورچوئیل جلسے کے دوران پاکستان کے بیشتر علاقوں میں انٹر نیٹ سروس سست تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو اس ’جلسے‘ میں شرکت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں اب انٹرنیٹ تک رسائی معمول کے مطابق ہے تاہم سوشل میڈیا کی رفتار کم کرنے کی شکایات کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔ دوست دشمن کوئی بھی اس بیان کی صداقت پر یقین نہیں کرے گا۔
اس کی وجہ بھی سادہ اور عام فہم ہے۔ ایک تو کسی سرکاری تحقیقات کا نہ تو آج تک کوئی نتیجہ برآمد ہوا اور نہ ہی کبھی کسی کو فرائض سے غفلت برتنے پر کبھی کوئی سزا دی جا سکی ہے۔ زیر بحث معاملہ تو بہر صورت ایک آن لائن جلسہ یا رابطہ کے حوالے سے متعلق ہے لیکن دیکھا جا چکا ہے کہ بعض سنگین الزامات میں قائم ہونے والے کسی عدالتی کمیشن کی کسی رپورٹ پر کوئی ایسی کارروائی نہیں ہوئی تاکہ اس سے مستقبل میں دوسرے عمال عبرت حاصل کرتے۔ اکثر رپورٹوں کو حکومت کی جانب سے خفیہ قرار دے کر کاٹھ کباڑ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ بعض وقتی طور سے تحقیقات کا دعویٰ یا وعدہ کر کے فوری طور سے سامنے آنے والے غم و غصہ کو فرو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں تحریک انصاف کے آن لائن اجتماع کے بارے میں پی ٹی اے کے وعدے پر اعتبار کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہو گا۔
حالانکہ ملک میں پائے جانے والے موجودہ سیاسی ہیجان کے ماحول میں حکام، نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ان الزامات کی تہ تک پہنچنے کا اہتمام کرتے اور کسی کوتاہی کی صورت میں کسی نہ کسی کی سرزنش کی جاتی۔ اس وقت تک جو معلومات سامنے آئی ہیں اسے زیادہ سے زیادہ ’موقف کے مقابلے میں موقف‘ کہا جاسکتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف الزام لگا رہی ہے جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ایسے کسی وقوعہ سے انکار کر رہی ہے۔ البتہ اگر تحریک انصاف کے الزامات کو اس پارٹی کے ساتھ روا رکھے جانے والے عمومی سلوک کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو اس قیاس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سرکاری طور سے تحریک انصاف کی آن لائن رابطہ سازی مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس قسم کی حرکت کو البتہ احمقانہ اور بے سود ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے موجودہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے علاوہ ریاستی اداروں کی نیک نیتی کے بارے میں عام طور سے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اور تحریک انصاف ان سے حتی المقدور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح تحریک انصاف کے پیغام کا بلاک آؤٹ کر کے جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، نتائج اس سے برعکس سامنے آسکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن اس وقت ملک میں عام انتخابات کے لئے شفاف ماحول پیدا کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق نہ صرف 8 فروری کو انتخابات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے بلکہ انتخابی شیڈول کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کی نگرانی کرنے والے افسران کو بیورو کریسی سے لینے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے شکایت کی تھی اور سنگل بنچ نے اس حوالے سے حکم امتناع بھی جاری کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انتخابات میں التوا کی کسی بھی کوشش کو ’توہین عدالت‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور سے انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ اب یہ انتخابی شیڈول جاری ہو چکا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور اسے انتخابات ملتوی کروانے کی ناروا کوشش کہا تھا۔ یہ کوشش کرنے سے تحریک انصاف کو ایک بار پھر انتخابات میں رخنہ ڈالنے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سپریم کورٹ کے فوری فیصلہ کے بعد خاص طور سے پارٹی کی پوزیشن کمزور ہوئی تھی اور وہ کم از کم انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی تھی۔ البتہ پارٹی کے آن لائن اجتماع میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات نے اب ایک بار پھر بحث کا رخ موڑ دیا ہے اور تحریک انصاف پھر سے خود کو ’مظلوم‘ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جمہوری انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان اعتماد بہت ضروری ہے تاکہ بعد از وقت دھاندلی کے الزامات سے گریز کی کوئی صورت نکالی جائے۔ ماضی قریب کے ناخوشگوار تجربات کے بعد اگلے سال کے شروع میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے خاص طور سے ایسا راستہ نکالنا ضروری ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو کسی سنگین شکایت کا موقع نہ مل سکے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور نگران حکومتیں ابھی تک ایسا ماحول پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ تحریک انصاف کو انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے جبکہ دوسری متعدد پارٹیوں کو کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کے حملوں کا خطرہ ہے۔
تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ بھی ابھی تک التوا کا شکار ہے۔ تحریک انصاف نے تحفظات کے باوجود الیکشن کمیشن کی طرف سے از سر نوا انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا حکم مان لیا تھا لیکن الیکشن کمیشن ابھی تک ان انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دینے سے گریز کر رہا ہے۔ یعنی یہ بے یقینی قائم رکھی گئی ہے کہ کیا تحریک انصاف کو ’بلا‘ انتخابی نشان کے طور پر ملے گا یا اسے کوئی کسی دوسرے نشان پر انتخاب میں حصہ لینا پڑے گا۔ آج ہی الیکشن کمیشن نے اس معاملہ پر اپنا حتمی فیصلہ محفوظ کیا ہے لیکن ایک سابقہ سماعت میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا یہ تاثر دے چکے ہیں کہ کمیشن کے نزدیک پی ٹی آئی کا دوسرا انٹرا پارٹی انتخاب بھی درست نہیں ہے۔ اگر کمیشن اس رائے کو اب فیصلہ کی صورت میں سامنے لاتا ہے تو تحریک انصاف کو انتخابی نشان ’بلا‘ دینے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک اقدام الیکشن کمیشن کی پوزیشن کو مزید مشتبہ کرے گا اور تحریک انصاف ابھی سے دھاندلی کے الزامات کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف میں پارٹی کے شفاف انتخابات کے لئے جو سرگرمی دکھائی ہے، اس کا مظاہرہ دوسری بڑی پارٹیوں کے انتخابات کے حوالے سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کب ہوئے تھے اور کون سے حلقہ انتخاب نے اپنی قیادت منتخب کی تھی۔ عام طور سے تو یہی پتہ ہے کہ شریف خاندان مسلم لیگ اور آصف زرداری و بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں۔ وہ جسے عہدیدار کہہ دیں، وہی پارٹی کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ نہ جانے الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے معاملہ میں اس ’تسلیم شدہ اصول‘ کو مسترد کر کے کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ عمران خان ہی تحریک انصاف ہیں اور پارٹی ان کی مرضی و منشا کے بغیر نہ تو کئی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی پارٹی کا کوئی ادارہ یا عہدیدار عمران خان سے بغاوت کر کے سیاسی طور سے کسی اہمیت کا حامل ہو گا۔
تحریک انصاف نے تو الیکشن کمیشن کی شرائط پوری کرنے کے لیے یہ قربانی بھی دی ہے کہ عمران خان نے پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا ہے اور بیرسٹر گوہر علی کو اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ سے عمران خان نے کم از کم یہ ضرور واضح کیا تھا کہ کوئی عذر تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو اس کے بعد اس معاملہ کو ختم کرنے اپنی پوری توجہ یا تو غیر جانبدارانہ انداز میں انتخابات منعقد کروانے پر مبذول کرنی چاہیے تھی یا دوسری پارٹیوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات اور طریقہ کار کا اعلان کرتے ہوئے بتانا چاہیے تھا کہ اسے تحریک انصاف کے انتخابات پر کس بنیاد پر اعتراضات ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی اگر اپنے اختیارات کا استعمال اسی ایک پارٹی کے خلاف کرے گا جس کے بارے میں عام طور سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ وہ ریاستی عتاب کا شکار ہے، تو الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے علاوہ انتخابات کی شفافیت پر ضرور سوال اٹھائے جائیں گے۔
تحریک انصاف کے لیڈر انتخابی کامیابی کے حوالے سے مختلف دعوے کرتے رہتے ہیں۔ کوئی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا کافی سمجھتا ہے تو بعض پرجوش ترجمان یہ دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوکتے کہ انتخابات میں تحریک انصاف کو اسمبلیوں کی تین چوتھائی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستانی انتخابی سیاست سے باقی سب پارٹیوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ تاہم انتخابات سے پہلے ایسے دعوے کوئی غیر معمولی طریقہ نہیں ہے۔ خاص طور سے جب کسی پارٹی کو مزاحمت اور امتیازی سلوک کا سامنا ہو تو وہ ایسے پرجوش دعوؤں کے ذریعے ہی اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ بعینہ پیپلز پارٹی مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے حالانکہ موجودہ سیاسی صورت حال میں جیسے تحریک انصاف سمیت کسی بھی پارٹی کا قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے، اسی طرح یہ امکان بھی نہیں ہے کہ کم از کم ان انتخابات کے نتیجہ میں بلاول وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کو انتخابی مہم شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی کو انتخابی جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس کے جو لیڈر جیلوں میں بند نہیں ہیں، انہیں مسلسل گرفتاری کا اندیشہ ہے، اسی لیے وہ روپوش ہیں۔ اب آن لائن یا ورچوئیل اجتماع کو ’ناکام‘ بنانے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ یہ قیاس تو نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سب ملک کی اعلی قیادت، نگران حکومت یا الیکشن کمیشن کی ہدایات پر ہو رہا ہے تاہم ان سب اداروں کو جاننا چاہیے کہ ایک پارٹی کو نشانہ بنانے کے الزامات سے حکومت اور ریاست کا اعتبار کمزور ہوتا ہے۔ اس بے اعتباری کا فائدہ بہر حال تحریک انصاف کے لیڈر اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ شاید یہ ارباب اختیار کی خواہش نہیں ہوگی۔ اس لیے ضروری ہو گا کہ تحریک انصاف کے خلاف گھٹن کا ماحول ختم کیا جائے اور اس کے لیے انتخابی سرگرمیوں میں مساوی بنیاد پر حصہ لینے کا موقع یقینی بنایا جائے۔


