افسانچہ: ایک سوال ہے جی


حسب معمول آج بھی میں جمعہ کی نماز کے لیے عین خطبہ شروع ہونے کے وقت ہی مسجد پہنچا تھا۔ یہ میرا عرصے کا معمول ہے کیونکہ مولوی کی تقریر سننا کچھ ایسا کار آسان نہیں۔ خطبے کا معاملہ بھی میری سمجھ سے بالا ہے۔ وہی عربی فقرے ہر بار دہرائے جاتے ہیں جن کو دسیوں مرتبہ سننے کے بعد میں ان کا مفہوم بھی کافی حد تک سمجھنے لگا ہوں۔ مولوی بیچارے نے جو کچھ اپنے بڑے مولویوں سے سنا ہے اسے خوب ازبر کر رکھا ہے۔ بڑے ارمانوں سے یہ دعائیہ کلمات ہر بار خطبے میں دہراتا ہے ”اے ہمارے رب اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما“ ۔ وہ جب بھی خطبے کے اس حصے پہ پہنچتا ہے تو مجھے واصف علی واصف کا ایک قول یاد آتا ہے۔ کہتے ہیں وہ دعا نہیں کرتے ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب حاضرین نے بے حد اصرار کیا تو بولے اچھا سب ہاتھ اٹھائیں۔ انہوں نے خود بھی ہاتھ اٹھائے اور بس اتنا کہہ کر آمین کہتے ہوئے دعا ختم کردی۔ اے اللہ اسلام کو مسلمانوں سے بچا۔

نماز کے بعد جب میں مسجد سے نکل کر پیدل گھر کی سمت روانہ ہوا تو میرا ایک ہمسایہ میرے ساتھ ہو لیا۔ بولا خان صاحب، آج مولوی صاحب نے بتایا ہے کہ قرآن کے مطابق جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کیا۔ میں سوچتا ہوں ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اسلام کی طرح عیسائیت اور یہودیت بھی الہامی مذاہب ہیں پھر ان کے ماننے والے ایسے بے حس کیوں ہیں کہ قتل تو کیا قتل عام بھی روا سمجھتے ہیں، کبھی بہ حیلہ مذہب، کبھی بنام وطن۔

میں نے کہا، آپ بھی کیا سادہ ہیں کہ انسانیت کے درد میں دور کی کوڑی ڈھونڈھ لائے۔ جناب پوتروں کی اس دھرتی پر کہ جسے پاکستان کہتے ہیں ایسا شغل تو کلمہ گو شہر شہر قریہ قریہ بڑی دیدہ دلیری سے اپنائے ہوئے ملتے ہیں اور کیا معاشرہ کیا نظام عدل کے کل پرزے بس سب محو تماشا ہی پائے جاتے ہیں۔ آپ کے اور میرے اس شہر میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا واقعہ یاد کیجیئے۔ راکھ کا ڈھیر بننے والے بنانے والے اور اس ظلم کو قانون کی طاقت سے اپنے انجام تک پہنچانے کے ذمہ دار، سبھی انسان ایک ہی الہامی مذہب کے ماننے والے تھے۔

یہ کہہ کر میں نے ان کی طرف دیکھا کہ کیا کہتے ہیں۔
بولے جی میرا گھر آ گیا، اجازت چاہتا ہوں۔

Facebook Comments HS