شاپنگ مالز میں عوامی تحفظ کا کوئی نظام موجود نہیں، ذمہ دار کون؟

اس ملک میں پیٹرول مہنگا اور خون سستا ہو گیا ہے۔ جس کا ثبوت ہر روز لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونا ہے۔ لوگوں کی قیمتی جانوں کی مثال آر جے شاپنگ مال کے اندر آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔
آگ شاپنگ مال میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جس کی شدت غیر معیاری بجلی کی تنصیبات سے ہوئی۔ فائر سیفٹی سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے آر جے مال میں آگ بھڑک اٹھی۔
آر جے شاپنگ مال میں ہفتہ کی صبح 6:20 پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ عمارت کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے پہلے چوتھی منزل پر بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق عمارت میں وینٹیلیشن نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ملک بھر میں آتشزدگی کے حادثات میں ہر سال 15000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور ایک کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہوتا ہے جو کہ بنیادی طور پر شہری علاقوں میں پیش آئے جہاں زیادہ تر رہائشی، تجارتی اور صنعتی ڈھانچے کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
آر جے مال میں آگ سے باہر نکلنے پر قابو پانے کے آلات کی عدم موجودگی نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ اور فیصل کنٹونمنٹ بورڈ فائر سیفٹی سسٹم کی موجودگی کو یقینی بنانے میں ناکام رہا۔
سٹی پلانرز، انجینئرز اور بلڈنگ پلانز کے ماہرین نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ کراچی کے تقریباً 90 فیصد رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارات میں آگ سے بچاؤ اور آگ بجھانے کا کوئی نظام نہیں ہے جو کہ ایک مجرمانہ غفلت ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) جیسے ریگولیٹری اداروں کی لاپرواہی سے شہر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ہے۔ کیوں کہ بلڈر نے ایس بی سی اے سے سرٹیفکیٹ حاصل کیے بغیر عمارت دکانداروں کے حوالے کر دی۔ فائر سیفٹی سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے آر جے مال میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس کے باعث 25 نومبر کو آر جے شاپنگ مال میں آتشزدگی کے خوفناک واقعے میں 11 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایس بی سی اے میں بھرتی کیے ہوئے سفارشی لوگ ہیں جو ہزاروں انسانی جانوں کے موت کے پروانے ہیں۔ عدالتوں کو چاہیے کہ ان اداروں کے خلاف سو موٹو ایکشن لے کر ان انسانی جانوں کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔
کتنے افسوس کی بات ہے جن مال کے اندر لوگ خریداری کے لئے جاتے ہیں وہاں اپنی ہے جانیں بیچ کر آتے ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمارت میں واقع دفاتر کے ملازمین کو دروازے توڑ کر بچا لیا گیا، جب کہ 11 اموات ”دھواں سانس اور دم گھٹنے“ کی وجہ سے ہوئیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ان مالکان کو شاپنگ مالز بنانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے جہاں عمارت میں ہنگامی طور پر باہر نکلنے کے دروازے، ایگزٹ سائنز، موجودہ حفاظتی طریقہ کار اور ایمرجنسی لائٹنگ یا پاور بیک اپ دستیاب نہیں ہوتے۔
جو بھی ادارے ان مالکان کو کمرشل ایریاز میں شاپنگ مالز بنانے کی اجازت دیتے ہیں ان اداروں کو بھی تفتیش میں لایا جائے اور یہ بات عوام کی عدالت میں ہونی چاہیے کہ سانحے میں کون کون سے ادارے ملوث ہیں۔ آر جے شاپنگ مال میں کسی قسم کا پبلک سیفٹی سسٹم میسر نہیں تھا۔ مال، بشمول فائر سیفٹی اور فائٹنگ کا سامان اور ایمرجنسی ایگزٹ، ”جب کہ فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ محکمہ کو آگ کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں ملی اور جب فائر بریگیڈ جائے وقوعہ پر پہنچی تو تیسری اور چوتھی منزل جل رہی تھی شدید دھوئیں کی وجہ سے عملے کو آگ بجھانے کے کاموں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے آگ کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔
کتنی افسوس کی بات ہے کہ سٹی پلانرز، انجینئرز اور بلڈنگ پلان کے ماہرین کے مطابق کراچی کی تقریباً 90 فیصد رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ اور آگ بجھانے کا نظام موجود نہیں ہے۔
دوسری طرف کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ عمارت نہ تو ریگولرائزڈ تھی اور نہ ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے تحت تھی بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) کے تحت آتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے کنٹونمنٹ بورڈ کو آگ بجھانے کی ذمہ داری لینی چاہیے تھی۔
اگر دیکھا جائے تو کراچی شہر میں محکموں کو ایک سے زیادہ دائرہ اختیارات قانون کے نفاذ کے لیے سب سے بڑی دشواری ہے، جس کی غلطی ہو اس ادارے کو ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ایس بی سی اے جیسے ریگولیٹری اداروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے شہر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں کو خطرہ ہے۔ آگ کو روکا جا سکتا تھا اگر حفاظتی اقدامات جیسے کہ سپرنکرز موجود ہوتے اور اگر فائر سیفٹی ایگزٹس کو شامل کیا جاتا تو شہری بروقت بچ سکتے تھے۔
ریاست کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔ جس سے مراد ہے کہ کون ذمہ دار ہو سکتا ہے؟ کے الیکٹرک؟ کے ایم سی؟ فیصل کینٹومینٹ یا مالکان؟ جو 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے ان کی قیمتی جانوں کا ذمہ دار کون ہے۔ جب تک پولیس تفتیش کرتی رہے گی اور کمیٹیاں تشکیل ہوں گی تب تک کسی اور شاپنگ مال میں سانحہ ہو جائے گا! یا پھر کسی اور کمرشل ایریا میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوں گی۔ لوگوں کی قیمتی جانوں پر تفتیش ہوتی رہے گی؟ یا لوگوں کو کبھی انصاف بھی ملے گا؟

