ممتا کے دکھ نے ڈاکٹر بنا دیا
مشترکہ خاندانی نظام کی تلخیوں کے پر خار راستوں پر میرے والدین کب سے چل رہے تھے یہ تو نہیں جانتا لیکن ایک یاد ناخن کی طرح آج تک میرے احساس کو کھرچتی ہے. جب میں پانچویں جماعت میں تھا اور بکان کی چھاؤں تلے بیٹھی اماں نے میلے دوپٹے سے اپنے آنسو چھپانے کی اس وقت ناکام کوشش کی جب بڑے بھائی کے بارہویں جماعت کے نتیجے کی خبر آئی۔ سارے بہن بھائی گرد اکٹھے ہو گئے۔ بڑی بہنا اماں کی آنکھوں کو چپ کرانے لگی تو کانچ کی چوڑیوں کے مانند اماں کے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے یوں گرنے لگے۔
ہم غریبوں کے مقدر کی جھولیوں میں کانٹے ہی کانٹے کیوں ہوتے ہیں۔ پلکوں کے بندھن توڑتے ضبط چنگیریوں کی تیلیوں کو بھگونے لگے جو اماں ہمارے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے دن بھر بنتی رہتی تھیں اپنے حافظے کے دامن سے ٹوٹتی آرزوؤں کی کرچیاں چنتی کہنے لگی۔ تم بیٹیوں کو جنم دینے پہ طنز کے نشتر سہتی کی گود میں جب قدرت نے بیٹا ڈال دیا تو اس پہلوٹھی کی آنکھ سے کیسے کیسے خواب دیکھے تھے۔ شہر میں اچھے اسکول میں پڑھانے کی تمنا ہم سب کے پیٹ کاٹتی جوان ہونے لگی۔
ادھر تمہارا باپ محکمہ انہار میں آفیسرز کی خدمت میں آدھا دن گزار کے لوٹتا اور بقیہ دن ہم مل کر کھیتوں کی مٹی میں مٹی ہوتے اس لئے ٹوٹ ٹوٹ جاتے کہ ان فصلوں کے پھل کے لئے اپنے ہاتھوں پہ پڑتے آبلوں کے کاسے اپنے جیٹھ جی کے سامنے دراز بھی کرنے ہوں گے۔ حالانکہ وراثتی زمین میں حصہ تو برابر کا تھا جو زیادہ تر بک چکا تھا کہ جیٹھ کا بیٹا ڈاکٹر بننے کے لئے بیرون ملک چلا گیا تھا جس کا خمیازہ اس کے والدین کی بجائے ہم بھگت رہے تھے۔
یہ کہہ کر ہماری کھانے پینے اور پہننے کی حسرتوں کے زخمی ہونٹوں پر چپ کی انگلی رکھ دی جاتی تھی کہ جب ڈاکٹر بن کر آئے گا تو سارے دکھڑے سکھ میں بدل جائیں گے۔ زندگی کے راستوں پر ٹوٹتی دستکوں کی آواز امیدوں کو پکارتی چلتی رہی۔ بڑے بیٹے کے دسویں اور بارہویں جماعتوں کے نتیجے ڈاکٹر کی ماں کہلانے کے خوابوں پر پانی پھیرتے گزر گئے تو پھر ایک امید جڑی کہ دوسرے بیٹے نے دسویں جماعت میں اچھے نمبر حاصل کر لئے تھے۔ لیکن وہ بھی بارہویں جماعت تک پہنچتے کسی بد نظری کا شکار ہو گیا۔ تو تیسرے بیٹے کے چہرے سے ٹپکتی ذہانت امید کی انگلی تھامتی زندگی کے راستوں پہ چل نکلی لیکن اس کا نتیجہ بھی دکھ کے سوا کچھ نہ دے سکا
اماں کے بھیگتے گالوں پر انگلیوں کے جھاڑو پھیرتی بہنا نے میری طرف اشارہ کرتے کہا اماں آزاد ہمیں دکھوں کے حصار سے آزاد کرائے گا۔ اسی اثنا میں تایا جان پاس آ کھڑے ہوئے اور طنز آلود لہجے میں جملہ اچھالتے چل دیے کہ تیرے بیٹوں کے چہروں پر ڈاکٹر بننا نہیں بلکہ نالائقیاں لکھی ہیں۔ سوکھتی امیدوں کے ٹوٹتے ٹکڑوں کو ضبط کی مٹھیوں میں بھرتی کے کان کڑ کڑ کی آواز سے پھڑک اٹھے۔ آنکھوں کی سرزمین سے بچھڑتے آنسو پلکوں کے بندھن توڑتے دوپٹے کے پلو میں جذب ہو گئے۔
اماں کے چہرے سے ایسے دھواں اٹھنے لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں انگارہ بھر دیا ہو۔ اس دن سے اماں کا دکھ میری رگوں میں اتر گیا اور پھر جس دن بابا نے پرنسپل کے سامنے ہاتھ جوڑ کر میری فیس معاف کروائی، یہ سوا ہو گیا۔ ڈاکٹری کی منزل کی طرف ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ حسرتوں کی کرچیاں پلکوں کے غلاف میں لپیٹتی ماں قبر کی گود میں جا سوئی تو بابا نے خواب میں چاند میں ڈاکٹر فیصل لکھا دیکھا جس نے میری ٹوٹی پھوٹی سوچوں کو جڑنے پر مجبور کر دیا۔
بچپنے کی بیماری آزاد سے فیصل بناتی گزر گئی تھی۔ ایم ڈی کیٹ کی پہلی کاوش کے دوران شدید بیمار پڑ گیا لیکن نمبر دو سو میں سے ایک سو ستر حاصل کر لئے. بابا سن کر ناچنے لگا لیکن میرٹ زیادہ بلند نکلا۔ اور پھر بابا بھی اللہ کو پیارے ہو گئے جس سے دل بس ٹوٹ کے رہ گیا۔ لیکن بڑے بھائی کے سہارے سے میں دوسری کاوش میں ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتا نشتر میڈیکل کالج کا طالب علم بن گیا جہاں سے ابو اماں کی دوا لینے جاتے تو کہتے چوکیدار میرا واقف ہے۔
میڈیکل تعلیم کا پہلے سال کی تکمیل پر ایسی بیماری لاحق ہو گئی جس میں میری ٹانگوں کا آپریشن بھی ضروری ہو گیا۔ مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دیا کہ کریم ذات کی مہربانی سے ڈاکٹر راشد قمر کے دست شفقت نے مجھ گرتے پڑتے کو تھام لیا صورت سے جھلکتی مسیحائی کی سیرت نے رخصت سے صحت یابی تک معاونت فرمائی کہ آج ٹوٹے تعلیمی سلسلے کو جوڑنے تیار کھڑا ہوں۔
ڈاکٹر راشد قمر راؤ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی سند ہاتھ میں لیے ایسے محو سفر ہوئے کہ ایم سی پی ایس اور سی پی ایس پی کے امتحانات میں کامیابی کا جام پینے کے باوجود بھی تشنہ رہے۔ حتیٰ کہ رائل کالج آف سرجنز گلاسکو ایف آر سی ایس کے بعد ویٹرو رٰٹینا میں آئی سی او فیلو شپ اور سی پی ایس پی سے ایم سی پی ایس ہیلتھ پروفیشنل ایجوکیشن کی سند پا کر امریکن کالج آف سرجنز سے فیلو شپ اور پھر ماسٹر ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری کا حصول ممکن بنا دیا۔
عملی میدان میں ڈاکٹر، سینئر رجسٹرار، اسسٹنٹ پروفیسر اور شعبہ امراض چشم میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور، پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج اور اب تاریخی حیثیت کے حامل نشتر میڈیکل کالج ملتان بطور پرنسپل مصروف عمل ہیں۔ اور ابھی تو ان کے ایوارڈز اور تمغہ جات کی چاق و چوبند فہرست راقم کی قلمی شکستہ پائی کا ٹھٹھا اڑاتی دعوت فکر دے رہی ہے کہ منزلوں کے چمکتے ستاروں نے کتنی آبلہ پائیوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے کامیابیاں مسکرا رہی ہیں۔ جن کو بیان کرنے کے لیے ایک کالم ناکافی ہے۔


