شاہین، کچھوا اور سرکاری ملازم


یہ بات شاید عام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہو کہ عالم رویا میں مشاہیر کی ایک دوسرے سے ملاقات رہتی ہے۔ میرے اشتیاق علمی کے پیش نظر رفتگاں، میرے حال پر بھی کرم فرماتے رہتے ہیں اور خواب کی دنیا میں ان کی آمدورفت رہتی ہے۔ کبھی میں ان کے افکار عالیہ سے مستفید ہوتا ہوں اور کبھی وہ میرے افکار پریشاں سے کسب فیض کرتے ہیں۔ شب رفتہ، حضرت علامہ خواب میں تشریف لائے تھے۔ آتے ہی بے تکلفی سے ارشاد کیا ”نوجوان! سنا ہے تمہیں کچھوے بہت پسند ہیں، اس پسندیدگی کا کیا سبب ہے؟“

عرض کیا ”پہلے آپ بتائیے کہ آپ کو ’شاہین‘ کیوں پسند ہے؟“

فرمایا ”میں نے تو اس سوال کا جواب ایک مکتوب میں تحریر کیا تھا کہ اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں (1) خوددار اور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ (2) بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا۔ (3) بلند پرواز ہے۔ (4) خلوت پسند ہے۔ (5) تیز نگاہ ہے۔“

اس پر میں نے عرض کیا ”علامہ صاحب، مجھے کچھوا اس لیے پسند ہے کہ اس میں سرکاری ملازم کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ سرکاری ملازم کی خصوصیات یہ ہیں کہ (1) قناعت پسند ہے کہ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتا ہے۔ (2) بے تعلق ہے کہ ذاتی مکان نہیں بناتا، کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ (3) طویل عمر ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بہت عرصے تک زندہ رہتا ہے۔ (4) سخت جان ہے۔ (5) سست اور کاہل ہے۔“

یہ جواب سن کر علامہ صاحب خاموش ہو گئے اور یہ مصرع پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے :
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

حال آں کہ اس میں آزردہ خاطر ہونے کی کوئی بات نہیں تھی۔ اب انتظار حسین پر تو کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ وہ تو نہ صرف ”کچھوے“ کے عنوان سے افسانہ تحریر کرتے ہیں بلکہ افسانوی مجموعے کا نام بھی ”کچھوے“ ہی تجویز کرتے ہیں۔ چارلس ڈارون پر بھی کوئی نکتہ چینی نہیں کرتا جنہوں نے ایک کچھوا پال رکھا تھا۔ ڈارون کو یہ کچھو1835ء میں جزائر گالاپاگوز کے سفر میں ملا تھا جسے وہ برطانیہ لے آئے۔ وہاں سے یہ کچھوا آسٹریلیا کے ایک چڑیا گھر میں پہنچا۔ اس کچھوے نے ایک سو پچھتر سال عمر پائی اور آخر 2006ء میں اس کی روح، خول سے آزاد ہو گئی۔ اس کچھوے کا نام ہیریٹ تھا۔ یہاں ہمیں وہ ستم ظریف یاد آ گیا جس نے اپنے پالتو بندر کا نام ’ڈارون‘ رکھا ہوا تھا۔

کچھوا ایک سست اور کاہل جاندار ہے، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ صرف ’بحرالکاہل‘ میں پایا جاتا ہو گا۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ یہ زودیاب جانور ہے اور ہر طرح کے سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں میں تیرتا نظر آتا ہے۔ انڈے دینے کے لیے کچھوے، ساحلوں کا رخ کرتے ہیں، گویا ایک کچھوے کی زندگی ”خشکیوں میں کبھی پھرتے، کبھی دریاؤں میں“ گزرتی ہے۔ کچھوے کی مستقل مزاجی مشہور ہے۔ ایک حکایت میں اپنی اس خوبی کی بنا پر اس نے خرگوش کو ’مقابلۂ رفتار‘ میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ یہ حکایت یہاں تمام نہیں ہوتی۔ اس کا حصہ دوم (سیزن ٹو) بھی ہے۔

’مقابلۂ رفتار‘ کے بعد جنگل میں جانوروں کی دو پارٹیاں بن گئیں۔ ایک پارٹی خرگوش کے حامیوں پر مبنی تھی جبکہ دوسری پارٹی میں کچھوے کے طرف دار شامل تھے۔ دونوں فریق اس بات پر باہم دست و گریباں رہتے تھے کہ کون زیادہ تیز رفتار جانور ہے؟ ایک بار جنگل کے ایک دوردراز کونے میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ سب کچھ ایک بندر کی وجہ سے ہوا جو کسی انسان کی ماچس چرا لایا تھا۔ فوری طور پر جانوروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا اور اس میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ کس جانور کو برق رفتار پیغام رساں کے طور پر ہاتھیوں کے پاس بھیجا جائے جو دریا کی جانب پانی پینے گئے ہوئے تھے۔ پیغام یہ تھا کہ وہ فوری طور پر واپس آئیں اور آگ بجھانے کے لیے اپنی سونڈوں میں پانی بھرتے لائیں۔ بقول شاعر:

پانی سونڈ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے
اب بھی جلتا دشت بچایا جا سکتا ہے

حسب معمول کچھوے اور خرگوش کے حامیوں میں شدید بحث ہوئی۔ آخرکار یہ فیصلہ ہوا کہ تیز رفتار کچھوے نے چوں کہ خرگوش کو شکست دی تھی، اس لیے اس اہم مہم کے لیے اسے سفر پر روانہ کیا جائے۔ کچھوے کا یہ سفر؛ باقی جانوروں کے لیے سفر آخرت ثابت ہوا۔ وہ جب تک خراماں خراماں دریا کے کناروں تک پہنچا، جنگل میں آگ پھیل چکی تھی۔

یہ روایت زیادہ معروف نہیں۔ کہانی کا یہ انجام بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کیوں کہ اس واقعے کے زیادہ تر چشم دید گواہ آگ کے شعلوں کی نذر ہو گئے۔ صرف ایک کچھوا اور چند ہاتھی ہی جانبر ہو سکے تھے۔

اس کہانی کا ”اخلاقی سبق“ یہ ہے کہ اگر کبھی خدا نکردہ کسی شہری آبادی میں آگ بھڑک اٹھے تو فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے کے لیے کسی ”سرکاری ملازم“ کو نہ بھیجا جائے۔

Facebook Comments HS