ہٹلر، پطرس اور ہم

بہت کم مورخین کو یہ بات معلوم ہے کہ ایڈولف ہٹلر، پطرس بخاری اور اس خامہ خراب میں ایک قدر مشترک ہے۔ ہم بھی جان بوجھ کر اس بات کی زیادہ تشہیر نہیں کرتے کہ سادہ دلانِ شہر بجائے پطرس بخاری سے ہمارا رشتہ زعفرانی استوار کرنے کے، کہیں ہٹلر سے ہماری نسبتِ خونیں نہ قائم کر لیں۔ یہ وضعِ احتیاط اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم تینوں پر خداوندانِ مکتب کے مشترکہ احسان ہیں۔ ہٹلر کا قصہ

Read more

بندر، ٹائپ رائٹر اور فسانۂ عجائب

کبھی کبھی تو غیب سے ایسے نادر مضامین خیال میں آتے ہیں کہ ہم خود دنگ رہ جاتے ہیں۔ زبان و ادب کی حد تک تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہم اس میدان کے شہ سوار ہیں اور اس دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزری ہے لیکن جب سائنس کے اسرار بھی ہم پر کھلنے لگتے ہیں اور لبوں پر سائنس کے ’ایجادِ بندہ‘ نظریات جاری ہو جاتے ہیں تو اپنے ذہنِ رسا پر رشک کرنے کے

Read more

صوفیہ بیدار: لیلیٰ کی سہیلی

صوفیہ بیدار بنیادی طور پر شاعرہ ہیں اور شاعرہ بھی ایسی کہ عالم خواب میں بھی ہوں تو لوگ انہیں ”بیدار“ کہتے ہیں۔ سو، ایسی بیدار ذہن خاتون کے بارے میں سخن گستر ہونا، میرے جیسے گراں خواب کے کے لیے ایک دشوار مرحلہ ہے لیکن میری مردانہ انا مجھ سے کہتی ہے کہ اے روسیاہ! اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکا تو صوفیہ بیدار ایک ایسا افسانہ لکھ کر تیرے منہ پر ماریں گی جس کا مرکزی کردار

Read more

شہر سے بڑا آدمی

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی، شہر سے بڑا ہو جاتا ہے لیکن اس رمز کو سب لوگ کہاں جانتے ہیں۔ اسلم انصاری صاحب کا معاملہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ ایک بار انصاری صاحب سے کسی نے کہا کہ اگر آپ لاہور میں ہوتے تو زیادہ معروف اور ممتاز ہوتے۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ملتان اتنا چھوٹا شہر نہیں کہ یہاں کتابیں نہ پہنچتی ہوں۔ گویا انصاری صاحب

Read more

ہم نام کا روزنامچہ

وحید الزمان طارق، میرے ہم پیشہ و ہم راز نہیں ہیں۔ وہ کبھی میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ بھی نہیں رہے لیکن وہ میرے ہم نام ضرور ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ وحید ِ یگانہ ہیں اور میں سبزۂ بے گانہ۔ وہ مردِ سپاہ ہیں اور میں روسیاہ۔ وہ طارق ہیں اور میں متروک۔ وہ سفینہ سوز ہیں اور میں غرقِ دریا۔ غرض یہ کہ ہم دونوں میں بعد المشرقین ہے لیکن کبھی کبھی ہمارے ستارے ایک

Read more

 مگس، پروانہ اور امریکہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا سنا ہے آج کل یہ شعر امریکہ میں بچے بچے کی نوکِ زبان پر ہے۔ خاص طور پر واشنگٹن کے ایلیمنٹری اسکول کے اطفالِ گریزپا تو لہک لہک کر یہ شعر گنگناتے ہیں۔ ہم بھی لڑکپن سے یہ شعر سنتے آئے ہیں لیکن ایک مدت تک یہ معما حل نہ کر پائے کہ آخر مگس کو باغ میں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ چلو،

Read more

ستاروں سے پیچھے جہاں اور ہیں

ابنِ انشا نے سجنی سے بہانہ تو یہ کیا تھا کہ چین سے ایک مشہور ادیب آیا ہے، ذات کا مزاح نگار ہے، میرے سفرنامے کے جواب میں پاکستان کا سفرنامہ لکھنا چاہتا ہے، شام کو سفارت خانے نے اس کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے جہاں اس چینی ادیب سے میری ملاقات ہو گی اور میں اسے انشا پردازی کے کچھ گُر سکھاؤں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انشا جی، ایک سبزہ زار میں دوستوں

Read more

جنگِ تربوز

آج ہم آپ کو ”جنگِ تربوز“ کے بارے میں بتائیں گے۔ اس جنگ کا ذکر آپ کو ”مطالعۂ وطن“ کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ یہ جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ امریکہ اور پانامہ کے مابین ہوئی تھی اور اس کا محرک تیل نہیں، تربوز تھا۔ یہ پندرہ اپریل، اٹھارہ سو چھپن عیسوی کی ایک شام کا واقعہ ہے۔ پانامہ کے بازار سے ایک امریکی گزر رہا تھا۔ بیچارے نے تھوڑی

Read more

استاد رشید

ہمیں یقین ہے کہ ترک شیرازی نے کبھی انسانی ہیلی کاپٹر نہیں دیکھا ہو گا۔ خدا بخشے، یہ ہمارے استاد رشید، ملک خدا بخش کی ذاتی ایجاد تھی۔ شہر میں اس ایجاد کا بہت شہرہ تھا اور دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے تھے۔ بعد میں مقامی اسکولوں کے دیگر اساتذہ نے بھی ان کی نقالی کرتے ہوئے انسانی ہیلی کاپٹر تیار کیے مگر ان میں وہ بلند پروازی نہیں تھی۔ مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔

Read more

کھیل انڈوں کا ہوا

لڑنا لڑانا اچھی بات نہیں۔ اس کام میں دونوں فریق خسارے میں رہتے ہیں۔ ایک کی چونچ اور دوسرے کی دم گم ہو جاتی ہے۔ لڑائی سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دانا لوگ تو آنکھیں لڑانے سے بھی گریز کرتے ہیں کیوں کہ اس کھیل میں بھی دھول دھپے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لڑائی کی ایک صورت البتہ ایسی ہے جس میں عزت محفوظ رہتی ہے، خواہ آپ سادات ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک معصوم سی صورت ہے۔

Read more

روزے اور پکوڑے

قیدِ رمضان میں بھی یار لوگ کارِ شیطانی سے باز نہیں آتے۔ یہ ہوائی کسی دشمن نے نہیں، دوستوں نے اڑائی ہے کہ ہم پکوڑے کھانے کے شوقین ہیں اور اس درجہ شوقین ہیں کہ اگر کوئی پکوڑے جیسی ناک والی حسینہ اپنے ہاتھ میں پکوڑوں کی پلیٹ لیے ہمارے روبرو آئے تو ہم اس کی ناک پر ثمرقند و بخارا قربان کر دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ حسینوں اور پکوڑوں کے بارے میں ہمیں اپنی وارفتگی سے انکار

Read more

کیجیے چائے چائے کیوں

اس وقت ہمارے ہاتھ میں چائے کی پیالی ہے اور ہم اس میں طوفان اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا غالب کے الفاظ میں : بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے! ہم سخن فہم بھی ہیں اور غالب کے طرف دار بھی لیکن ہماری سخن فہمی کو کوئی تسلیم نہیں کرتا، ہماری تشریحات سن کر لوگ الٹا غالب کی بھی مخالفت کرنے لگتے ہیں، اس لیے ہم نے سر بزم، شعر فہمی کا دعویٰ کرنا ترک کر دیا ہے۔

Read more

مزاح اور ماحولیات

”ماحولیات“ سے کیا مراد ہے؟ اپنے اس سوال کی سادگی پر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ”ہوسٹل میں پڑنا“ یاد آ گیا ہے جس میں ایک ”ہونہار“ فرزند سے اس کا والد استفسار کرتا ہے : ”تمہارا ‘شخصیت’ سے آخر مطلب کیا ہے؟“ بات ادھوری رہ جائے گی اور اثر بھی زائل ہو جائے گا، اس لیے پدر و پسر کے مابین یہ مکالمہ پطرس بخاری ہی کے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہو گا: ”میں تو خدا سے یہی

Read more

ہم اور سائنس کا نوبل پرائز

خامہ خراب نے ایک عمر سائنس کے خارزاروں میں گزاری ہے۔ شعر و ادب کے گل زار میں تو اب آئے ہیں اور جب ہم نے اس کشت زعفران میں قدم رکھا تھا تو زمیں سے آنے لگی صدا: ’یہ سبز قدم کہاں سے آیا؟‘ ہمیں ادب کے میدان میں ٹانگ اڑانے کا چنداں شوق نہیں تھا۔ ہم تو سائنس کے طالب علم تھے۔ یہ خود کو ’طالب علم‘ تو ہم نے ازراہ انکسار کہا ہے وگرنہ یادش بخیر، اساتذۂ

Read more

رنگ غالب میں پیروڈی

بنام شبیر حسن شبیر حسن بے جوش! سلامت رہو۔ فقیر کا ایک سخن ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ دنیا دارالمکافات ہے اور انسان اشرف المخلوقات ہے۔ طبائع کے اعتبار سے انسان کی پانچ قسمیں ہیں : شریف الطبع، ظریف الطبع، حریف الطبع، کثیف الطبع اور نحیف الطبع۔ تم طبع ثالث کے مالک ہو کیوں کہ اوت ہو نہ بھوت ہو، تم راج پوت ہو۔ دامن کو حریفانہ کھینچتے ہو۔ سوپشت سے پیشۂ آبا سپاہ گری ہے، شمشیر بازی ہے۔ سخن

Read more

”کتے“ ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

کیا زمانہ تھا؟ کیسے کیسے کتے تھے؟ طبیعت شاعرانہ، مزاج لڑکپن سے عاشقانہ، خوئے بے نیازی ایسی کہ سرشام ہی دم جھاڑ کے، قصاب کی دکان سے اپنی محبوبہ (مادہ) کے مکان کی جانب روانہ ہو جاتے اور ساری ساری رات اس کی گلیوں میں شعر پڑھتے پھرتے تھے : ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا کبھی اس کو کاٹ لینا کبھی اس پہ بھونک دینا دولت دنیا کا انہیں کوئی لالچ نہیں تھا بلکہ کسی کو

Read more

سال نو مبارک

واہ واہ، سبحان االلہ! دو سو سال کا عرصہ گزر گیا مگر آج بھی یہ شعر تروتازہ ہے اور سال نو کے موقع پر اہل دل کو امید کا پیغام دیتا ہے : دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہمارے ایک دوست جو فیض کے مداح ہیں، ان کا اصرار ہے کہ یہ شعر فیض کا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ مان کر نہ دیے۔ ان

Read more

شاہین، کچھوا اور سرکاری ملازم

یہ بات شاید عام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہو کہ عالم رویا میں مشاہیر کی ایک دوسرے سے ملاقات رہتی ہے۔ میرے اشتیاق علمی کے پیش نظر رفتگاں، میرے حال پر بھی کرم فرماتے رہتے ہیں اور خواب کی دنیا میں ان کی آمدورفت رہتی ہے۔ کبھی میں ان کے افکار عالیہ سے مستفید ہوتا ہوں اور کبھی وہ میرے افکار پریشاں سے کسب فیض کرتے ہیں۔ شب رفتہ، حضرت علامہ خواب میں تشریف لائے تھے۔ آتے ہی

Read more

بچوں کا جاسوسی ادب۔ چند زاویے

جاسوسی ادب کو اہلِ نظر نے ہمیشہ نگاہِ کم سے دیکھا ہے اور اس وقت بھی ایک کم نظر ہی اس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہا ہے۔ مصائب اور بھی ہیں پر جی کے جانے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک بچپن کی تعریف اور حدود متعین نہیں ہوئیں، چناں چہ شیرخوار سے لے کر چالیس سالہ بزرگ تک بچہ سمجھ لیا جاتا ہے : چہل سالِ عمر عزیزت گزشت مزاجِ تو از حالِ طفلی

Read more

یونیورسٹی اور جادوگری

وہ شعر جو ایک دل جلے شوہر نے اپنی بیگم کے حضور پیش کیا تھا، ہم وہی شعر اپنے ایک دوست کی نذر کرنا چاہتے ہیں جو ”برگر فیملی“ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے اجداد کسی زمانے میں کلرکی کرتے تھے اور ڈبل روٹی کھاتے تھے۔ یہ برگر کھاتا ہے اور افسری کرتا ہے۔ ”موازنۂ مشرق و مغرب“ اس کا مرغوب موضوع ہے اور اس موضوع پر وہ غلط تلفظ کے ساتھ گھنٹوں اظہار خیال کر سکتا ہے۔ اس

Read more

کوڑا کرکٹ کا ورلڈ کپ

یک نہ شد دو شد۔ اس مہینے دو ورلڈ کپ منعقد ہوئے ہیں، ایک کرکٹ کا اور دوسرا کوڑا کرکٹ کا۔ کرکٹ کے ورلڈ کپ کا نظارہ تو ساری دنیا نے کیا ہے لیکن کوڑا کرکٹ کے ورلڈ کپ کو کسی نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ کرکٹ کے فائنل میچ میں گو ہماری قومی ٹیم شریک نہیں تھی مگر بغض ہمسایہ میں ہم تمام وقت ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے رہے اور حریف دشمن کے حق میں دعائیں

Read more

غبارے خاطر – پیروڈی

قلعہ کہنہ قاسم باغ 21 نومبر 2023ء مارا بغمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت خود سوئی ماندید و حیا را بہانہ ساخت صدیق کرم! آپ سے مخاطبت تو ایک بہانہ ہے کہ خوئے بدرابہانہ بسیار۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ”غبارے خاطر“ (Balloon Heart) کے عنوان سے ایک نسخۂ مکاتیب، تالیف کر رہا ہوں۔ یہ خامہ فرسائی اسی زنجیر خیال کا حلقۂ اول ہے۔ دیکھیے، ”نسخہ“ اور ”تالیف“ کی رعایت سے غالب خستہ کا کیا شعر یاد آیا ہے

Read more

اونٹ، انگریز اور نور جہاں

اونٹ کا کینہ مفت میں بدنام ہے۔ اس معاملے میں انگریز بھی کچھ کم نہیں۔ انگریز کا کینہ یہ ہے کہ اس کی آتش انتقام ہی نہیں بجھتی، سو انہوں نے اپنے کتوں کو، ہمارے شیروں کے ناموں سے پکارا۔ یہ کینہ پروری، قدر ناشناسی اور ستم ظریفی کی انتہائی مکروہ صورت ہے۔ صاحبو، ہم کینہ پرور نہ سہی لیکن قدر ناشناس اور ستم ظریف ضرور ہیں۔ تاریخ میں نور جہاں نام کی ایک ملکہ گزری ہیں جس نے شہزادے

Read more

کالی بلی (طنزومزاح)

اسی زمانے میں ایک رسالہ ”خامہ خرابیاں“ کے نام سے شائع ہوتا تھا جس کے مدیر جناب خامہ خراب تھے۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی بیشتر تحریریں ان کے اپنے رشحات قلم کا نتیجہ ہوتی تھیں۔ ان کے ہاں تخلیقی وفور حد درجہ تھا، چناں چہ کبھی کبھی تو ایک مہینے میں دو شمارے بھی منظر عام پر آتے تھے۔ جناب خامہ خراب کا ذوق تخلیق کسی ایک صنف کا پابند نہ تھا۔ ان کا اشہب قلم ہر میدان

Read more

شرارت یا ضیافت؟ ہالووین ڈے کی ایک طفلانہ سرگرمی

ہم خاصی زود رنج قوم ہیں۔ جون کے مہینے میں، کسی تپتی دوپہر میں کوئی طفل شریر اگر ایک بار دروازے کی گھنٹی بجا کر فرار ہو جائے تو ہم پورا مہینہ، اپنے قیلولے قربان کر کے، دروازے کے پیچھے چھپ کر اس نادیدہ بچے کا انتظار کرتے ہیں کہ تاکہ اسے گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے سکیں۔ جشن آزادی کے روز کوئی بچہ ترنگ میں آ کر باجا بجا دے تو محلے کے وہ بزرگ بھی جنہیں

Read more

چین کی سپر گائے

ہے خبر گرم اور خبر محض گرم ہی نہیں، تازہ اور خالص بھی ہے۔ خبر یہ ہے کہ ادھر ہم جب لوگ مقدس گائے کی پرستش میں مصروف تھے، ادھر چین میں ایسی گائے کی ایجاد پر تجربے ہو رہے تھے جو دودھ کی نہریں بہا سکتی ہو۔ آخر یہ تجربے کامیاب ہوئے اور چین نے ایسی ”سپر گائے“ تیار کر لی ہے جو ایک سال میں اٹھارہ ٹن دودھ دے سکتی ہے اور جسے چینی، شیر مادر کی طرح

Read more

طارق محمود مرزا کے اسفار اربعہ

زمانۂ قدیم سے یہ روایت ہے کہ ہر بوالہوس، حسن پرستی اشعار کرتا ہے۔ زمانۂ حال میں اس سے ملتی جلتی ایک نئی رسم نکلی ہے کہ ہر ’بوالقلم‘ سفر نگاری اختیار کرتا ہے۔ احوال واقعی یہ ہے کہ آج کل سیاح، کاندھے پر بیگ اور کان پر قلم رکھ کر صبح گھر سے نکلتا ہے اور شام کو ایک سفرنامہ لے کر واپس لوٹتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمحۂ موجود میں وطن عزیز کو دو خوف ناک مسائل

Read more

انسانی کتے

ہم یہ بات تسلیم کرنے پر تیار ہیں کہ ایک انسان کے دل میں یہ تمنا زندہ ہو کہ وہ بندر بن کر کسی درخت کی شاخ پر الو کے برابر جا بیٹھے یا شاخ در شاخ چھلانگیں لگا کر جشن طرب مناتا پھرے لیکن یہ بات تو حضرت ڈارون کو بھی منظور نہ ہو گی کہ کوئی انسان، سگ خانہ بننے کی خواہش کرے تاوقتے کہ وہ کسی کا چھوٹا بھائی ہو اور اس نے فارسی بھی پڑھ رکھی

Read more

توندل اور کان کنی

’ توندل‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ فارسی میں اسے ’چاق‘ کہتے ہیں اور عربی میں اس کے مترادف کے طور پر ’سمین‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارے، ہم تو آغاز میں ہی لفظی موشگافیوں میں ایسے الجھ گئے ہیں جیسے ایچ ای سی سے منظور شدہ جریدے کے لیے تحقیقی مقالہ رقم کر رہے ہوں اور کسی ایسے ’مقابلۂ علم‘ میں شریک ہوں جس میں مقالوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے، اس لیے تشبیب سے

Read more