تاثیر مصطفیٰ بھی رخصت
یہ میرا جنگ کے نیوز روم میں باقاعدہ پہلا دن تھا 1991 فروری کی پانچ تاریخ تھوڑا سا گھبرایا کیونکہ زیادہ تجربہ نہیں تھا اور ادارہ بڑا۔ کہانیاں قصے بڑے۔ صرف اتنا تھا مجھے سکھانے والے بھی معمولی نام نہیں تھے۔ ان کا مجھے منتقل کیا گیا اعتماد شاید آج بھی کبھی شرمندگی کا باعث نہیں بنتا۔
جنگ کے نیوز روم میں مختلف مزاج کے لوگ تھے۔ میں نے ڈیسک پر بیٹھے جب بڑے دائرے کے ڈیسک والوں پر نگاہ ڈالی وہاں ایک ہم عمر نوجوان سے آنکھوں ہی آنکھوں میں واقفیت بن گئی۔ اس کے انچارج بہت سخت اور اصولی باتیں کرتے مجھے بڑے عجیب لگے۔ بظاہر اس نوجوان سے ہمدردی ہو گئی۔ آنے والے دنوں میں نوجوان سے دوستی بھی ہو گئی مگر اس انچارج سے کوئی تعلق نہ بن سکا۔ تاثیر مصطفیٰ کی شخصیت بڑی متحرک تھی بعد کے دنوں میں ان کے جوہر مزید کھل کے سامنے آئے کہ وہ ایم اے میں گولڈ میڈلسٹ تھے اچھے مقرر اور زمانہ طالب علمی میں سٹوڈنٹ لیڈر رہ چکے ہیں۔ مجھے یہ بات بھی متاثر نہ کرسکی۔
پھر ایک ایسا موقع آیا۔ ان کے صحافتی گروپ جسے دستور کا نام دیا جاتا ہے اس نے میری پریس کلب کے انتخابات میری حمایت کر دی۔ ان کی سیاست دائیں بازو کی تھی میں اس کے برعکس بائیں بازو سے وابستہ رہ چکا تھا اس لئے ان سے گریز کرتا تھا کیونکہ میرے مزاج سے مختلف تھے۔ تعلقات کی نوعیت بدل گئی اب اچھے مراسم ہو گئے۔ میں نے 2002 اپریل میں جنگ اس وقت چھوڑا جب میرے بڑے بھائی کی وفات کو چند روز گزرے تھے۔ درحقیقت ادارہ تبدیل کرنے کا عمل پہلے سے چل رہا تھا۔ اس دوران تاثیر صاحب سے میری یاد اللہ کافی بڑھ چکی تھی اور وہ میرے نظریاتی حوالے کے باوجود مجھے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے جو کہ میرے لئے باعث تعجب ہوتا تھا۔ میرے مرحوم بھائی سے بھی ان کی اچھی شناسائی تھی۔ ان کا تعارف بھی بائیں بازو کے نمایاں لوگوں میں سے تھا۔ ایک موقع پر دونوں نے کارکن صحافیوں کے حقوق کی جد و جہد میں مل کر کردار ادا کیا۔ تاثیر صاحب کو عموماً شاہ جی کے نام سے پکارا جاتا۔ ان کی سماجی سرگرمیوں پر نیوز روم میں اکثر تبصرے ہوتے لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی کا مسئلہ حل کرنے میں مشغول ہوتے۔
تاثیر صاحب کے لہجے کی سختی تعلقات کی مضبوطی کے ساتھ ہی ایک نرم خو اور بہترین ہمدرد کی صورت اختیار کرچکی تھی۔ جنگ چھوڑنے کے بعد کہیں ملاقات ہوجاتی تو شاہ جی کے تاثرات میں واضح طور پر اپنائیت اور چھوڑ جانے سے پیدا ہونے والی تلخی نظر آجاتی۔ ہمیں یہ ماننے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ایک بہترین رشتے میں پائی جانے والی خصوصیات شاہ جی میں موجود تھیں۔ وہ دین کے قریب تھے، ہم ذرا گریز کرنے اور دور بھاگنے والے تھے۔ چند برس پہلے کی بات ہے، ہم اہل ہدایت میں شامل ہو گئے۔ شاہ جی نے مجھے مسجد میں دیکھا، پہلے حیران ہوئے، پھر بے ساختہ کوئی بھپتی کس دی۔ مجھے دکھ ہوا کہ جب ہم لوگ اس سے دور تھے یہ لوگ ہمیں باتیں بناتے تھے۔ اب اس حلقے میں داخل ہوئے تو اجنبیوں جیسا برتاؤ ہونے لگا۔ خیر ایسا کچھ اور لوگوں نے بھی کیا لیکن جلد ہی شاہ جی مجھے اپنے بہت قریب لوگوں میں شمار کرنے لگے۔ یہاں میں پہلی بار ان کے سلوک سے متاثر ہو گیا۔
وہ مسجد میں ملیں یا سڑک پر بہت اہتمام اور احترام کے رشتے میں بندھے۔ میرے بڑے بیٹے سے بہت متاثر تھے اس سے متعلق ضرور پوچھتے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا انہوں نے زندگی کے بہت ذاتی تجربات کا تبادلہ کیا اور مجھ سے چند باتوں میں مشاورت یا کہہ لیں ہدایت طلب کی میرے لئے نہایت تعجب کی بات تھی۔ شاہ جی کی یہ بات بڑی مختلف لگی کہ دیر سے ہدایت پانے والے جلد مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تم اور تمہارا بیٹا پیش قدمی کر رہے ہیں۔ میں حیران ہوتا کہ شاہ جی کبھی ہمارا تمسخر اڑانے سے گریز نہ کرتے تھے اور اب مجھے کن نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ مردم شناس بھی تھے۔ انہوں نے خود کو ہر دم متحرک اور مصروف رکھا۔ یہاں تک کہ کتنے دن بیت جاتے ملاقات بھی نہ ہو پاتی اور پھر آج کا دن بلکہ رات ڈھلے موبائل فون کھولنے پر یہ پیغام پڑھ کر دل کو تکلیف پہنچی کہ تاثیر مصطفیٰ صاحب رخصت یوگئے۔ میں یک دم 33 سال پیچھے لوٹ گیا۔ بس دعا ہے کہ شاہ جی اپنا آخری سفر بہت سکون کے ساتھ مکمل کریں۔ بے شک ہم سب معافی کے طلب گار ہیں۔ بیشک وہ ذات بڑی رحم اور معاف کرنے والی ہے۔



