بادشاہ ننگا ہے


گئے وقتوں کی بات ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ایک بڑے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ بادشاہ حکمرانی کے کسی طور طریقے سے واقف نہیں تھا۔ اس کا بادشاہت کے عہدے پر پہنچنا محض حادثاتی تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ اس ملک کا سابقہ بادشاہ لاولد اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ملکی رواج کے مطابق ملک کے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آنے والی صبح جو شخص سب سے پہلے دارالحکومت میں داخل ہو گا تاج شاہی اسی کے سر پر سجا دیا جائے گا۔ چنانچہ اگلے دن شہر میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص کو بلا کسی تحقیق کے تخت شاہی پر بٹھا دیا گیا۔

نیا بادشاہ جسے تعلیم، ادب، قانون، زراعت، صنعت و حرفت، اور کار حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا نے گزشتہ بادشاہ کی کابینہ کی معاونت ساتھ کاروبار حکومت چلانا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دنوں بعد اسے احساس ہوا کہ اس کی کابینہ، حکومتی اہلکار اور مملکت کے کچھ دیگر اہم لوگ اس کو وہ اہمیت نہیں دے رہے جو کہ بادشاہت کا خاصہ ہوتا ہے۔

بادشاہ کو اپنی کمزوریوں کا احساس تھا چنانچہ اس نے ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت اپنی کابینہ کے وزیروں، درباریوں اور ملک میں موجود ہر اس دل عزیز اور مقبول شخصیت کے ساتھ سخت ترین رویہ اختیار کر لیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس طریقے سے ان پر اپنی ہیبت اور جبروت کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ خوش قسمتی سے کچھ ایسا ہی ہوا کیونکہ صدیوں سے بادشاہوں کے ظلم سے پستی ہوئے عوام میں غلامی کی ایسی عادت پڑ چکی تھی کہ ان میں کسی مزاحمت کی سکت ہی نہیں رہی تھی۔

ایک دن بادشاہ نے حسب عادت اپنے ایک وزیر کی بھرے دربار میں سخت بے عزتی کی اور اسے سات دن کے لیے اپنے ہی گھر میں قید کر دیا۔

دوران حراست معتوب وزیر میں پہلی بار اس کی دبی اور کچلی ہوئی غیرت نے سر اٹھایا اور اس نے بادشاہ کو بھرے دربار میں سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں اس کے دماغ میں ایک انتہائی اچھوتا منصوبہ آیا جس کے لیے اسے کابینہ کے دیگر ارکان اور تمام درباریوں کی مدد کی ضرورت تھی۔

چنانچہ دوران سزا ہی اس نے اپنے تمام ساتھی وزراء اور دیگر اہم درباری جو کہ اس سے ملنے کے لیے آ رہے تھے کے ساتھ اپنے منصوبے پر مشاورت کے بعد اس کو عملی جامہ پہنانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔

سزا ختم ہونے کے بعد اس نے دربار میں پہنچ کر بادشاہ کی تعریف میں دریا بہا دیے۔ اگلے دن اس نے بادشاہ سے کہا کہ دوران حراست اس نے بادشاہ کے لیے ایک نایاب اور بیش قیمت لباس تیار کیا ہے جو کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں پہنا۔ بادشاہ نے اظہار مسرت کرتے ہوئے اس لباس کو پہننے کی خواہش کا اظہار کیا چنانچہ وزیر نے اسے ایک خالی تھیلا دیا اور بادشاہ سے درخواست کی کہ وہ اس میں موجود لباس کو زیب تن کر لے۔ بادشاہ نے تھیلے کو دیکھتے ہوئے کہا یہ تو خالی ہے۔

وزیر نے جواب دیا کہ اگر جان کی امان ہو تو اسے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ اس میں لباس موجود ہے اور اگر بادشاہ کو کوئی شبہ ہے تو وہ دربار میں موجود دیگر درباری حضرات سے اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ بادشاہ کے استفسار پر تمام لوگوں نے بیک زبان لباس موجود ہونے کی کچھ اس بھرپور انداز میں تائید کی کہ بادشاہ کو اس لباس کے وجود پر مکمل اعتماد ہو گیا۔

چنانچہ اگلے دن جب بادشاہ اس خیالی لباس کو پہن کر دربار میں آیا تو وہ درحقیقت بے لباس تھا۔ لیکن بادشاہ کے وزیروں اور دیگر درباریوں نے بادشاہ کو یہ باور کرایا کہ وہ ایک شاندار اور نایاب لباس پہنے ہوئے ہے۔ بادشاہ نے اسی حالت میں دربار کی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران اس سے بہت سے اعلی سرکاری اہلکاروں کی ملاقات کے علاوہ سائلین کی ایک بڑی تعداد نے بادشاہ کے حضور حاضری دی لیکن سال ہا سال کی غلامی کی وجہ سے کسی ایک شخص کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ بادشاہ کو یہ بتاتا کہ وہ بے لباس ہے۔

عوام الناس کے اس رد عمل کو دیکھتے ہوئے بادشاہ کو مزید یقین ہو گیا کہ وہ ایک بیش قیمت اور نایاب لباس پہنے ہوئے ہے۔ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد جب بادشاہ حسب عادت محل کی بالکنی پر گیا تو محل کے باہر کھڑے ایک چھوٹے بچے نے اسے دیکھتے ہی زور سے کہا کہ بادشاہ ننگا ہے۔ بچے کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کے فوراً بعد سڑک پر گزرتے ہوئے ہر شخص کی زبان پر محض ایک ہی بات تھی کہ بادشاہ ننگا ہے۔

لیکن بادشاہ جو کہ اپنے جاہ و جلال اور طاقت کے نشے میں مست تھا نے اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جو کہ سر عام اس کے بے لباس ہونے کا ذکر کر رہے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بادشاہ کے بے لباس ہونے کا سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا اور عین ممکن ہے کہ یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہو۔

واضح رہے کہ اس کہانی کا نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور ملک کے کسی اور ادارے سے کوئی تعلق یا مشابہت نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments