پاکستانی شہروں میں غیر معیاری میونسپل سروسز


میونسپل سروسز یا سٹی سروسز سے مراد وہ بنیادی خدمات ہیں جو عوام ریاست سے ان ٹیکسوں کے بدلے میں فراہم کرنے کی توقع رکھتے ہیں جو شہری ادا کرتے ہیں۔ بنیادی میونسپل سروسز میں صفائی، صاف پانی، سڑکیں، پبلک لائبریری، اسکول ایجوکیشن، فوڈ انسپیکشن، فائر ڈیپارٹمنٹ، پولیس، ٹریفک مینجمنٹ، ایمبولینس سروس، اور محکمہ صحت کے دیگر مسائل اور نقل و حمل شامل ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی میونسپلٹی کے لیے دستیاب میونسپل سروسز کا انحصار شہر یا قصبہ، اس کی تاریخ، جغرافیہ، میونسپل قوانین، اور طلب و رسد پر ہوتا ہے۔

ریاست کی طرف سے فراہم کردہ سروسز ایک ملک سے دوسرے ملک یا ملک کے اندر مختلف علاقوں میں بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔ میونسپل سروسز مرکزی یا مقامی حکومتوں یا بلدیہ کے کسی بھی محکمے کے ذریعے براہ راست چلائی جا سکتی ہیں یا کسی تیسرے فریق کے ساتھ ذیلی معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان سروسز کی فراہمی میں مرکزی حکومتوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں سمجھی جاتی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ معاہدے یا کمرشل سروسز بھی اس سیکٹر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم تمام عالمی ادارے اور ترقی یافتہ ممالک میونسپل سروسز یا سٹی سروسز کی فراہمی میں مقامی حکومتوں کے کردار پر متفق ہیں جو دنیا بھر کے مختلف حصوں و ممالک میں کامیابی کے ساتھ نافذالعمل ہے۔ مقامی حکومتیں بنیادی سروسز کے علاوہ اکثر بجلی، گیس اور کیبل ٹیلی ویژن جیسی اضافی سہولیات کے لیے بھی کام کرتی ہیں یا معاہدے کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ ممبئی میونسپلٹی لائٹ ہاؤس سروس بھی فراہم کرتی ہے۔ بعض ممالک میں لوکل باڈیز کو مقامی سطح پر قانون سازی اور پالیسی بنانے کا بھی اختیار حاصل ہوتا ہے جو مرکزی حکومتوں کے متعین کردہ اصول و ضوابط کے تابع عوام کو معیاری میونسپل سروسز کی فراہمی کے لئے قانون سازی کرتی ہیں۔

اسی طرح قابل عمل پالیسیاں مرتب کرنا بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں معیاری اور مسلسل میونسپل سروسز کی فراہمی ایک چیلنج بن چکی ہے جس کے لئے مختلف ممالک مختلف انتظامی حکمت عملی کا نفاذ کرتے ہیں تاکہ میونسپل سروسز کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شہری آبادیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو غیر معیاری میونسپل سروسز کا باعث ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں میونسپل سروسز کی فراہمی مقامی حکومتوں یا میونسپل اداروں کی ذمہ داری ہے جو متعین اور واضح فرائض کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن اس کے بر عکس پاکستان میں آئینی و قانونی ابہام اور غیر متعین ذمہ داریوں کی وجہ سے میونسپل سروسز کا شعبہ انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں مقامی حکومتوں کا موثر نظام متعارف نہیں کروایا جا سکا جو معیاری میونسپل سروسز کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

میونسپل سروسز کے حوالے سے سرکاری و غیر سرکاری اداروں، این جی اوز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، سول سوسائٹی یا کمرشل سیکٹر کے کردار سے متعلق واضح قانون سازی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس بارے میں مرکزی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مختلف وزارتوں اور حکومتی اداروں کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کا فقدان ہے۔ میونسپل سیکٹر میں منصوبہ بندی، ترقیاتی سکیموں اور بھرتیوں کے حوالے سے قومی و صوبائی ممبران اور مقامی حکومتوں کے عہدیدار ایک صفحے پر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن رہتا ہے۔

عصر حاضر میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح میونسپل سروسز کا شعبہ بھی پروفیشنل اپروچ کے ساتھ چلایا جانا انتہائی ضروری ہے جس کے لئے جدید انفراسٹرکچر و ٹیکنالوجی کا استعمال، سٹاف کے لئے جدید ٹریننگ، طلب اور رسد کے مطابق انتظام و انصرام، اور عوام و میونسپل سٹاف کے لئے علم و آگاہی شامل ہیں۔ اسی طرح مانیٹرنگ، شفافیت اور احتساب کے لئے بھی قابل عمل قانون سازی اور منصوبہ بندی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کا میونسپل اداروں پر اعتماد بحال کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ لوگ اپنے بل اور ٹیکس بروقت ادا کریں جو مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔

مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عالمی اداروں کی تجاویز اور عالمی معاہدوں کو قانون سازی اور منصوبہ بندی کا حصہ بنائیں، مقامی حکومتوں کا موثر نظام قائم کریں اور عالمی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے میونسپل سیکٹر میں ضروری اور مناسب اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ پاکستانی عوام بروقت ٹیکس ادا کریں، عالمی معیار کی میونسپل سروسز سے مستفید ہوں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔

 

Facebook Comments HS