دسمبر 24۔ مہاجر یوم ثقافت


پنجاب کے مشہور شہر سے دوست کی کال آئی کہنے لگا 24 دسمبر ہے ثقافت کا دن مبارک اور سنا کیا حال ہیں تیرے لئے سیدی جون کا شعر ہے
ٰیہ سندھی اور مہاجر ہڈ حرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں

شعر سنتے ہی میرے منہ سے بے اختیار گالی نکلنے لگی، بہت مشکل سے خود کو روکا لیکن میری آدھی بات پوری پہنچ چکی تھی۔ وہ چلایا مجھے کیوں کہہ رہا ہے صد فیصد مہاجر کا شعر ہے تجھے سنانے کے لئے کل سے رکا ہوا تھا۔ میں نے کہا دیکھ تو پنجاب کے جس شہر سے ہے اسے ہم جس نام سے یہاں پکارتے ہیں میں لکھ کر ثقافت کے دن کو گناہ میں نہیں ڈالنا چاہ رہا۔

چھوڑ ناراض کیوں ہوتا ہے بس یہ سوچ کہ منہ میں گٹکا و ماوا بھرا ہوا ہو اور مہاجر آواز لگانا چاہ رہا ہو گا منہ اوپر کر کے آلو لے لو، توری لے لو۔ گٹکے، ماوے کی وجہ سے ہر وقت منہ اوپر رہے گا اور سبزی نیچ و نیچ بک جانی ہے۔ یار تو اب زیادتی کر رہا ہے۔

ارے ناراض نہ ہو میں نے تھوڑی جون کی فرمائش ہے۔ ہونگے یار اپنی کسی ترنگ میں ان کی جب ہٹی ہوتی ہے تو وہ شیعہ ملا نہیں چھوڑتے، جانے دے بات کوئی اور ہوگی۔

بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر میں سوچتا رہا کہ یا ر عجیب بات ہے قوموں کی پہچان ان کا لباس، زبان، ادب آداب، لہجہ ہوتا ہے اور مہاجروں کی پہچان دیگر قوموں میں محض گٹکا و ماوا ہو کر رہ گئی ہے، اک دوست کہتا ہے یار اس گٹکے، ماوے سے پہلے پان ہوا کرتا تھا ہم پان جیسی بہترین تہذیب کو منتقل نہیں کرسکے، تو اس کی جگہ گٹکے و ماوے نے لے لی۔ اب فضا ایسی بن چکی ہے کہ اس سے انکار کیسے کریں چاروں طرف لاکھوں کیبن اور ان پہ بکتا رجسٹرڈ و نان رجسٹرڈ گٹکا، ماوا، سوکھا و گیلا کروڑوں روپے کی روزانہ کی معیشت بن چکا ہے کیسے انکار کریں اس سے۔

اس پریشانی میں فیصل کو فون کیا وہ ناظم آباد کے اطراف رہتا ہے سو وقت طے کر کے اس کے پاس پہنچا اور قریبی ہوٹل میں چائے کے لئے بیٹھ گئے۔ کافی لوگ تھے میں نے نوٹ کیا کہ کافی سارے لوگ ہر تھوڑی دیر کے بعد منہ اوپر کرتے ہیں پھر انتہائی ادب سے منہ نیچے کرتے ہیں، فیصل یہ کیا ہے! ؟ تو اس نے بتایا کہ یہ حضرات گٹکا و ماوا نوش فرما رہے ہیں اور پیک (گٹکا و ماوا کا وہ عرق جو تھوک کی آمیزش سے اک دلفریب مشروب بن جاتا ہے ) اسے بچا رہے ہیں۔

میں نے سب کو سلام کیا اور اپنا سوال رکھا تو اک صاحب کشف نے اشارے سے کچھ کہا سب سمجھ گئے کہ وہ پیکنا چاہ رہے ہیں۔ فیصل نے فوراً کہا لے بھئی ایمی وہ بات جو پیک پھینک کر کی جائے اس سے اہم بات کوئی نہیں ہو سکتی تیرا جواب آنے کو ہی ہے۔ میں بہت متجسس ہوا تو صاحب کشف نے کہا کہ ابے کیا ہو گیا ماوا کا ذکر تو قرآن میں آیا ہے تم نے نہیں پڑھا جنت الماویٰ۔

یہ سن کر تو میرے منہ سے گرم چائے فوارے کی طرح نکل پڑی۔ میں نے فوراً آگے بڑھ کر اس عظیم المرتبت شخص کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور بڑی ہمت سے کہا قبلہ کیا کہنے۔ وہ دوسرا گٹکا منہ میں رکھ چکے تھے اس لیے جواب میں صرف ہممم کہا یعنی مزید گٹکا ضائع نہیں کر سکتے اور پیک بنانے میں مصروف عمل ہو گئے۔ فیصل۔ یہ جواب تھا؟ یا نیا کٹا؟

خیر میں نے ان تمام احباب سے کہا کہ دیکھئے یہ مسئلہ گمبھیر ہوتا جا رہا ہے اس بابت کچھ سوچئے تہذیب کو، کسی طرح بچائیے اپنے علاقوں سے اس کا بائیکاٹ کیجیے۔ سب مجھے بھرے منہ سے گھورتے رہے اور زیرلب پیک رینگتی ہوئی باہر کو آنے لگی۔ اسی اثناء میں اک صاحب عمامہ پہنے داخل ہوئے فیصل نے کہا اس سے پوچھ!

میں نے مدعا عرض کیا تو کہنے لگے میٹھے میٹھے بھائی (مجھے لگا انہوں نے مجھ پہ چیونٹیاں چڑھتی ہوئی دیکھ لیں ) چپ رہنا خدا کی نعمت ہے انسان فضول گوئی سے محفوظ رہتا ہے اور فضول گئی سے پیدا ہونے والے گناہوں سے دور اور ثواب کے قریب رہتا ہے۔ فوراً جیب سے کتابچہ نکالا چپ کے 100 مدنی پھول، مجھے تھمایا اور پھر دوسرے جیب سے گٹکا نکال کر کھایا اور چپ تھیراپی کی طرف گامزن ہو گئے۔

میں نے فیصل سے کہا یار کیا واقعی گٹکے، ماوے کی وجہ سے ہم اس چپ کی نیکی حاصل کر رہے ہیں، سگریٹ سلگا کر کہنے لگا دیکھ یار سگریٹ سے تو یہ ممکن نہیں، اس لیے اس بات کو مان لیتے ہیں۔ پھر کہنے لگا دور کے ماموں ہیں ان کے ساتھ مسجد میں تھا جمعہ کی نماز میں تو ماموں نے اک کاغذ پہ لکھ کر دیا کہ فیصل جب امام صاحب بیان کے لئے آئیں تو بتا دینا میں نے اسی کاغذ پہ لکھا کیوں؟ لکھنے لگے کہ گٹکا پیکنا ہے نعرۂ رسالت اہتمام سے لگتا ہے۔ یا اللہ۔ کس قسم کے گٹکے تھے وہ! یار ماموں کو کچھ نہ کہہ بہت اللہ والے تھے۔ ماوا کو باقاعدہ جنت الماوی سمجھ کر کھاتے تھے اور ہمیشہ ماویٰ سورہ نجم کی آیت نمبر 15 پڑھ کر کھاتے تھے۔

کون لوگ ہو یار۔ میں چلتا ہوں۔ بائیک اسٹارٹ کی او راسی فکر میں سوچتا ہوا راستے ماپتا رہا، ذہن بوجھل تھا گھر آتے ہی سو گیا فجر میں اٹھا، نماز کے بعد طاق عدد میں قریبی کیبن سے گٹکے و ماوے لئے نیاز دی اور بانٹنے کو اٹھ ہی رہا تھا کہ امام صاحب و موذن صاحب نے کہا بسم اللہ، ماشاء اللہ۔ اور پھر پتہ ہی نہیں چلا نیاز بٹ گئی۔

آج 24 دسمبر ہے مہاجروں کا ثقافتی دن ہے میں پینٹ شرٹ پہنے سڑک پہ چلتے پھرتے لوگوں میں احترام کے ساتھ گٹکا و ماوا بانٹ رہا ہوں، ذہن میں بار بار وہ ماموں یاد آرہے ہیں، اور سورہ نجم۔

Facebook Comments HS