ہائر ایجوکیشن کمیشن، سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی اور یونیورسٹی کے فٹ بال اساتذہ

پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح یونیورسٹیوں کی تعلیم موجود ہے اور اب تقریباً ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی موجود ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں لاکھوں کی تعداد میں طالب علم اور محققین موجود ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ بھی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد مشرف کے دور تک ملک میں جو یونیورسٹیاں تھیں ان کی تعداد کم تھی اور ان کا معیار بہت بہتر تھا۔ ان یونیورسٹیوں کو چلانے کے لیے اسلام آباد میں ایک ادارہ تھا جیسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کہا جاتا تھا۔
یہ کمیشن یونیورسٹیوں کی مالی ضروریات کا ذمہ دار تھا اور یونیورسٹیوں کی معاملات دیکھتا تھا۔ صوبوں کے گورنروں کو بطور یونیورسٹیوں کے چانسلر کے لامحدود اختیار ات حاصل ہوتے تھے مگر بہت ہی شاندار لوگ گورنر اور چانسلر ہوا کرتے تھے وہ یونیورسٹیوں کی بہتری کے لیے کوششیں کرتے رہتے تھے اور پاکستان میں یونیورسٹیوں کا انتظام جاری تھا۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور ان کو کسی سے کوئی شکایت نہیں تھی۔
پھر مشرف کے دور میں جہاں بہت کچھ بدلا وہاں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ختم کر کے اس کی جگہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور پاکستان میں نئی یونیورسٹیوں کا جال بچھایا گیا جو کہ یقیناً ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مشرف کے دور میں امریکی امداد سے ایک معقول رقم یونیورسٹیوں کو دی جانے لگی۔ جس سے یونیورسٹیوں میں خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ نئی یونیورسٹیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہزاروں کی تعداد میں پی ایچ ڈی کے بیرون ملک اسکالرشپس دیے گئے۔
یونیورسٹیوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے اربوں روپے دیے گئے اور دنیا کی یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہو رہا تھا اس جیسے وسائل بھی مہیا کیے گئے۔ اس دور میں انجینئرنگ اور سائنس کے شعبہ جات پر خصوصی مہربانی کی گئی اور ہر یونیورسٹی میں بے شمار لیبارٹریاں بنائی گئیں۔ اسی دور میں ایک اور کوشش بھی کی گئی کہ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ٹینیور ٹریک سسٹم پر بھی اساتذہ کو بھرتی کیا گیا جس کے لیے پہلے سے موجود بی پی ایس اساتذہ کے مقابلے میں بہت زیادہ تنخواہ رکھی گئی اور ساتھ بہت ساری شرائط بھی عائد کردی گئیں۔
جبکہ اس پورے عرصہ میں جب ہر طرف یونیورسٹیوں پر عنایات ہو رہی تھیں وہاں یونیورسٹیوں کے ان ہزاروں اساتذہ کو جو بی پی ایس سسٹم کے تحت ان یونیورسٹیوں میں کام کر رہے تھے ان کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ یوں یونیورسٹیوں میں دو طبقات نے جنم لیا۔ ایک طبقہ جو ٹی ٹی ایس کا تھا۔ ان کے لیے یونیورسٹیوں میں ملازمت کے مواقع آسان کر دیے گئے۔ ان کے لیے دوران ملازمت ترقی کا حصول سہل رکھا گیا جبکہ ان کے لیے وہ تمام کڑی شرائط تقریباً ختم کردی گئیں جو شروع میں لگائی گئی تھیں۔
جبکہ ان کے مقابلے میں بی پی ایس پر کام کرنے والے اساتذہ کے لیے ٹائم سکیل پروموشن کا کوئی نظام ہی واضح نہیں کیا گیا۔ حالانکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایکٹ میں یہ شامل تھا کہ وہ یہ کام کریں گے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی تعداد بھی بہت زیادہ بڑھ گئی مگر یہ ہزاروں اساتذہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی سے محروم رہے۔ اب پاکستان کی یونیورسٹیوں میں صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں ایسے اساتذہ ہیں جو پی ایچ ڈی کر کے بھی بطور لیکچرر پندرہ بیس برسوں سے ایک ہی گریڈ میں کام کر رہے ہیں۔
جبکہ ان کے شاگرد کب کے پروفیسر بن گئے ہیں۔ ان کے وہ شاگرد جو دیگر شعبوں میں چلے گئے ہیں وہ بھی چار سے پانچ مرتبہ ترقی کے زینے چڑھ گئے ہیں۔ یہ ہزاروں اساتذہ برسوں سے اپنے اس جائز مطالبے کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے رکھتے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہزاروں خطوط لکھے گئے۔ سینکڑوں بار احتجاج کیا گیا۔ ان اساتذہ نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے دروازوں پر بھی کئی مرتبہ دستک دی اپنی فریاد سنائی۔ مگر ان کی فریاد کسی نے نہیں سنی۔
یہ اساتذہ اس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ یہ پاکستان کے سب سے قابل لوگ ہیں۔ ان کے پاس جو ڈگریاں ہیں ان کی بیرون ملک بہت قدر ہے۔ مگر مملکت خداداد میں ان کو گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل اپنے حق کے لیے ذلیل کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں اساتذہ اسی ارمان میں ریٹائرڈ ہو گئے کہ انہیں اگلا گریڈ نصیب ہو گا۔ مگر یہ جائز مسئلہ حل ہی نہیں ہو رہا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اپنے ملازمین کے لیے ٹائم سکیل پروموشن موجود ہے، یونیورسٹی کے دیگر ملازمین کے لیے ٹائم سکیل پروموش موجود ہے۔
ٹی ٹی ایس پر جو اساتذہ ہیں ان کے لیے ٹائم سکیل پروموشن موجود ہے۔ یونیورسٹی کے بی پی ایس اساتذہ کے علاوہ پاکستان میں سب ملازمین کے لیے یہ سسٹم موجود ہے۔ مگر یہ حق ان اساتذہ کو دیتے ہوئے جانے کیوں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جان جاتی ہے۔ اگر یونیورسٹیوں کے بی پی ایس اساتذہ کے لیے جو نظام ہے کہ وہ ہر دفعہ اگلے گریڈ کے لیے دوبارہ بھرتی ہوں گے، دوبارہ درخواست دیں گے، دوبارہ مقابلہ کریں گے۔ اتنا اچھا ہے تو پھر باقی پاکستان اور ٹی ٹی ایس کے اساتذہ کے لیے بھی اسے کیوں لاگو نہیں کیا جاتا۔
یونیورسٹی میں جب ایک استاد بی پی ایس پر لیکچرر بھرتی ہوتا ہے تو اسے اگلے گریڈ میں جانے کے لیے ایک اور بھرتی کے اشتہار کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ اشتہار کب آتا ہے اس کا کسی کو نہیں پتہ اور پھر جب اشتہار آتا ہے تو اس میں وائس چانسلر کی مرضی ہے کہ کس کے لیے پوسٹ مشتہر ہوتی ہے اور کس کے لیے نہیں، پھر اس پر کئی برس پروسس پر لگا دیے جاتے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اور پاکستان کی کئی دیگر یونیورسٹیوں میں دس برس پہلے پوسٹیں آئیں اور اس پر اساتذہ نے اپلائی کیا وہ سارے اساتذہ ریٹائرڈ ہو گئے مگر اس پر بھرتی نہیں ہوئی۔
پھر اس زمانے میں جب سیاسی عمل دخل یونیورسٹیوں میں اس حد تک آ گیا ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے وہاں کیسے میرٹ پر کوئی پوسٹ آ سکتی ہے۔ پھر یونیورسٹیوں میں شخصی، گروہی، سیاسی اور مفادی اور شاگردی کے زمرے میں ان مستحق اساتذہ کو جو دس دس برس ترقی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کی جگہ اپنے چہیتوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کو دوبارہ کئی برسوں کے انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔ ایک شفاف ٹائم سکیل پروموشن کے بجائے ایک ایسا سسٹم کو برقرار رکھا گیا جس میں سیاسی آشیر باد سے وائس چانسلر بننے والے فرد کے ہاتھوں میں ہزاروں یونیورسٹی اساتذہ کے قسمت کا فیصلہ دے دیا جاتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ بارہ برس اور تیرہ برس کے تجربہ پر پروفیسر بنا دیے گئے اور تیس اور پینتس برس کے تجربہ کے ساتھ لوگ لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر ریٹائرڈ ہو گئے۔ لیکن حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو ٹائم سکیل پروموشن ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے کہ اس طرح ان سب کی چوہدراہٹ ختم ہوجاتی ہے۔ اور سب اپنے ٹائم پر میرٹ کے مطابق ترقی کریں گے۔ یونیورسٹیوں میں فرسٹریشن ختم ہو جائے گی اور تعلیم کا شعبہ ترقی کرے گا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن گزشتہ دو برسوں سے مسلسل یونیورسٹی اساتذہ کو یہ کہہ کر ٹرخا رہا ہے کہ چند دنوں میں یہ مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن قومی اسمبلی اور سینٹ کے سٹینڈنگ کمیٹیوں کو یقین دہانی کراتی رہی ہے اور ان کو لکھ کر بھی دیا کہ وہ مسئلہ ایک ماہ میں حل کر دیں گے۔ اس سلسلے میں ایک ڈرافٹ بنایا گیا جس کو دو برسوں سے کئی مرتبہ چیک کیا گیا اسے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا اور ڈیڑھ برس سے زیادہ ہو گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس پر اتفاق بھی کر لیا ہے مگر پتہ نہیں کون سی قوت ہے جو اس جائز کام میں آڑے آ رہی ہے۔
اب پھر اخباروں میں خبر آئی ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن و پروفیشنل ٹریننگ نے اپنے اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو پندرہ جنوری 2024 تک بی پی ایس ٹائم سکیل پروموشن پالیسی کے اجرا ء کا حکم دیا ہے۔ سینٹر عرفان صدیقی صاحب خود بھی استاد ہیں جو اس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ اس پالیسی کے نہ ہونے سے شدید ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ اس کی وجہ سے ملک سے برین ڈرین ہو رہا ہے۔ مزید قابل لوگوں کا اعلی تعلیم میں بطور استاد بھرنے ہونے کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے انہیں اس سلسلے میں اپنا کردار نبھانا چاہیے اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے ان قائمہ کمیٹیوں کی حیثیت اور عزت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ ان قائمہ کمیٹیوں نے کئی مرتبہ اس کام کو سرانجام دینے کا حکم دیا ہے مگر شاید دوسری طرف لوگ ان سے زیادہ طاقتور ہیں جو ان کے حکم کو نہیں مانتے اور ہزاروں یونیورسٹی اساتذہ کا جائز حق ان کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اس مرتبہ بھی اگر ایسا ہوتا ہے تو شاید پھر یہ سارے اساتذہ اپنے کلاسوں میں بچوں کو بتائیں گے۔ پاکستان میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ادارے ہیں جن کا کوئی عملی کردار نہیں ہے۔ وہ حکم تو دے سکتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کروا سکتے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فپواسا کا کردار بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ فپواسا کے کرتا دھرتا ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائس چانسلروں اور حکومت سے بنائے رکھنے اور اس کی آڑ میں ذاتی فائدے لینے کے علاوہ یونیورسٹیوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
ان کے مقابلے میں دیگر اداروں کی نمائندہ تنظیموں نے اپنے لوگوں کے مفادات کے لیے جو عملی اقدام کیے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ فپواسا کے ہوتے ہوئے ان کے ہزاروں اساتذہ کا یہ مسئلہ حل نہ ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ بھی اس ظلم میں ظالموں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ فپواسا کے ہوتے ہوئے، کئی ایک یونیورسٹیوں کے ملازمین کو مہینوں ان کی تنخواہ نہیں ملتی، ہر برس تنخواہوں میں جو اضافہ ہوتا ہے وہ نہیں ملتا۔ تو پھر فپواسا کی ضرورت کیا ہے۔
اگر یونیورسٹی کے بی پی ایس اساتذہ کا یہ قانونی حق ان کو نہیں دیا جاتا تو یہ ان کے ساتھ بھی بہت بڑی زیادتی ہے اور پاکستان کے اعلی تعلیم کے ساتھ بھی۔ اس لیے کہ اساتذہ کو جب ذہنی سکون نہیں ملے گا تو وہ کیسے پڑھائیں گے۔ اس وقت ملک کا وزیر اعظم یونیورسٹی استاد رہا ہے۔ سینٹ کے قائمہ کمیٹی کا چیئرمین استاد رہا ہے، صوبائی وزیر تعلیم استاد رہے ہیں۔ اور ان کے ہوتے ہوئے یونیورسٹی کے ہزاروں اساتذہ اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے لیے مراعات اور تنخواہوں میں سات گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس لیے اب دنیا سے لوگ وہاں پڑھانے آرہے ہیں اور استاد کی تکریم و عزت کرنے سے ان کی معیشت اور حکومت کو قابل ترین لوگ مل رہے ہیں۔ جس سے ان کی جی ڈی پی دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں اساتذہ کو اذیت میں رکھ کر اس کے مستقبل میں بھی ترقی کے امکانات کو ختم کیا جا رہا ہے۔
مورخ اس سلسلے میں ان کا نام برے لفظوں میں لکھے گا جو اختیار رکھتے تھے اور اس اختیار کے باوجود خاموش رہے اور ملکی تعلیمی نظام کو ڈوبتا دیکھتے رہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ یونیورسٹیوں کے بی پی ایس اساتذہ کو مزید فٹ بال نہ بنائیں۔ جو نظام ملک کے دیگر ملازمین کے لیے رائج ہے وہ ان پر بھی لاگو کر دیں۔ بے شک اس سلسلے میں جتنی کڑی شرائط حکومت رکھ سکتی ہے وہ رکھے۔ مگر ان کے لیے ترقی کرنے کا دروازہ کھولے۔ انہیں یہ عظیم پیشہ ترک کرنے پر مزید مجبور نہ کرے۔
ان سائیڈ ہائر ایجوکیشن ایک عالمی ادارہ ہے جو دنیا کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی بھی کرتا ہے اور ان کی تفصیلات جمع کر کے شائع کرتا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان دنیا میں ہائر ایجوکیشن پر سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور پاکستان کے یونیورسٹی اساتذہ دنیا میں سب سے کم تنخواہ لینے والے اساتذہ میں شامل ہیں۔ جبکہ دنیا میں یونیورسٹیوں کے سب سے زیادہ مطمئن اساتذہ ناروے اور سویٹزرلینڈ میں ہیں اور سب سے غیر مطمئن یونیورسٹی اساتذہ صومالیہ اور پاکستان میں ہیں۔
جبکہ یونیورسٹیوں کی ترتیب سے دنیا میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈی رکھنے والی یونیورسٹیوں میں پاکستان کا نمبر نواں ہے۔ پاکستان اس وقت پڑوسی ممالک میں یونیورسٹی اساتذہ پر خرچ کرنے والوں میں سب سے پیچھے ہے، ایران، افغانستان، نیپال اور بھوٹان بھی پاکستان سے آگے ہیں۔ جبکہ بیوروکریسی پر خرچ کرنے والے ممالک میں پاکستان کا نمبر دنیا میں چوتھا ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں کوئی قابل بچہ مستقبل میں یونیورسٹی استاد کیوں بنے گا۔ وہ پی ایچ ڈی کر کے خوار ہونے سے بہتر سمجھے گا کہ بی ایس کر کے بیوروکریسی میں نوکری شروع کردے۔ معیار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ کاش کوئی یہ نکتہ اہل اقتدار و اختیار کو سمجھا دے۔

