شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری
ایک ذرا مڑ کر اردو دنیا کی ان ساری شخصیات کو دیکھ آئیں جنھوں نے رواں زمانے کے صفحات پر ایک سے زیادہ جہتوں سے اپنے دستخط ثبت کیے اور محترم ٹھہریں توان سب سے الگ اور نمایاں مقام پر ایک شخصیت ملے گی؛ شمس الرحمٰن فاروقی۔ میں ہمیشہ سے ان کی غیر معمولی تنقیدی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ ”شعر، غیر شعر اور نثر“ ، ”تفہیم غالب“ ، ”شعر شور انگیز“ اور ”اردو کا ابتدائی زمانہ“ جیسے ان کے قابل قدر کام سے استفادہ کروں۔
جب میں نے فاروقی صاحب کا داستان امیر حمزہ کے حوالے سے کام ”ساحری، شاہی، صاحب قرآنی“ دیکھا تو میرا دل مرعوبیت سے بھر گیا تھا۔ ”گنج سوختہ“ ، ”سبز اندر سبز“ ، ”چار سمت دریا“ اور ”آسماں محراب“ ؛ یہ ان کی شاعری کے حوالے ہیں۔ درست کہ ایک زمانے میں انھوں نے شاعری کے مقابلے میں فکشن کی تخلیق کو مرتبے میں کم دیکھا دکھایا اور ہم جیسوں کو ردعمل پر اکسایا مگر یہ بھی تو ماننا ہو گا کہ جب وہ فکشن لکھنے کی طرف آئے تو اس صنف کو عجب دھج سے ثروت مند بنا دیا۔
جی صاحب، یہ وہی فاروقی صاحب ہیں جو ”افسانے کی حمایت میں“ میں یہاں تک کہہ گزرے تھے کہ افسانے میں نئے تجربات کی کوئی جگہ نہیں اور یہ کہ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کا بیانیہ کردار پوری طرح بدلا نہیں جا سکتا مگر جب انھوں نے افسانے لکھے تو پانسہ پلٹ کر رکھ دیا اور ناول لکھے تو ہم اس تخلیقی تجربے کے سامنے حیرت کی تصویر بنے کھڑے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اچھا، یوں بھی لکھا جاسکتا تھا۔
جب میں فاروقی صاحب کے فکشن کے مجموعے کو مرتب کرنے کے لیے ان کے سارے فکشن کی کھوج میں نکلا ہوا تھا تو مجھ پر کھلا کہ وہ اپنی ادبی زندگی کے عین آغاز سے فکشن کی طرف متوجہ تھے، شاعر کہلوانا چاہتے تھے مگر تنقید انہیں لے اڑی۔ ”سوار اور دوسرے افسانے“ میں شامل افسانوں کے علاوہ فاروقی صاحب نے جو ناول لکھے وہ کچھ یوں ہیں :
1۔ ”دلدل سے باہر“ یہ ناول 1950۔ 51 میں میرٹھ کے ایک رسالے میں قسط وار چھپتا رہا تھا۔
2۔ ”کئی چاند تھے سر آسماں“ جنوری 2006 میں آصف فرخی کے شہرزاد سے چھاپا، اسی برس جولائی میں ہندوستان سے شائع ہوا۔
3۔ ”قبض زماں“ یہ 2011 میں ”اثبات“ ممبئی میں چھپا۔ 2014 میں شہر زاد کراچی سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔
4۔ ”فانی باقی“ یہ 2020 میں ”راہروان ادب“ کو لکاتا چھپا تھا۔ ابھی تک کتابی صورت میں نہیں آیا۔
”قبض زماں“ اور ”فانی باقی“ دونوں کے ساتھ فاروقی صاحب کے جو مختصر وضاحتی نوٹ چھپتے رہے ان میں انہیں افسانہ کہا گیا ہے تاہم بعد میں قبض زماں بہ طور ناول شائع ہوا۔
”دلدل سے باہر“ قابل ذکر ناول نہیں ہے۔ فاروقی صاحب کی نظر میں بھی وہ کوئی قابل ذکر تحریر نہیں تھی۔ پہلا قابل ذکر ناول ”کئی چاند تھے سر آسماں“ ہی ہے۔ نہ صرف قابل ذکر ناول بلکہ ایسا شاہکار ناول ؛جس کے ذکر کے بغیر اب اردو فکشن کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ اس ناول پر بات سے پہلے ایک دو باتیں ”قبض زماں“ اور ”فانی باقی“ کے بارے میں۔
یہ ماننا ہو گا کہ شمس الرحمٰن فاروقی کے فکشن کو پڑھنا علمی، ادبی اور تہذیبی زندگی سے چھلکتے ہوئے ایک عہد میں جاکر بس جانے کا نام ہے۔ تاہم ان کے مختصر ناول ”قبض زماں“ کا مطالعہ یوں مختلف ہو جاتا ہے کہ یہ کسی ایک عہد کی تہذیبی زندگی پر محیط نہیں ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس ناول میں ایک ایسا شخص ہے جس سے اس کا اپنا زمانہ اور وہ خود اپنے زمانے سے بچھڑ گیا ہے۔ وہ عجیب اور ناقابل یقین حالات سے گزرتے ہوئے ایک اور زمانے میں جا پڑتا ہے۔ یوں یہ ناول ہمیں ایک سے زیادہ زمانوں اور زمینوں کی سیر کراتا اور زندگی کے ان بھیدوں کے مقابل کرتا ہے جو سمے کی سمٹن سے نکلتے اور حیرت کی پھیلی آنکھ پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔
”فانی باقی“ میں فاروقی صاحب داستان کے اسلوب کو نئی زندگی عطا کرتے ہوئے ہمیں اس محور تک لے چلتے ہیں جس کے سہارے کائنات کی ہر شے قائم ہے۔ یہ سمیرو یا میرو کی کہانی ہے، وششٹھ رشی اور ہماری بھی۔ جی، اس میرو کی جو نیلو فری کی چار پنکھڑیوں جیسا ہے۔ جس کا ہر رخ یا تو نیلم، سرخ یاقوت، زرد پکھراج سے بنا ہے یا پھر بلور اور زمرد سے۔ فاروقی صاحب نے اس تخلیق پارے میں ہمارے تصور اور تخیل کو ایڑ لگائی ہے ؛ کچھ ایسے کہ جو نہیں تھا وہ آ موجود ہوتا ہے۔
یہاں معروض محض انداز بیاں بھی بن جاتا ہے اور کہیں وہ سب جو حاضر تھا وہ غیاب میں چلا جاتا ہے۔ فاروقی صاحب سے میں نے حسن عسکری کا ذکر بہت محبت سے سنا ہے اور یہ اقرار بھی کہ انہوں نے تنقید میں ان سے اثر قبول کیا۔ جب عسکری صاحب کی پیدائش کو سو سال ہو گئے تو فاروقی صاحب نے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کو یہ تمثیلی تحریر لکھی تھی مگر انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ عسکری صاحب اسے پڑھتے تو پسند نہ کرتے۔ خیر، جو اور جیسے انہیں سوجھا تھا انہوں نے اسے ویسے ہی لکھ لیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ عسکری صاحب ”کئی چاند تھے سر آسماں“ کو پڑھتے تو ضرور پسند کرتے۔
اس ناول نے شائع ہوتے ہی، بہ قول انتظار حسین پاک و ہند کی ادبی دنیا میں ہلچل مچائی تھی۔ یہ ادبی دنیا فاروقی صاحب کی تحقیقی ریاضتوں، لسانی کمالات اور انتہائی زرخیز اور شاداب متخیلہ کے وسیلے سے ایک بھولے بسرے کردار وزیر بیگم کی کہانی کو ایک تہذیبی، ادبی اور دستاویزی ناول میں ڈھلتے پاکر اس مفلس بچے جیسی ہو گی تھی جس کے سامنے روشنیوں اور رنگوں میں نہاتی، جی لبھاتی اور چھاتی پر دھاک بٹھاتی ایک کائنات تھی۔
انتظار حسین اس شاندار استقبال کے ہنگامے کا مقابلہ اس ہلچل سے کر رہے تھے جو ”امراؤ جان ادا“ نے اپنے وقت میں پیدا کی تھی تو ڈاکٹر اسلم فرخی کا کہنا تھا کہ یہ اکیسویں صدی ہی کی نہیں اردو فکشن کی بہترین کتاب تھی۔ ہر کہیں اعتراف ہو رہا تھا اور صاف صاف کہا جا رہا تھا کہ اردو کے عظیم ناول گننے لگو تو ہاتھ کی انگلیاں ختم ہو جانے سے پہلے ہی رک جانا پڑتا ہے اور فاروقی صاحب کا ناول ان چند ناولوں میں شمار کیا جا رہا تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اسے قابل ذکر ناولوں کی قطار سے الگ رکھ کر بھی دیکھنا ہو گا۔
یوسف سادہ کار کی بیٹی اور داغ دہلوی کی ماں وزیر بیگم کی زندگی کے اوبڑ کھابڑ راستے میں چار مرد آئے۔ انگریز کیپٹن مارسٹن بلیک، نواب شمس الدین خاں والی لوہارو و فیروز پور جھرکہ، رامپور کا رئیس آغا مرزا تراب علی اور فتح الملک بہادر نواب مرزا سلطان شاہ عرف مرزا فخرو بہادر۔ پہلے دو مردوں کے ساتھ وہ بن نکاحی رہی اور آخری دو مردوں نے باقاعدہ نکاح کے بول پڑھوائے تو بیوی کا درجہ پایا مگر یہ چاروں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اسے دکھ سکھ دے کر لگ بھگ ایک سے انجام سے دوچار ہوئے۔
پہلا بلوے میں مارا گیا، دوسرا پھانسی چڑھ گیا، تیسرے کو ٹھگوں نے مار کر زمین میں دبا دیا اور چوتھا ہیضے کا لقمہ ہو گیا۔ ہر مرد کی موت کے بعد وزیر بیگم بہت کچھ پا کر بھی خالی رہ جاتی رہی۔ مرزا فخرو بہادر کی موت کے بعد تو کچھ باقی نہ رہا تھا۔ وہ قلعہ مبارک کے لاہوری دروازے سے یوں رخصت ہو رہی تھی کہ اس کا چہرہ ہر قسم کے تاثر سے عاری تھا اور پالکی کے بھاری پردوں کے پیچھے چادر میں لپٹی اور سر جھکائے بیٹھی تھی اور اسے کچھ نظر نہ آتا تھا۔
کہنے کو کہانی بس اتنی سی ہے۔ یہ کہانی فاروقی صاحب کے ہاتھ نہ لگتی اور اسے کوئی اور لے اڑتا تو شاید اتنی بھی نہ رہتی مگر جس طرح فاروقی صاحب نے اس بھولے بسرے کردار وزیر بیگم کی تصویر کی تلاش سے لے میاں مخصوص اللہ کی بنی ٹھنی تک پیچھے جاتے ہوئے ہند اسلامی تہذیبی ماضی سے کہانی کو جوڑ دیا ہے، اس سے ایک پوری تہذیب کی خوبیاں اور رنگینیاں بیانیے کا حصہ ہو گئی ہیں۔ راجپوتانے سے کشمیر اور سونپور تک واقعات کے پھیلاؤ اور مختلف مزاج کے کرداروں، فنون، عمارتوں اور رویوں کو کہانی کے اندر اپنی تکنیک سے رواں کرتے ہوئے جس طرح وزیر بیگم کی کہانی کوایک عظیم ناول میں ڈھال لیا گیا ہے اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے محمد حسن عسکری کے وہ خیالات یاد آ جاتے ہیں جن کا اظہار انھوں نے غلام عباس کے افسانے ”آنندی“ کو پڑھ کر کیا تھا۔
عسکری صاحب نے کہا تھا کہ ”آنندی“ کی کہانی کسی اناڑی کے ہاتھ لگ جاتی تو پہلے تووہ خوشی سے اچھل پڑتا اور پھر دوچار صفحوں میں جھگڑا طے کر کے رکھ دیتا۔ بہ قول عسکری صاحب جس چیز نے آنندی کو لائق توجہ بنایا وہ مصنف کا صبر و سکون اور ٹھہراؤ تھا۔ ”کئی چاند تھے سر آسماں“ پڑھ کر فاروقی صاحب کے ہاں یہ صبرو سکون اور ٹھہراؤ، اس سے کہیں بڑھ کر نظر آتا ہے جس مقدار میں عسکری صاحب نے نشان زد کیا ہے۔
ناول کے عین آغاز کے تین ابواب میں جب وہ ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی ماہر امراض چشم کی یادداشتوں سے بیانیہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں یا چوتھے باب میں ان تحریرات پر مبنی متن ترتیب دیتے ہیں جو ڈاکٹر وسیم جعفر کے وکیل نے اپنے مؤکل کے مرنے کے بعد لندن سے بھیجی تھیں یا پھر اگلے باب میں یوسف سادہ کار کو راوی بنا لیا جاتا ہے اور بعد میں سارے قصے کو ہمہ جہت راوی کی نظر سے دکھایا اور سجھایا جاتا ہے تو ہر ہر مرحلے پر کمال درجے کا صبر اور ٹھہراؤ بیانیے کی اپنی جمالیات مرتب کرتا چلا جاتا ہے۔
کہہ لیجیے یہ محض حقیقت پسند راوی کا بیانیہ نہیں میاں مخصوص اللہ کے موقلم کا شاہکار بنی ٹھنی جیسا ہو گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ ضخیم ناول ایک بار اٹھا لیں تو مکمل پڑھے بغیر ایک طرف رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ ہم پڑھتے ہیں ؛ چھلانگیں لگاتے ہوئے نہیں، ایک ایک لفظ اور ایک ایک سطر سے ہو کر ، بیانیے کے اندر رچ بس کر ؛ یوں جیسے اس زمانے میں خود سانس لے رہے ہوتے ہیں جس کا قصہ ناول کا حصہ ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا اس سبب ہوا ہے کہ فاروقی صاحب لکھتے ہوئے خود بے صبرے نہیں ہوئے۔
یوں لگتا ہے انھوں نے کہانی کی ایک ایک منزل اور سارے مقامات پہلے سے طے کر رکھے تھے۔ کہاں کہاں سے ہو کر جانا ہے، کہاں ٹھہرنا ہے اور کہاں پہنچنا ہے۔ اس طرح یہ وزیر بیگم کی کہانی ہو کر بھی اپنے سروکار بڑھاتی چلی جاتی ہے اور ایک سطح پر ہند مسلم تہذیب اور مغلیہ سلطنت کے انہدام اور بکھراؤ کی علامت نظر آنے لگتی ہے۔
سب قابل ذکر اردو ناول نگاہ میں رکھیں اور ان کے ساتھ ”کئی چاند تھے سر آسماں“ کو رکھ لیں، زبان، مواد، کردار نگاری، تکنیک، تہذیبی مظاہر کو متن میں برتنے کا چلن، زمان اور مکان سے معاملے کا قرینہ، بیانیے کی مضبوطی اور اثر انگیزی، ہر طرف سے آنک لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ بالکل الگ مزاج کا ناول ہے ؛شاید ناول نہیں بلکہ ایک تہذیبی، ثقافتی تاریخ کی ادبی دستاویز۔ بجا کہ اس ناول کا مواد تحقیق پر استوار ہے اور بہ قول ”انتظار حسین محقق فاروقی یہاں ناول نگار فاروقی کو پوری پوری کمک پہنچا رہا ہے“ اور صاف لگتا ہے کہ لکھنے والے کو لسانی اور زمانی کروٹوں سے گہری دلچسپی ہے، اتنی کہ وہ زمانی اور مکانی اعتبار سے زبان کی تشکیل نو کرتے چلے گئے ہیں۔
ایسی زبان جو نہایت رس دار اور رواں ہے، اور ایسے بیانیے میں ڈھل گئی ہے جس کا اپنا آہنگ اور اپنی جمالیات ہے۔ وسیم جعفر، سوفیا عرف مسیح جان عرف بادشاہ بیگم، میاں مخصوص اللہ، گجندر پتی مرزا، من موہنی، محمد یوسف سادہ کار، انوری خانم عرف بڑی بیگم، عمدہ خانم عرف منجھلی بیگم، وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم، مولوی نظیر، نواب یوسف علی خان، مارسٹن بلیک، نواب یوسف علی خان، ولیم فریزر، مرزا غالب، نواب شمس الدین، مرزا داغ دہلوی، تراب علی شاہ محمد آغا، نواب ضیا الدین، مرزا فتح الملک بہادر عرف مرزا فخرو، زینت محل یا دوسرے کردار!
حقیقی ہوں یا فاروقی صاحب کے ہرے بھرے تخیل کے تراشے ہوئے فکشن کے کردار؛ سب تاریخی واقعات کی صحت کو ساتھ لے کر کہانی کا حصہ ہوئے ہیں یوں کہ کہیں کوئی رخنہ نہیں رہنے دیتے۔ فاروقی صاحب نے یہاں جو تخلیقی قرینہ چنا ہے، وہ ناول کے بنے بنائے سانچے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ”کئی چاند تھے سر آسماں“ شمس الرحمٰن فاروقی کا وہ کارنامہ ہے جو اب اردو ادب کا مستقل اور نہایت اہم باب ہے۔


