جھومر والا چک


برسوں پرانی بات ہے کہ موجودہ لائل پور سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جو نہایت سر سبز و شاداب تھا۔ اس گاؤں کے لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ سورج کی آنکھ کھلتے ہی صبح کے وقت پرندوں کا چہچہانا شروع ہو جاتا تھا۔ ہوا کی انگلیاں ساز قدرت پہ راگ ملہار چھیڑتی تھیں۔ ہرے بھرے لہلہاتے کھیتوں کے درمیان کچے آنگنوں سے اٹھتا ہوا دھواں مٹی کی خوشبو گاؤں کے سادہ لوح افراد کے کندن چہروں پر معصوم جذبوں کا بھولپن، کسی برگد کے نیچے رنگ رچاتی محفلیں، دھول میں اٹی ہوئی پگڈنڈیاں، گاؤں تھا کہ قدرت نے کوئی مجسم روپ دھار رکھا تھا۔ ایک صبح گاؤں والوں نے دیکھا کہ ان کے گاؤں کے مشرق کی جانب کوئی خیمہ زن ہے۔ خیموں کی ایک قطار تھی مگر ان خیموں کے آس پاس کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہر آنکھ حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ خدا جانے کیا ماجرا ہے۔ شام ہوئی تو ان خیموں کے سامنے آگ کا الاؤ روشن ہوا تو ہر سو روشنی پھیل گئی۔ اس الاؤ کے گرد بہت سارے باریش افراد عالم جذب میں صدائے ہو کے ساتھ جھومر ڈال رہے تھے۔ اس منظر کو دیکھنے کے لئے سارے کا سارا گاؤں امڈ آیا۔ گاؤں کے بوڑھے، بچے، جوان، عورتیں اور مٹیاریں سب کے سب جھومر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس قبیلے کا سردار جس کے سر پر تاج نما پگڑی تھی وہ اپنی گھر والی کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھا تھا۔ چارپائی کے پائے منقش تھے۔ اس کی گھر والی نے بھی گلے میں موتیوں کا ہار پہنا ہوا تھا۔ ان کے پیچھے اور دائیں بائیں دو دو گھبرو جوان رنگ دار ڈانگیں لئے کھڑے تھے۔ جب جھومر ڈالنے والے ایک خاص مقام پر پہنچے تو سردار اپنی گھر والی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اٹھا۔ دائیں ہاتھ سے مٹی کا بوسہ لیا، ہاتھ سینے پہ لگایا اور جھومر میں شامل ہو گیا۔ اس کا جھومر دیکھ کر سارے کا سارا گاؤں مدہوش سا ہو گیا تھا۔ اس دوران جو بول وہ بول رہے تھے وہ کچھ یوں تھے۔

ایویں تیڈی دید ملی ہے
بھنگیاں جویں بھنگ ملدی ہے

اس دوران حکومت وقت کا ایک انگریز افسر اپنے ہم سفروں کے ساتھ یہاں سے گزر رہا تھا۔ یہ سماں دیکھ کر وہ الاؤ کی سمت چلا آیا۔ اس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ درویش، سادھو، سنت، فقیر جھومر ڈال رہے ہیں۔ وہ انگریز افسر کچھ دیر دم بخود دیکھتا رہا لیکن جب صدائے ہو کی تان دل کی تاروں سے ٹکرائی تو خود پہ قابو نہ رہا تو ان کے ساتھ وہ بھی جھومر ڈالنے لگا۔ وہ انگریز افسر اتنا خوش ہوا کہ اس قبیلے کے سردار کو انعام کے طور پر نقد رقم انعام میں دینا چاہی لیکن سردار نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور افسر سے گویا یوں مخاطب ہوا۔

آج تم ایک درویش کے سامنے کھڑے ہو
جس کا در ہر کسی کے لئے کھلا ہے یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہے
اس در سے صرف اور صرف خیر بانٹا جاتا ہے
آپ کا یہ انعام لینے کے لئے بہت سارے بے چین ہیں آپ ان کو دیں جن کو آپ پہلے بھی دے رہے ہیں۔

سردار نے انگریز افسر کو ایک شال اوڑھائی اور بولا کہ ہمارے پنجاب کی یہ آن ہے کہ ہم گھر آئے مہمان کی قدر کرتے ہیں وہ چاہے چور ڈاکو اور لٹیروں کے بھید میں ہی کیوں نہ ہو۔ تب سردار اور اس کی گھر والی نے ان کو رخصت کیا اور دوبارہ جھومر میں شریک ہو گئے۔

اس دوران کئی دن گزر گئے تو ایک دن انگریز افسر کو پھر ذوق جھومر ہوا تو اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ وہ ’جھومر والا‘ چک جانا چاہتا ہے، تیاری کی جائے۔ اس نے اپنے ساتھ بہت ساری شمعیں لیں اور اپنے دستے کے ساتھ جھومر والے چک کی جانب چل پڑا۔ جب وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہاں نہ کوئی قافلہ ہے اور نہ ہی خیمہ، نہ ہی الاؤ، نہ ہی کوئی جھومر والا، وہ بہت حیران ہوا۔ اس نے گاؤں والوں سے دریافت کیا تو گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ بھی نہیں جانتے کہ وہ جھومر والا قبیلہ کہاں چلا گیا۔ افسر نے سپاہیوں کو قافلے کی تلاش میں روانہ کیا لیکن کچھ پتا نہ چل سکا۔ اس شام افسر نے ان کی یاد میں وہ شمعیں وہاں روشن کیں جو اپنے ساتھ لایا تھا۔ وہ بعد میں بھی وقتاً فوقتاً وہاں جا کر شمعیں جلایا کرتا تھا۔ وہ جھومر والا چک آج کا چک جھمرہ ہے جو لائل پور (فیصل آباد) کی ایک تحصیل ہے۔

ایک دن اقوام متحدہ کے ادارے آئی ایل او کی جانب سے محنت کش اور مزدور بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے والے ایک ادارے کی ٹیم وزٹ سے واپس آ رہی تھی۔ وہ ٹیم آرام دہ گاڑی میں سفر کر رہی تھی۔ جب گاڑی نے ریلوے پھاٹک کراس کیا تو گاڑی میں ایک صاحب بولے کہ ہم ریلوے اسٹیشن پر رکیں گے تو سب نے ایک آواز میں ہاں سے ہاں ملا دی۔ یہ سن کر ڈرائیور نے گاڑی اسٹیشن کے شروع میں ایک جانب کھڑی کر دی۔ وہ گاڑی سے اتر کر اسٹیشن کی جانب چل پڑے۔ اس اسٹیشن کے دو پلیٹ فارم تھے۔ جس راستہ سے وہ اسٹیشن پہ اترے اس کے ایک جانب اسٹیشن کے نام کا بورڈ کھڑا تھا۔ اس پلیٹ فارم کا آدھا حصہ فرش اور آدھا حصہ اینٹوں سے بنا ہوا تھا۔ جس میں اینٹوں والے حصے میں کہیں کہیں گھاس ابھر آئی تھی۔ اس کے پرے لوہے کا جنگلہ تھا جس نے چار سو پلیٹ فارم کو گھیر رکھا تھا۔ وہ باتیں کرتے دائیں بائیں دیکھ رہے تھے۔ یہ جنکشن اسٹیشن ہے اس اسٹیشن کے دو پلیٹ فارم تھے۔ جن کے سامنے تین لائنیں گزر رہی تھیں یہاں سے ایک لائن لائل پور سے لاہور اور دوسری لائل پور سے ماڑی انڈس تک جاتی ہے۔ اسٹیشن کے دونوں طرف راستہ تھا ایک جانب پکا جبکہ دوسری جانب کچا تھا۔ جس پہ تین عدد تانگے کھڑے تھے جبکہ دوسری جانب ایک گدھا گاڑی کھڑی تھی جس پہ گدھا گاڑی والا آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اسٹیشن کے زیادہ بنچ خالی پڑے ہوئے تھے شاید گاڑی آنے میں وقت تھا۔ اکا دکا سواریاں موجود تھیں۔ وہ باتیں کرتے آہستہ آہستہ چلتے جب دوسری طرف سے ہو کر اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے تو اس نے بنچ پہ ایک شخص کو دیکھا جو دنیا و مافیہ سے بے نیاز بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب میں کہا ’خیر ہووے‘ ۔ ان لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ کیا ہم آپ کے پاس بیٹھ سکتے ہیں تو وہ کہنے لگا جی جی کیوں نہیں آئیے۔ آپ تشریف رکھیں بلکہ اس نے یہ شعر پڑھا۔

میں پکھی واس ہوں، کل ڈیرہ اٹھا لوں گا سو اب
آ مری جاں، کوئی اپنی سنا بیٹھتے ہیں

اس نے سفید شلوار اور سرخ رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی جبکہ سر پر ہلکے نیلے رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ وہ تینوں اس کے ساتھ بنچ پہ بیٹھ گئے۔ وہ شخص بولا کہ یہ بندہ خدا کیا خدمت کر سکتا ہے۔ جس پران لوگوں نے اس سے کہا کہ ہم آپ سے اس اسٹیشن کے نام کی وجہ تسمیہ جاننا چاہیں گے۔ یہ سن کر اس نے سگریٹ کا لمبا کش لیا اور بولا کہ آپ کھوجی لگتے ہیں تو ہم ہنس پڑے۔ جس کے جواب میں وہ بولا کہ آج کس کے پاس وقت ہے کہ یہ پوچھے کہ یہ کیا ہے۔ اس نے نہایت دھیمے لہجے میں بات کا آغاز کیا۔ وہ سگریٹ کا لمبا کش لیتا تھا شاید وہ دھویں کو اندر کے دکھ سے آشنا کرنا چاہتا ہو جس سے ہم انسان بالکل بے خبر ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے اندر کے کڑیل جوان دکھوں کو دھویں کی صورت ہوا میں تحلیل کرنا چاہتا ہو۔ ہم انسان ایک دوسرے سے دور سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے شاید وہ دھویں کو اپنے اندر کی روشنی سے ہمکنار کرنا چاہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور چہرے پر بلا کا اطمینان تھا۔ جب وہ کہانی سنا چکا تو انہوں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اور گاڑی کی جانب چل پڑے مگر یہ کہانی وہ آج بھی یاد کرتے ہیں اور اس درویش کو بھی یاد کرتے ہیں جس نے نہایت سکون اور اطمینان سے یہ کہانی سنائی تھی جو جھومر والے قبیلے کے نام کی نسبت سے چک جھمرہ ہے اور ہماری یہ کہانی اس درویش کے نام سے منسوب ہے جس نے چک جھمرہ ریلوئے اسٹیشن پہ ہمیں یہ کہانی سنائی تھی بلکہ شازیہ ناہید تو یہ شعر بھی سناتی ہے کہ

گر وہ درویش کسی روز دوبارہ ملتا
مجھ کو اندر کے سمندر کا کنارہ ملتا

Facebook Comments HS

One thought on “جھومر والا چک

  • 01/01/2024 at 9:34 صبح
    Permalink

    دلچسپ معلومات

Comments are closed.