تاریخ عالم کے نرالے اور دلچسپ واقعات
انقلاب روس کے محض ایک سال بعد لینن کو قتل کرنے کی کوشش 1918 میں کی گئی۔ ملک میں اس وقت سول وار سے دوچار تھا۔ ہوا یہ کہ وہ ماسکو میں ایک فیکٹری میں تقریر کرنے کے بعد جا رہا تھا کہ ایک عورت فانیا کاپلان Kaplan جو فوڈ شارٹیجز کی شکایت کر رہی تھی اس نے لینن پر تین گولیاں فائر کر دیں جو اس کی گردن، کندھے اور سینے پر لگیں مگر خوش قسمتی سے وہ پھر بھی زندہ رہا۔ چار سال بعد جسمانی طور پر وہ اس قابل ہوا کہ سرجری کروا سکے۔
جب ڈاکٹروں نے گولیاں نکالیں تو پتہ چلا ایک گولی dum۔ dum bullet تھی ( ایسی گولی جو نشانے پر لگنے پر اس کا ڈایا میٹر بڑھ جاتا اور زخم زیادہ ہوتا) جس نے نشانے پر پھٹ جانا تھا مگر وہ پھٹی نہیں۔ گولی کے خول پر ایک قسم کا مہلک زہر curare لگایا گیا تھا۔ لینن کیسے زندہ رہا یہ آج تک ایک لا ینحل معمہ ہے۔ اگر وہ خانہ جنگی کے دوران قتل ہو جاتا تو اس کا جانشین ریڈ آرمی کے لیڈر لی آن ٹرٹسکی Trotskyنے ہونا تھا۔ مگر وہ حملے کے بعد پانچ سال تک زندہ سلامت رہا اور اس دوران سٹالن کو طاقت پر ہاتھ مضبوط کرنے کا موقعہ مل گیا۔ جنوری 1924 میں اس کی موت پر سٹالن اقتدار میں آ گیا۔
ہٹلر کے ڈراؤنے خواب
ایڈولف ہٹلر کو پچپن میں چھ سال کی عمر میں ڈراؤنے خواب آتے تھے۔ ڈاکٹر نے اس کی والدہ کو تجویز کیا کہ وہ بچے کا وی آنا میں مینٹل ہسپتال میں علاج کروائے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس ہسپتال کا منتظم سگمنڈ فرائیڈ تھا۔ تا ہم اس مشورے پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ اگر ایسا ہو جاتا تو لوگوں کو پتہ چل جانا تھا کہ ہٹلر کے ساتھ اس کے سخت گیر باپ نے کتنا ظالمانہ سلوک کیا تھا۔ اور اس کا اثر اس کی شخصیت کتنا برا ہوا تھا۔
ہٹلر جب سولہ سال کا تھا تو اس کی خواہش آرٹسٹ یا آرکیٹیکٹ بننے کی تھی۔ اس کے لئے اس نے وی آنا کی اکیڈمی آف آرٹس میں داخلے کی درخواست بھی دی تھی۔ مگر ممتحن نے اس کی بھدی ڈرائنگ کو دیکھ کر انکار کر دیا۔ آرکیٹیکچرل سکول نے بھی اس کو داخلہ نہ دیا کیونکہ وہاں داخلے کے لئے ڈپلوما ہونا ضروری تھا۔ جو کہ اس کے پاس نہیں تھا۔ آنے والی نسلوں کو ایسے امور کی سزا بھگتنا پڑی۔
جارج واشنگٹن کی اولاد
میڈیکل ریسرچ جو 2004 میں شائع ہوئی تھی اس کے مطابق جارج واشنگٹن جب 19 سال کا تھا تو اس کو چیچک ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ بچے پیدا کرنے سے محروم ہو گیا۔ امریکہ کی جنگ آزادی میں وہ انقلابی آرمی کا سربراہ تھا۔ اس کے بعض ساتھیوں نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ قوم کا بادشاہ بن جائے۔ بعض کا خیال تھا کہ نوزائیدہ ری پبلکن گورنمنٹ کمزور ہوگی لیکن بادشاہت کے جھنڈے تلے مستحکم ہوگی۔
اس کا نیا نام جارج اول بھی تجویز ہوا تھا۔ مگر واشنگٹن نے یہ تجویز مسترد کر دی۔ یوں ری پبلک کا نیا آئین وضع ہوا تھا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی انکار کی وجہ یہ تھی کہ اس کو معلوم تھا کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہوگی جو اس کی جانشین بن سکے۔
لنکن کا قاتل
ابراھم لنکن کی مارچ 1865 میں دوسری اناگوریشن کے موقع پر ایک نوجوان پولیس لائن کو توڑ کر قریب قریب پریزیڈنٹ تک پہنچ گیا تھا۔ پولیس اس معاملے میں پوری مکمل الرٹ تھی کیونکہ چار سال پہلے 1861 میں اسی قسم کا واقعہ ہو نے لگا تھا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا اور پوچھ گچھ کی۔ مگر اس کے بعد اس کو رہا کر دیا گیا کیونکہ ان کی نظر میں وہ ضرر رساں نہیں تھا۔ اس شخص کا نام جان ولکس بوتھ Boothتھا جس نے چھ ہفتے بعد لنکن کو قتل کیا تھا۔
واشنگٹن کے اندرون شہر فورڈ تھیٹر میں لنکن کا قتل ہوا تھا، اس روز لنکن نے قریب فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس روز وہاں نہیں جائے گا۔ یہ دن گڈ فرائی ڈے تھا جب اس نے پورے دن کام کیا تھا۔ لنکن تھکا ہوا تھا اور وہاں دکھائے جانے والے ڈرامے کو اس نے دیکھا ہوا تھا۔ لیکن مسز لنکن نے سول وار کے ہیرو جنرل گرانٹ اور اس کی بیگم کو مدعو کیا ہوا تھا۔ گرانٹ نے معذرت کر دی کہ وہ اس روز اپنے بچوں کو ملنے ٹرین کے ذریعہ نیوجرسی جا رہا ہے۔
لیکن مسز لنکن ڈرامہ دیکھنے پر مصر تھی۔ اس لئے مسٹر لنکن کو مجبوراً وہاں جانا پڑا، کیونکہ اس کا وہاں آنے کا اعلان ہو چکا تھا۔ گرانٹ کے نہ آنے سے اس کی جان بچ گئی کیونکہ لنکن کے قتل کی سازش میں گرانٹ کو بھی قتل کیا جانا تھا۔ چار سال بعد گرانٹ امریکہ کا صدر بن گیا۔ اس طرح امریکہ میں اس روز قریب دو صدور کی موت ہو نے لگی تھی۔
آئین سٹائن کے آخری الفاظ
البرٹ آئین سٹائن کو دنیا کا سب سے بڑا ذہین و فطین انسان تسلیم کیا جاتا ہے۔ پرنسٹن نیو جرسی میں اپریل 1955 کو جب اس کی وفات ہوئی تو موت سے قبل اس نے کیا الفاظ کہے تھے وہ کسی کو معلوم نہیں۔ کیونکہ وہ نرس جو اس کے پاس تھی اس کو جرمن زبان نہیں آتی تھی۔
ٹائی ٹینک کیوں ڈوبا تھا؟
ٹائی ٹینک بحری جہاز کا اندوہ ناک حادثہ 1912 میں ہوا تھا جس میں 1522 لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ حادثہ اس لئے ہوا کیونکہ سیکنڈ افسر ڈیوڈ بلئیرBlair کو جہاز کی ڈیوٹی دینے والوں کی فہرست (راسٹر) میں سے ساؤتھ ہیمپٹن سے روانگی سے عین قبل ہٹا دیا گیا تھا۔ بلئیر کے پاس اس کمرے کی چابی تھی جس میں دوربین رکھی ہوئی تھی۔ وہ یہ چابی فریڈ فلیٹ Fleet کو جلدی میں دینے میں بھول گیا جو بلئیر کا متبادل مقرر کیا گیا تھا۔
جہاز کی تباہی کے بعد امریکہ میں انکوائری کمیشن کے سامنے اس نے اس بات کی تصدیق کی بحری سفر کے دوران جہاز میں کوئی دوربین نہیں تھی۔ اگر ہوتی تو انہوں نے آئس برگ کو دیکھ لینا تھا جس سے جہاز ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا تھا۔ جب کمیشن کے چئیر مین نے اس سے پوچھا کہ کتنا پہلے تم نے دیکھ لینا تھا؟ اس نے جواب دیا اتنا کہ ہم آئس برگ کے راستے سے ہٹ جاتے۔
اس چابی کو بلئیر کے لواحقین نے 2007 میں نوے ہزار پاؤنڈ میں نیلام کر دیا۔
ونسٹن چرچل کی جان کیسے بچی؟
ونسٹن چرچل ( 1874۔ 1965 ) ساؤتھ افریقہ کی بوئر وار کے دوران جنگجو اور قابل جرنیل تسلیم کیا گیا تھا۔ وہاں سے انگلستان واپس آنے کے تین مہینے بعد 25 سال کی عمر میں وہ پارلیمنٹ ممبر بن گیا۔ ایسا ممکن نہ ہوتا اگر وہ 1899 میں پری ٹوریا کے وار کیمپ سے فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو گیا ہوتا۔ وہ سرحد سے تین سو میل دور تھا اس کے پاس کوئی نقشے یا کمپاس نہیں تھا اور وہ مقامی زبان افریکانز بھی نہیں بولتا تھا۔ ساری رات وہ ایک مال گاڑی میں سفر کرتا رہا اور جب یہ منزل مقصود کے قریب تھی تو وہ چھلانگ لگا کر باہر آ گرا۔
جہاں وہ گرا اس کے قریب کان میں کوئلہ نکالنے والے لوگ رہتے تھے۔ اس نے ایک گھر پر دستک دی، جب اس کو پتہ چلا کہ مالک مکان برٹش ہے تو جان میں جان آئی۔ اس نے اپنا نام اور تعارف کروایا اور یہ کہ وہ مفرور ہے۔ اس شخص کا نام جان ہارورڈ تھا جو کان کا مینجر تھا۔ بیس میل کے علاقے میں یہ اکیلا کسی برطانوی کا گھر تھا۔ جان نے چرچل کو دو دن کوئلے کی کان کے اندر چھپائے رکھا جب تک کہ ایک اور ٹرین اس کو سرحد کے اس پار نہ لے گئی۔ اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے والے کو 25 پاؤنڈ انعام ملنا تھا۔ اگر کسی اور کے گھر اس نے دستک دی ہوتی یا شاید اس کو غدار سمجھا کر گولی مار دی گئی ہوتی۔
برطانوی فوج کی شکست اور شہد کی مکھیاں
پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں برطانوی فوج کو جرمن فوج پر سمندری حملے کے دوران تنزانیہ میں ٹانگا Tanga کے ساحلی مقام پر نومبر 1914 میں بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شہد کی مکھیوں کے غول نے برطانوی فوج پر حملہ کر دیا تھا۔ آٹھ ہزار برٹش فوجیوں کا مقابلہ ایک ہزار جرمن فوجیوں سے تھا لیکن دفاع کرنے والے حملہ کرنے والوں کی نسبت زیادہ تیاری کیے ہوئے تھے۔ اور یہ سب کے سب غیر تربیت یافتہ ہندوستانی ریزوسٹ تھے جو آپس میں بارہ زبانیں بولتے تھے۔
پاس ہی مکھیوں کی بہت بڑی کالونی تھی جو گن فائر کی وجہ سے مشتعل ہو گئی چنانچہ جارح افریقن مکھیوں نے برطانوی فوج پرتا بڑ توڑ، اندھا دھند حملہ کر دیا۔ جرمن فوج نے بہ آسانی مقابلہ کیا اور ایک ہزار برٹش فوجی زخمی اور 360 موت کی نیند سو گئے۔ جو زخمی نہیں ہوئے یا موت کی نیند نہیں سوئے ان کو مکھیوں نے ڈنگ مار دیا۔ جرمن فوج کو ہزاروں رائفلز، مشین گن اور ایک لاکھ کے قریب ایمونیشن مفت میں ہاتھ لگ گیا۔ جرمن کمانڈر Lettow۔ Vorbeck کو ہیرو قرار دیا گیا مگر اصل ہیرو تو شہد کی مکھیاں تھیں۔
جرمنی کی اٹامک بمب میں تاخیر
دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادیوں کو سخت خطرہ لاحق تھا کہ نازی حکومت اٹامک بمب بنا لے گی۔ جنگ کے بعد نمایاں ہونے والے آثار کے مطابق نازی سائنسداں امریکی سائنسدانوں سے 1941 تک بمب بنانے پر ریسرچ میں کافی آگے تھے۔ اس پروگرام پر دو جرمن نوبل انعام یافتہ سائنسداں آٹو ہان اور ورنر ہائزن برگ (دونوں نے nuclear fissionدریافت کیا تھا) شب و روز تحقیقی کام کر رہے تھے۔ ان کو 1942 تک پتہ چل گیا تھا کہ اٹامک بمب بنانے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن جرمن حکومت نے غلط اندازہ لگایا تھا کہ جنگ مزید 18 مہینے تک جاری رہے گی۔ اس لئے انہوں نے اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دی اور دو راکٹ پروگراموں V 1 & V 2 اور جیٹ انجن بنانے کی طرف زیادہ توجہ دی۔ ان کا خیال تھا کہ بمب بنانے میں زیادہ وقت درکار ہو گا اور تب تک جنگ ختم ہو جائے گی۔
جب تک جرمن ملٹری لیڈروں پر یہ بات منکشف ہوئی کہ جنگ مزید عرصہ جاری رہے گی اس وقت تک اجزاء کی کمی ہو گئی نیز اتحادی ہوائی جہازوں سے بمباری نے یہ نا ممکن کر دیا کہ اٹامک پرو گرام کو دوبارہ ری سٹارٹ کیا جائے۔ اس خوف نے امریکن سائنسدانوں کو مین ہاٹن پروجیکٹ پر کام مزید سرعت سے کرنے کا عزم پیدا کر دیا۔ آئین سٹائن جو جرمنی نازی حکومت سے جان بچا کر امریکہ آیا تھا اس نے دو خط دو اگست 1939 اور 1940 میں صدر فرینکلن روزویلٹ کو لکھے اور تاکید کی کہ بمب بنانے کے لئے حتی الوسع ذرائع اور مین پاور مہیا کی جائے۔ روزویلٹ کو اس کی نصیحت دل کو بھا گئی۔ اب جرمن سائنسدانوں کو دوبارہ بمب بنانے کا خیال آیا اور شاید 1944 میں انہوں نے ایک ورکنگ بمب امریکیوں سے چھ ماہ قبل بنا لیا ہوتا۔ مگر کسی نے ہٹلر کو اس ضمن میں نصیحت نہیں کی اور امریکہ 1945 میں یہ دوڑ جیت گیا۔
بگ بینگ تھیوری
بگ بینگ کی تھیوری بلجیم کے رومن کیتھوک پادری اور طبیعات دان Georges Lemaître۔ نے 1927 میں پیش کی تھی۔ لیکن اس اصطلاح کو برٹش اسٹرونومر فریڈ ہوئیل نے مارچ 1949 میں بی بی سی کی ایک براڈ کاسٹ میں لا میٹر کی تھیوری کو بگ بینگ this big bang theory کا نام دیا تھا۔ بگ بینگ کا تصور عرف عام میں 1970 کی دہائی میں چار دانگ عالم استعمال میں آ گیا۔ اس کے بعد بگ بینگ تھیوری یعنی اس کائنات کا آغاز کیسے ہوا، (اس سے مراد کوئی دھماکہ نہیں ) کا نظریہ امریکی طبیعات دان رالف الفر Ralph Alfer ( 1921۔ 2007 ) نے اپریل 1948 میں ایک ریاضیاتی ماڈل کے ذریعہ پیش کیا جس میں دکھا یا گیا تھا کہ بگ بینگ کی وجہ سے وہ ری ایکشنز عمل میں آئے جن کی بناء تمام کیمیکل ایلی مینٹس وجود میں آئے تھے۔ بشمول /Big Bang nucleosynthesis radtion cosmic microwave background۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اس کے سپر وائزر جارج گیمو Gamow نے اس کو ہدایت کی کہ وہ ایک مقالہ لکھے جس میں اس بات کی وضاحت ہو کہ بگ بینگ سے جو ریڈی ائیشن پیدا ہوئی اس کو ڈی ٹیکٹ کیا جانا چاہیے۔ اگر چہ سارا تحقیقی کام الفر نے کیا تھا مگر جارج گیمو نے سو چا کہ اس مقالے میں اس کا نام اور ایک اور ممتاز سائنسدان ہانس بیتھ Bethe کا نام بھی بطور مصنف شامل کر دیا جائے تو اس کو مستند سمجھا جائے گا۔
لیکن الفر کی بد قسمتی دیکھئے کہ سائنسی کمیونٹی نے یہ فرض کر لیا کہ سارا تحقیقی کام ان دو سائنسدانوں نے کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلد ہی الفر کا نام اس دریافت کے سلسلے میں فراموش کر دیا گیا حالانکہ ساری محنت اور تحقیق اس نے کی تھی۔ الفر نے ریڈی ائیشن کے ہونے کی پیش گوئی تھی۔ دو اسٹرانومرز ولسن اور پین زیاز Wilson & Penzias نے 1964 میں ریڈی ائیشن کو ڈی ٹیکٹ کر لیا اور یوں بگ بینگ تھیوری کا تجرباتی ثبوت مل گیا۔ ان کو اس سائنسی کام پر نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔ الفر کا نام مکمل طور پر کتابوں سے حذف کر دیا گیا۔ اس نے اپنا نام بحال کر نے کی لاکھ کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اکیڈیمک سائنس فیلڈ سے بد دل ہو کر اس نے جنرل الیکٹرک کمپنی کے ریسرچ اینڈ ڈویلمپنٹ شعبہ میں ملازمت اختیار کر لی اور یہیں اس کی 2007 میں رحلت ہوئی۔
برطانیہ کا ایمرجنسی نمبر 999
برطانیہ میں 999 کا آغاز ایڈیٹر کے نام ایک خط کے ذریعہ ہوا تھا۔ نومبر 1935 میں نارمن میکڈانلڈ جو لندن کی ویم پول سٹریٹ کا رہائشی تھا اس نے گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے دقت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس آگ میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس نے فائر بریگیڈ کو آپریٹر کے ذریعہ فون کر نے کی کوشش کی لیکن اس کو کوئی جواب نہ ملا۔ سرکار نے ایمرجنسی کے لئے فون نمبر شروع کر نے کے آئیڈیا کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ دو سال بعد جون 1937 ایمرجنسی کے لئے 999 کا نمبر متعارف کیا گیا۔ لندن دنیا میں پہلا شہر تھا جہاں ایسا نمبر متعارف کیا گیا۔ 111 نمبر کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس کو ڈائل کرنا آسان تھا۔ 222 لندن کی ٹیلی فون ایکس چینج میں زیر استعمال تھا۔ 999 کو ایمرجنسی میں یاد رکھنا آسان تھا۔ امریکہ و کینیڈا میں 911 کا نمبر استعمال کیا جاتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم میں ہندوستانی فوجی فلسطین میں
پہلی جنگ عظیم کے دوران فلسطین برطانوی قبضے میں تھا۔ ہندوستانی فوجیوں کو غیر جانبدار سمجھ کر فلسطین میں تعینات کیا جاتا جہاں انہوں نے حیفہ کی لڑائی اور دیگر لڑائیوں میں حصہ لیا تھا۔ بیٹل آف حیفہ 23 ستمبر 1918 پہلی عالمی جنگ کی اہم لڑائی تھی کیونکہ یہ برطانوی ہندوستانی فوج اور سلطنت عثمانیہ کی فوج کے درمیان فیصلہ کن لڑائی تھی۔ برطانوی (ہندوستانی) فوج میں گھڑ سواروں کی بڑی تعداد تھی جنہوں نے عثمانی فوج کو شکست دی۔
ہندوستانی ریاستی افواج کے یونٹ کا نام امپرئیل سروس ٹروپس تھا۔ حیفہ اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ حیفہ کی لڑائی 1918 میں جودھ پور لانسرز اور میسور لانسرز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہندوستانی فوجی پگڑیاں پہنتے تھے۔ پٹیالہ لانسرز نے اس لڑائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جودھ پور لانسرز کے کمانڈر میجر دلپت سنگھ کو حیفہ کی لڑائی کا ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے جس کو وفات کے بعد ملٹری کراس کا میڈل دیا گیا تھا۔ ایک کتابچہ جس کو انڈین ایمبیسی نے شائع کیا تھا اس کے مطابق ڈیڑھ لاکھ ہندوستانی فوجیوں کو مصر اور اسرائیل بھیجا گیا تھا جنہوں نے ستمبر اکتوبر 1918 میں فلسطین مہم میں حصہ لیا تھا۔
برطانوی فوج کے جنرل ایلن بی Allenby نے جب 1917 میں یروشلم پر قبضہ کیا تو اس میں انڈین آرمی کے فوجی بھی شامل تھے۔ انڈین فوجیوں کی قبریں چار جگہ پر ہیں۔ یروشلم انڈین وار سیمٹری میں 1918۔ 20 میں مرنے والے ہندوستانی فوجیوں کی 79 قبریں ہیں۔ حیفہ انڈین وار سیمٹری میں پنجاب، اتر پردیش، اوڑیسہ، حیدرآباد کے فوجیوں کی قبریں ہیں۔ رملہ (رام اللہ) وار سیمٹری میں سب سے زیادہ قبریں ہیں یعنی 528۔ خیات بیچ وار سیمٹری کو سنہ 1941 میں قائم کیا گیا اس میں دوسری عالمی جنگ میں مرنے والوں کی 691 قبریں ہیں۔
حیفہ کی لڑائی میں میسور، جودھ پور بیکانیر لانسرز نے حصہ لیا۔ ان یو نٹوں کی یاد میں نئی دہلی میں امپرئیل سروس کیولری بریگیڈ کا میموریل اور بنگلور میں میسور لانسرز میموریل تعمیر کیا گیا تھا۔ حکومت اسرائیل نے انڈین فوجیوں کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔ حیفہ ڈے ہر سال 23 ستمبر کو منایا جاتا، اس کا ذکر اسرائیل کی ہسٹری ٹیکسٹ بکس میں بھی شامل ہے۔
https://sundayguardianlive.com/news/dont-forget-indian-soldiers-gallantry-battle-haifa
مذہبی عدالت اور 2574 سال پرانا جرم
اسرائیل میں ایک مرد اور عورت شادی کے خواہشمند تھے مگر 1994 میں مذہبی عدالت نے ان کو شادی کا اجازت نامہ نہیں دیا۔ کیونکہ ان کے آبا و اجداد میں سے کسی نے 2,574 سال قبل کوئی جرم کیا تھا۔ مسعود کوہن Masud Cohen اور اس کی منگیتر چوچانا حدادHadad کو اجازت اس لئے نہیں ملی کہ گیلی لیلی ربائی دفتر کے ریکارڈ میں تھا کہ حداد کے باپ دادا میں سے ایک یہودی فقیہ نے کسی مطلقہ سے شادی 580 BC قبل مسیح کی تھی۔ کو ہن (یہودی پادری) کا عہدہ رکھنے کے لئے یہ چیز یہودی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ حداد کی آئندہ اولاد پر تا قیامت اس کی سزا لاگو کر دی گئی، اور اس صورت میں مسعود کوہن طلاق شدہ تھا۔

ناول نگارٹامس ہارڈی کا دل کہاں ہے؟
برطانوی ناول نگار ٹامس ہارڈی 1840 میں پیدائش کے وقت مردہ پیدا ہوا تھا۔ بظاہر وہ سانس نہیں لے رہا تھا اس لئے اس کو ایک سائیڈ پر لٹا دیا گیا۔ لیکن نرس نے دیکھا کہ اس کے جسم میں خفیف حرکت ہوئی ہے اور واقعی وہ زندہ تھا۔ وہ 87 سال تک زندہ رہا اور 18 ناول زیب قرطاس کیے جن میں سے بعض ایک انگلش لٹریچر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول ہیں۔ اس کی وفات پر یہ بات متنازعہ ہو گئی کہ اس کو کہاں دفنایا جائے؟ عوام الناس کا کہنا تھا کہ اس کو ویسٹ منسٹر ایبی کے قبرستان میں پوئیٹس کارنر میں آسودہ خاک کیا جائے۔
لیکن اس کی وصیت میں لکھا تھا کہ اس کو سٹنز فورڈStinsfordمیں اس کے والدین، پہلی بیوی اور بہن کے پہلو میں دفنایا جائے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اس کی خاک کو ویسٹ منسٹر ایبی میں دفنایا جائے جبکہ اس کے دل کو دیہی علاقے میں اس کے گھر کے پاس دفنایا جائے۔ اس کی بہن کے گھر میں اس کا دل کچن میز پر رکھا ہوا تھا کہ بلی اس کا دل لے کر بھاگ گئی۔ تا ہم سٹنز فورڈ میں تدفین کی رسم 16 جنوری 1928 کو پر شوکت طریق سے منائی گئی۔ لیکن آج تک کسی کو معلوم نہیں کہ تابوت کے اندر کیا تھا؟ کیا یہ خالی تھا؟ یا اس کے اندر وہ بلی تھی جو اس کا دل ہڑپ کر گئی تھی؟








