الیکشن سیاسی منشور اور تعلیم
پاکستان میں پھر سے انتخابات کا موسم آ گیا ہے۔ گزشتہ انتخابات سے پہلے تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی منشور کا اعلان کرتی تھیں اور اس منشور کو عوام کے سامنے رکھتی تھیں۔ اس بار ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ غالباً اب سیاسی جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنے بے شعور ہیں کہ ان کے سامنے اپنا منشور رکھنا ضروری ہی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوریت ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ایک منشور کے تحت کام کرتی ہیں اور جب وہ عوام میں جاتی ہیں تو اپنے منشور کے ساتھ جاتی ہیں۔
بھٹو وہ پہلا سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستانی سیاست میں اپنا مکمل منشور پیش کیا جس کی گونج آج تک ہے کہ ”روٹی کپڑا اور مکان“ ۔ کاش وہ اس میں تعلیم کا بھی اضافہ کرتے تو آج پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا۔ سیاسی جماعتوں کے پاس شاید اب وہ فکر رکھنے والے افراد ہی نہیں رہے کہ وہ ان کے لیے کوئی سیاسی منشور تیار کرسکیں۔ اس لیے کہ پاکستان میں تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں خاندانوں کی ذاتی جاگیر بن چکی ہیں۔ بلکہ اب تو کچھ سیاسی پارٹیاں ایسی بھی ہیں جن کے مالکان پردے کے پیچھے رہ کر ان پارٹیوں کو چلاتے ہیں اور اپنا ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اٹھا کر دیکھ لیں ان میں تعلیم یافتہ لوگوں کی جگہ آپ کو چاپلوس، درباری، کمیشن خور اور فصلی بٹیرے نظر آئیں گے۔ اور پارٹی کے خاص الخاص تو وہ سیاسی سرمایہ کار ہوں گے جو ان جماعتوں پر سرمایہ لگا کر ہزار گنا وصول کرنا کا ہنر جانتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں خطے کے دیگر ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں سیاسی عمل جاری و ساری ہے اور وہاں سیاست کرنے والے لوگ اپنا نظریہ بھی رکھتے ہیں۔
اور اس نظریے کے حصول کے لیے محنت کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی انتخابات ہوتے ہیں وہاں کی سیاسی جماعتیں انتخابات میں جانے سے پہلے کچھ دعوے کرتی ہیں جیسے کہ وہ ملک میں بے روزگاری ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں گے۔ صحت اور تعلیم کے لیے ملکی سالانہ آمدن کا کتنا حصہ رکھیں گے۔ خارجہ پالیسی کیسے رکھیں گے۔ ملکی وسائل سے استفادے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے وغیرہ۔ اس ملک وقت ملکی سطح پر سیاست کرنے والی جماعتوں نے ایسا کوئی منشور جاری نہیں کیا بلکہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کو ہی اپنی سیاسی برتری سمجھ بیٹھے ہیں اور ملک میں موجود تعلیم یافتہ طبقہ اور باشعور طبقہ ان سے کوئی سوال بھی نہیں کر رہا کہ وہ کیا ویژن رکھتے ہیں۔
پاکستان اس وقت بدترین مالی، سیاسی اور انتظامی بحرانوں کا شکار ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا مکمل منشور عوام کے سامنے رکھیں۔ جس کو دیکھ کر پاکستان کے لوگ فیصلہ کریں کہ وہ آنے والے پانچ برسوں کے لیے کن لوگوں کا انتخاب کریں۔ اس گالم گلوچ اور ایک دوسرے کے خاندانی شجرے دکھانے کا کوئی عملی فائدہ ملک کو نہیں ہو گا۔ اس وقت بنگلہ دیش جو ترقی کر رہا ہے اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے 2018 کے انتخابات میں جو منشور پیش کیا تھا اس میں انہوں نے تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی تھی اور جی ڈی پی کا پندرہ فیصد اس مد میں خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ”ڈیجیٹل بنگلہ دیش“ کی بنیاد پڑے گی۔ اب 2024 کے انتخابات میں ”سمارٹ بنگلہ دیش“ کا خواب دیکھا گیا ہے اور اس کے لیے جی ڈی پی کا 20 فیصد مختص کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ ترقی کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں گزشتہ تین برسوں میں صرف آئی ٹی کے شعبہ میں ان کے ستائیس لاکھ لوگ ملازمت لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سے جو زرمبادلہ بنگلہ دیش کو مل رہا ہے وہ پاکستان کے تعلیمی بجٹ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا میں تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے والے سب سے کمزور ترین ممالک میں شامل ہے۔ جبکہ پاکستانی کے انتظامی اخراجات دنیا کے سب ممالک سے زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے کم ازکم شرح جی ڈی پی کا 4 فیصد رکھا ہے۔ یعنی دنیا کے ممالک کم از کم چار فیصد اس مد میں خرچ کریں گے تو وہ دنیا کا ترقی اور خوشحالی میں مقابلہ کرسکیں گے۔
جو زیادہ خرچ کرے گا وہ زیادہ فائدہ اٹھائے گا۔ جیسا کہ بنگلہ دیش، ویتنام، جنوبی کوریا، سنگاپور، چین، ملیشیاء، بولیویا، نمبیا وغیرہ خرچ کر رہے ہیں اور توقع سے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں انڈیا نے بھی تعلیم پر زیادہ خرچ کرنا شروع کر دیا ہے جس کے ثمرات اسے مل رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان 2008 سے مسلسل تعلیم پر اپنے اخراجات اور بجٹ کو گھٹا رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان بدترین ممالک میں شامل ہے جہاں تعلیم پر جی ڈی پی کا دو فیصد بھی خرچ نہیں کیا جاتا۔
پاکستان میں تعلیمی بجٹ جو مختص کیا جاتا ہے اس کا 93 فیصد اس شعبہ سے وابستہ افراد کی تنخواہوں میں صرف ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر ممالک میں تنخواہوں کی مد میں صرف 25 فیصد یا اس سے بھی کم خرچ ہوتا ہے۔ باقی رقم تعلیم و تحقیق کے مد میں بہتری کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہاں تعلیم پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ سیاسی، بیوروکریسی اور عدالتی عہدوں پر موجود افراد کی عیاشیوں پر زیادہ بجٹ خرچ کیا جاتا ہے اور ان کی عیاشیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے قرضے بھی لیے جاتے ہیں۔
یہ افراد اس بجٹ کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طریقوں سے بھی پیسے جمع کرتے ہیں جس سے ترقی کا گراف مزید نیچے چلا جاتا ہے۔ یہاں موجودہ وقت میں کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ اہم عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے والوں کو بھی ناقابل یقین مراعات اور رقوم دی جاتی ہیں۔ جن کا تصور دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں کیا جاسکتا۔ یوں یہاں ایک مافیا بن گیا ہے جو ایک دوسرے کے مفادات کے لیے حکومتوں میں آتے ہیں اور پاکستان کو ترقی کرنے نہیں دیتے۔
پاکستان کے گزشتہ حکومتوں نے دنیا کی طرح تعلیم میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے اب پاکستانیوں کی عملی استعداد اتنی بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ادارے سنبھال سکیں۔ اس لیے ہر حکومت یہ ادارے عربوں اور دیگر سرمایہ داروں کو اونے پونے بیچ رہی ہے۔ اب الیکشن آنے والے ہیں۔ پاکستان کے باشعور لوگ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنے منشور جاری کریں اور اس منشور میں تعلیم کے لیے کم از کم 4 فیصد مختص کرنے کا اعلان کریں۔
اور جو بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار آئے وہ اپنے منشور پر عمل درآمد کرے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ سپریم کورٹ اف پاکستان ایک سو موٹو ایکشن لے اور حکومتوں کو پابند کرے کہ تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کل بجٹ کا 4 فیصد مختص کرے۔ اس وقت پاکستان کے ان یونیورسٹیوں کا جہاں بیس ہزار سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں ان سے صدر مملکت کے دفتر کے سالانہ اخراجات زیادہ ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ دنیا میں ایک ایک یونیورسٹی کا بجٹ پاکستانی پیسوں میں ایک ہزار ارب روپوں سے بھی زیادہ ہے اور یہ یونیورسٹیاں اپنے ملک کو سالانہ ہزاروں ارب کما کر بھی دے رہی ہیں۔
جبکہ پاکستان میں دو سو سے زیادہ یونیورسٹیوں کے لیے کل بجٹ 65 ارب روپے ہے۔ جس میں سے یونیورسٹیوں کو بمشکل صرف 30 سے 35 ارب روپے ملتے ہیں۔ اب وہ یونیورسٹیاں جن کی ملازمین کی تعداد ہی دو لاکھ سے زیادہ ہے ان کو اتنی کم رقم ملے گی تو اس میں تعلیم اور تحقیق پر کیا سرمایہ کاری ہوگی۔ اس رقم سے ان کی تنخواہوں کا بھی تیس سے چالیس فیصد حصہ پورا نہیں ہوتا۔ تو یہاں تعلیم کیا ہوگی اس کا معیار کیا ہو گا اور ہم دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے۔
بنگلہ دیش نے صرف ڈھاکہ یونیورسٹی کو پاکستان کے اعلی تعلیم کے بجٹ سے زیادہ رقم دی ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش گزشتہ چار برسوں میں ”ڈیجٹل بنگلہ دیش“ بنا اور آنے والے پانچ برسوں میں ”سمارٹ بنگلہ دیش“ بنے گا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایک غیر دانش مندانا فیصلہ کیا گیا کہ اعلی تعلیم کو بھی صوبائی تحویل میں دے دیا گیا ہے جبکہ وسائل کی تقسیم میں اس مد میں ان کے لیے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا جس سے ملک میں اعلی تعلیم کا شعبہ بدترین زبوں حالی کا شکار ہوا۔
پھر بغیر کسی منصوبہ بندی کے یونیورسٹیوں کا قیام سیاسی مفادات کے لیے عمل میں لایا گیا جس سے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا اور اعلی تعلیم کا معیار بہت زیادہ گر گیا۔ جس کا اثر یقینی طور پر ملک کی معیشت اور ترقی پر پڑا ہے۔ اس لیے ملک کے ارباب اقتدار و اختیار کو چاہیے کہ اس غلطی کا ازالہ کریں اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لانے کے لیے دنیا کی دیگر ممالک کی طرح ملک کا تعلیمی بجٹ بڑھایا جائے۔ تعلیم کو جدید ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور تعلیم کو مارکیٹ بیس بنائیں۔
بوسیدہ نصابات اور دنیا سے ختم ہونے والے مضامین کو ان نئے دنیا کے مارکیٹ میں قابل قبول مضامین سے بدلیں جس کے ذریعے دنیا معاشی فائدے حاصل کر رہی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں بد انتظامی اور کرپشن کو ختم کیا جائے، شخصی اختیارات کو ختم کر کے ادارہ جاتی اختیار کو بڑھایا جائے۔ تعلیمی نظام کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں ایک پالیسی لائی جائے اور اس پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔
بنگلہ دیش نے گزشتہ پانچ برسوں میں تمام ہائر سیکنڈری سکولوں کو حکومت کے اختیار میں لے لیا ہے اور اس شعبہ کو مراعات دے کر نوجوانوں کی عملی تربیت کا آغاز کر دیا ہے جس سے وہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان میں تعلیم کو ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے اور اس کاروبار کو چلانے کے لیے ہر غیر قانونی حربہ استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ تعلیم کسی بھی ملک کی شہ رگ ہوتی ہے۔ اس لیے اپنی شہ رگ کسی دوسرے کے ہاتھوں میں دینے کے جو نتائج ہمارے سامنے ہیں ان سے سیکھنا چاہیے۔
اور پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنا چاہیے۔ تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومتوں کو اس سے جان نہیں چھڑانی چاہیے۔ ہر سیاسی جماعت لازمی طور پر اپنے منشور میں تعلیم کے لیے کم از کم چار فیصد کا اعلان کرے۔ اور جو سیاسی جماعت ایسا نہیں کرتی نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ ان کا بائیکاٹ کریں۔ ملک بھر کی اساتذہ اور طلبا تنظیمیں اس سلسلے میں مہم چلائیں اس لیے کہ تعلیم پر سرمایہ کاری ہوگی تو یہ ملک چلے گا۔


