کراچی اور دلی کے دو اہلِ ہمت


غالب نے کہا۔
رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے

یہ ایک ایسی آفاقی سچائی ہے جو ہر وطن، شہر اور کوچہ پہ یکساں صادق آتی ہے۔ بر صغیر کی تہذیبی روایت میں ادب و فن کی ایک شناخت اور مقام ہے۔ مداحین کے شوق کی جلا کی خاطر بدلتے زمانوں کے ہم قدم ہو کر مختلف تقریبات وجود میں آتی رہیں اور پھر آنے والے ادوار میں اپنی اپنی جگہ سنگ میل بنتی گئیں۔ ان میں سب سے مقبول روایت تو مشاعرہ کہلائی لیکن محفل رقص و موسیقی، قوالی اور ادبی نشستوں کے انعقاد کا ذوق و شوق بھی جلوہ نمائی میں پیچھے نہیں رہا۔

ان محافل کے سلسلے کی دو مجالس جو کراچی ( اور کچھ اور شہروں ) اور دلی میں ہر سال بڑی باقاعدگی اور دھوم دھڑ کے سے بپا ہوتی ہیں، یاں خراج تحسین کے طور پر ان کا ذکر مقصود ہے۔ ایک کراچی کی عالمی اردو کانفرنس اور دوسرا دلی میں منعقدہ جشن ریختہ۔ کراچی کی تقریب 30 نومبر تا 3 دسمبر اور جشن ریختہ 7 تا 9 دسمبر 2023، منعقد ہوئے۔

پاکستان آرٹس کونسل اور عالمی اردو کانفرنس کے معمار محمد احمد شاہ کی عمر کا بڑا حصہ فن و ادب کی مدحت میں گزرا ہے نتیجتاً بقول غالب۔

ع۔ بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے۔

روایتی نشستوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس کانفرنس کو لاجواب ندرتوں سے سنوارا، جیسے علاقائی ادب اور شخصیات۔ اردو کی عالمی بستیاں۔ پچھلے سال جدا ہونے والے مشاہیر کی یاد۔ کیا شہر تھا کیا لوگ تھے کے عنوان سے کراچی کے ناموروں کا بہت خوب ذکر۔ اس نشست میں جیسا کہ انور شعور نے نشاندہی کی کراچی کے بڑے نام جو اردو بولنے والے نہ تھے نظر انداز ہوئے۔ ان میں کچھ ایسے نام بھی تھے جنہیں بھلانے کا کسی طور کوئی جواز نہیں تھا جیسے زیڈ اے بخاری، ابن انشا، مشق خواجہ۔

مزید قوالی، رقص کی محافل کا بھی اہتمام رہا۔ انڈیا سے جاوید صدیقی کی مختصر شرکت ہوئی لیکن گلزار سے رابطہ نہ ہو پایا۔ وغیرہ۔ مسلمان لاپتہ ہو گئے جیسی نئی سوچ پہ مبنی کتاب پہ تبصرہ جس میں دلی سی مصنف سعید نقوی صاحب نے بھی آن لائن شرکت کی۔

کچھ نشستوں میں پڑھے گئے مضامین بہت ہی معیاری تھے جیسے راجہ گدھ، کئی چاند تھے سر آسماں، شعیب ہاشمی پہ اور پھر راجندر سنگھ بیدی پہ مضمون وغیرہ۔

ایک کمی کا ذکر۔ پاکستان کے فنی سفر کا ذکر پی ٹی وی کی متنوع نشریات اور کسب کمال والے اس کے پردے پہ دکھائی دینے والی اور پس پردہ رہنے والی بے مثل شخصیات کا ذکر ویسے نہ ہوا جیسا ان کا حق تھا۔

احمد شاہ صاحب کے لیے یہ کانفرنس ایک خوشخبری لائی۔ آپ کو سندھ کی نگران کابینہ میں وزارت اطلاعات کا سربراہ بنایا گیا۔

ریختہ فاؤنڈیشن کے بانی ان لوگوں میں سے ہیں جو۔ ملنے کے نہیں نایاب بیں ہم، کے قول کی تصویر ہیں۔ ہندو پریوار میں جنم لیا۔ اردو ان کی مادری زبان نہیں تھی۔ بس لڑکپن میں اس زبان کی طرف رغبت ہوئی جسے عشق بنا لیا اور اسے میراث ہند سمجھتے ہوئے اس کی آب و تاب کے لیے اتنا کچھ کر ڈالا کہ یہ دعوی کرنے کے حقدار ٹھہرے۔

ع۔ ہم سا ہو تو سامنے آئے

ریختہ فاونڈیشن کی ویب جہان حیرت ہے۔ اشعار اور نثر کے بڑے ذخیروں کے علاوہ ای۔ بکس کافی بڑی تعداد میں ملتی ہیں جن میں کئی نایاب کتب بھی شامل ہیں۔ اسی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام 2015 سے آج تک ہر سال تین، چار روزہ جشن ریختہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سال دلی میں یہ جشن 8 تا 10 دسمبر بہار بن کے مہکا۔ ماضی میں جشن ریختہ ادبی موضوعات سے خوب خوب سجا پایا جاتا تھا۔ کافی سالوں تک پاکستان سے مشاہیر بھی ان کی رونقیں بڑھاتے رہے۔ دوسری طرف اردو زبان و ادب کے ہمالہ سے قد آور عالم گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی کی شرکت بھی خاصے کی شے ہوا کرتی تھی۔

اس دفعہ کا جشن قوالی۔ رقص، موسیقی، مشاعرے وغیرہ کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن کسی طرح کا ادبی مذاکرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔

میرے نزدیک اس کار بے مثل کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب یہ یاد رکھا جائے کی جب اس کی بنیاد رکھی گئی تب بدقسمتی سے ہندوستان میں اردو کا ایسا پرچار کچھ ایسا آسان نہ تھا۔ تب سنجیو صراف جی نے فرحت احساس کے ان الفاظ کو رہبر بنایا اور قدم بڑھائے۔

سر چڑھ کے بولتا ہے اردو زباں کا جادو
ہندوستاں کی مٹی کے آسماں جادو

Facebook Comments HS