آرٹیفیشل انٹیلجنس
ہر دور تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے اور اسباب ہوتے ہیں جو تبدیلی کے عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
حالیہ ایک ایجاد جس دنیا کو بہت تیزی سے تبدیل کر رہی ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلجنس ہے۔ اس سے پہلے موبائل انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا کو مکمل طور پہ تبدیل کر ڈالا تھا۔ دنیا کی کوئی ثقافت اور سماج اس کے ہاتھوں تبدیل ہونے سے نہیں بچ سکا۔ لیکن آرٹیفیشل انٹیلجنس اس سے بڑی تبدیلی کا سبب بننے جا رہی ہے۔
اس وقت آرٹیفیشل انٹیلیجنس سرمایہ کاروں کی پسندیدہ شعبے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد تعلیم سے لے کر موبائل ایپلیکیشن تک سب کچھ اس پہ منحصر ہوتا جا رہا ہے۔ مائیکروسافٹ بھی اس میں سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ گوگل اس کے مقابلے پہ بارڈ کے بعد اب جیمنائی لانچ کرنے جا رہا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کا نیا ورژن بھی آنے کو ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2022 میں مصنوعی ذہانت میں 5.1 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی تھی جو اب 2023 میں 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بڑی کمپنیوں کے بڑی سرمایہ کاریوں میں عام بندے کے لیے کیا ہے؟ تو جواب عرض ہے کہ جس حساب سے اے آئی ہر شعبے کا جزو بنتی جا رہی ہے۔ آپ بہت جلد اس پہ مبنی جنگی ہتھیار دیکھیں گے جو خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہتھیاروں پہ کام شروع ہے۔ سائنسی ریسرچ میں اس کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ تھنک ٹینکس ان آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو ڈیٹا اینالسس کے لیے استعمال کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
بڑی کمپنیوں کا تقریباً چوالیس فیصد حصہ مصنوعی ذہانت کو بزنس ماڈل کا حصہ بنانے کے لیے انویسٹمنٹ کر چکا ہے۔ بہت جلد آپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو سیاسی و سفارتی فیصلے لیتے ہوئے بھی دیکھیں گے۔ مزید نیچے کی بات کی جائے تو آپ کو یہ جان کے حیرت ہوگی کہ فیکٹری لیبر کے لیے مصنوعی ذہانت والے روبوٹس کی تیاری کے لیے ایلون مسک کی ٹیسلا کمپنی میدان میں آ چکی ہے۔ اس کے انجینئر ”اوپٹمس“ پہ کام کر رہے ہیں۔ اگلے سال یہ روبوٹ فیکٹریوں میں کام کرنے کا اہل ہو جائے گا۔
صرف اتنا ہی نہیں بہت سی دیگر کمپنیاں دفاتر اور گھروں میں کام کرنے کے لیے روبوٹس بنانے کی کوشش میں ہیں۔ بہت جلد ترقی یافتہ ممالک میں دفتر کی مینٹینیس کے لیے اگر آپ کو روبوٹس نظر آنے لگ جائیں تو آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ایمازون نے بھی اپنے وئیر ہاؤس میں وزن اٹھانے کے لیے روبوٹس کی خدمات لینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ کینیڈا کی کمپنی پیکنگ کے کام لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنا شروع ہو چکی ہے۔ ان سب کا مطلب روایتی انسانی نوکریوں میں کمی ہے۔ جہاں اس نئے شعبے کے ماہرین کی کھپت بڑھے گی وہاں روایتی نوکریوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
ایک سوال یہاں پاکستانی معاشرے سے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان سب چیزوں میں کہاں کھڑے ہیں؟ اس کا جواب ویسے تو آپ کو معلوم ہی ہے لیکن پھر بھی رسمی طور پہ بتا دیا جائے کہ ہمارا سماج ابھی بھی بطور کرئیر ڈاکٹر اور انجینئر کے پیچھے ہی بھاگ رہا ہے۔ ہم دنیا میں آ رہی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور خصوصاً آئی ٹی سے بے بہرہ ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی سے تھیسس کے علاوہ ہم کوئی کام نہیں لے رہے۔ نہ حکومت کی طلبا کو اس کی ترغیب دلانے میں کوئی دلچسپی نظر آتی ہے۔
جدید دور جدید مسائل لے کر آتا ہے۔ اے آئی بھی دنیا کو جہاں نئی جیت عطا کرے گا وہاں ممکنہ طور پہ اس سے کافی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً اے آئی ایک مصنوعی چیز ہے جس نے اپنے فیڈ کردہ ڈیٹا کی بنیاد پہ ریشنل فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کو کس قسم کا ڈیٹا فیڈ کیا جاتا ہے یہ اس کو بنانے والوں پہ منحصر ہے۔ سماجی حوالے سے اگر بات کی جائے تو اگر اس کو بنانے میں کسی مخصوص ملک کے لوگوں کی رائے اور نمائندگی شامل نہیں تو یہ ممکنہ طور پہ اس کا فیصلہ بھی جانبدارانہ ہو سکتا ہے۔
یعنی یہ اپنے پروگرامر کی پرسیپشن سے پیچھا نہیں چھڑا سکے گا۔ اس کی ایک مثال تحری کے آخر پہ بطور تصویر شامل ہے۔ مشہور سرچنگ پورٹل BING سے منسلک امیج کریٹر کو جب پاکستان سے متعلق تصویر بنانے کی کمانڈ دی گئی تو جو امیج سامنے آیا وہ وہی تھا جیسی مغرب میں عموماً پاکستان کے بارے میں پائی جانے والی پرسیپشن تھی۔ اگر بالفرض کل کو سیاسی و دیگر سفارتی فیصلوں میں اے آئی کو فیصلہ کن اختیار مل جاتا ہے تو یقیناً یہ بات پاکستان کے حق میں نہیں جائے گی۔ لہذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو تبدیل کر لیا جائے اور اس طرف بھی توجہ دی جائے تاکہ نئے منظر نامے میں ہمیں یکسر نظر انداز نہ ہو جائیں۔ اوپر بیان کردہ تصویر اور کمانڈ درج ذیل ہے۔
Mortal combat game in Pakistan ’s setting.
Tekken 3 game in Pakistan ’s setting.
جب پاکستان کے جگہ انڈیا لکھ کہ سرچ کیا گیا تو رزلٹ سٹیریو ٹائپ سے کافی ہٹ کہ ملا۔






سمجھ نہیں آرہی اگر روبوٹک مزدور آگئے اور پیداوار بڑھ بھی گئی تو عام آدمی کی آمدنی گھٹ جائے گی اس صورت میں ان اشیاء کے خریدار کہاں سے آئیں گے اور اتنی پیداوار کا کیا کیا جائے گا