آخر آپ ہوتے کون ہیں!
آج کل ٹی وی سکرینز پر ایک اشتہار تواتر کے ساتھ نشر ہو رہا ہے۔ اس اشتہار میں ایک خاندان کے کچھ افراد اپنے ٹھیکیدار سے گھر میں پینٹ لگانے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جس پر ٹھیکیدار انتہائی اطمینان سے جواب دیتا ہے کہ پینٹ کا کیا ہے وہ تو کوئی بھی لگا لیں گے۔ ٹھیکیدار کے اس جواب پر خاندان کے لوگوں کا رد عمل دیکھنے کے لائق ہے جس میں خصوصاً ایک نو عمر لڑکی انتہائی دکھ کے عالم میں یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ انکل ہمارے پسندیدہ پینٹ کے ہوتے ہوئے آخر آپ ہوتے کون ہیں ہماری زندگی سے رنگ چھیننے والے۔ اشتہار کے آخر میں ٹھیکیدار کو ایک پیغام بھی دیا جاتا ہے جس میں اسے بتایا جاتا ہے کہ لوگ اپنے پسندیدہ پینٹ کے بارے میں جذباتی ہو جاتے ہیں دھیان رکھیں۔
قارئین کرام کہنے کو تو یہ محض ایک اشتہار ہے لیکن اس میں نظر آنے والی نو عمر لڑکی کی جانب سے کہا جانے والا جملہ درحقیقت ملک کے ایک بہت بڑے لیکن خاموش طبقے کی ترجمانی کر رہا ہے جہاں یہ تمام لوگ نگران حکومتوں، الیکشن کمیشن اور تمام متعلقہ اداروں سے یہ سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ انہیں آئینی اور قانونی حق ہونے کے باوجود اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا۔ پاکستان کے باشعور عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہر 5 سال کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونا ایک لازمی امر ہے جہاں بوقت ضرورت اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں 3 ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانا بھی لازمی ہے۔ علاوہ ازیں ملک میں ہر 5 سال کے بعد بلدیاتی انتخابات کا ہونا بھی آئینی اور قانونی اعتبار سے ضروری ہے۔
بدقسمتی سے اس وقت ملک میں عوام کی ایک بڑی اکثریت میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے آزادانہ حق رائی دہی کے بنیادی استحقاق کو زور زبردستی کے اقدامات کے ذریعے سلب کیا جا رہا ہے۔ اس تمام تر عمل کا آغاز سال 2022 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو تا حکم ثانی ملتوی کرنے کے فیصلے سے شروع ہوا تھا۔ بعد اذاں صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل ہونے پر 90 دن کے اندر انتخابات کی آئینی بندش کو ماورائے آئین اقدامات کے ذریعے ملک میں 2023 میں ہونے والے مجوزہ انتخابات تک ملتوی کر دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں صدر مملکت کی جانب سے عام انتخابات کے لیے تجویز کردہ 8 اکتوبر 2023 کی تاریخ کو الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں 8 فروری 2024 تک دھکیل دیا۔
قارئین کرام اب جب کہ عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا سلسلہ بصد خرابی بسیار مکمل ہو چکا ہے جہاں ایک مخصوص سیاسی جماعت نگراں حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتہائی جانبدارانہ اور غیر منصفانہ سلوک کا شکوہ کرتی نظر آئی لیکن اس کا یہ جائز احتجاج اب تک محض صدا با صحرا ثابت ہو رہا ہے۔
اس تمام تر ابتر صورتحال میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان ”بلے“ کی ضبطگی کے فیصلے نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ لیکن یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کو ایک حکم امتناع کے ذریعے بحال کر دیا۔ لیکن کیا یہ حکم امتناع ایک حتمی فیصلے کی صورت اختیار کر پائے گا اس بات پر ابھی سے بڑے بڑے سوالیہ نشانات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
قارئین کرام صاحب مضمون ایک عام پاکستانی کی طرح ملک کا وفادار اور قانون پرست شہری ہے۔ اسے اس بات پر فخر ہے کہ تمام تر مواقع ہونے کے باوجود اس نے کبھی بھی ملک سے باہر منتقل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ وہ اس بات کا بھی ہرگز حامی نہیں ہے کہ وہ اور اس کا خاندان سڑکوں پر نکل کر کسی توڑ پھوڑ اور احتجاجی تحریک کا حصہ بنے۔ لیکن ان تمام تر باتوں اور یقین دہانیوں کے بعد وہ ریاست سے از روئے آئین آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا پرزور متقاضی ہے جس کے امکانات بہرطور انتخابات میں مساوی مواقع کی عدم موجودگی، سابق وزیراعظم عمران خان کی مسلسل نظربندی، انتخابی امیدواروں اور ان کے تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کے خلاف پکڑ دھکڑ کی مہم اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی انتہائی تضحیک آمیز انداز میں گرفتاری کی بنا پر تیزی سے معدوم ہوتے نظر آرہے ہیں۔
اس تمام تر بگڑتی ہوئی صورتحال میں ملک کے غریب لیکن سیاسی طور پر باشعور عوام نگران حکومتوں، الیکشن کمیشن اور تمام متعلقہ اداروں سے یہ سوال کرنے میں انتہائی حق بجانب ہیں کہ ”آخر وہ ہیں کون“ ان کو اپنے پسندیدہ امیدواروں اور جماعت کو ووٹ دینے سے روکنے والے۔ امید ہے کہ نگران حکومتیں، الیکشن کمیشن اور متعلقہ ادارے اس جائز مطالبے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ملک میں بغیر کسی بغض اور عناد کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہر ممکن طور پر یقینی بنائیں گے۔ بصورت دیگر متذکرہ بالا اشتہار کے آخر میں دیا گیا پیغام ان سب کے لیے سوچ اور فکر کے نئے زاویے تلاش کرنے کی جہد میں ضروری رہنمائی فراہم کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔


