ماہ رنگ اور بقا کی جنگ، مزاحمت کی نشان


بلوچستان کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں مزاحمت کے کئی روشن باب ہوں گے اس میں مزاحمت جو ہر سطح پر کی گئی۔ مزاحمت جس میں کسی دین اور مذہب کی تفریق نہیں تھی۔ مزاحمت کے یہ باب قربانیوں سے عبارت ہیں یہ وہ زمانہ ہے جب بلوچستان کی تاریخ بن رہی ہے ایک طرف ظالم کا استبداد ہے اور دوسری طرف حریت کا جذبہ اور پھر 2023 کا سال کی گرد سے ابھرتا ہوا 21 دسمبر کا جو بلوچستان کی تاریخ میں ایک بڑا المیے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔

جب اسلام آباد میں کامریڈ ڈاکٹر ماہ رنگ کی سربراہی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے توسط سے لاپتہ افراد کے لواحقین پر بے دریغ لاٹھی چارج آنسو گیس کی شیلنگ اور سرد رات میں پانی کا استعمال عورتوں، بچوں اور بوڑھی ماؤں پر کی گئی تشدد اور سینکڑوں بلوچ عورتیں اور لانگ مارچ کو سپورٹ کرنے والے بلوچ طالبعلم لاپتہ کیا گیا۔ تو بلوچستان اسلام آباد کی یہ استقبال کو کبھی بھولتا نہیں کہ مہمان نوازی کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے۔

پروین ناز لکھتی ہے ”جنگیں صرف فوجوں اور بہادر مردوں نے لڑی تھیں، جب کہ عورتیں اور بچے اپنے گھروں کے اندر بزدل بن کر بند رہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عورتوں نے بھی ہر ممکن جنگی حالتوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اپنی تخلیقات سے بھی جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی ہمت بڑھائی۔ تاریخ میں ہمارے پاس ایسی کئی ساری خواتین کی تعداد موجود ہے“ ۔

بلوچستان کی تاریخ مزاحمتی تاریخ ہے چاہیے بانڑی بلوچ ہو یا زرینہ مری جو اب تک لاپتہ ہے یا بانک کریمہ ہو یا کامریڈ ماہ رنگ یہ سارے مزاحمت کی نشانی ہیں جو ایک طویل داستان ہے انہوں کے بابت اگر لکھیں تو کئی پنے سیاہ کرنے پڑھتے ہیں لیکن پھر بھی ان لوگوں کی برابری نہیں ہوتی۔ چوں کہ یہ سارے نظریاتی لوگ ہیں۔ مزاحمت کا معاملہ ہمارے خیالات، رویوں اور رجحانات سے جڑا ہوا ہے اور اس سے بھی کہ ہم مزاحمت کی راہ میں کتنی قربانیاں دے سکتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم میں سے کتنے بانڑی بلوچ، کریمہ بلوچ، فرزانہ بلوچ، ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ بن سکتے ہیں یا نہیں۔ ہم خاموشی کو راہ نجات خیال کرتے ہیں جب کہ سماج کے ارتقا کی راہ میں چپ رہنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن یہ میرا ایمان ہے کہ بلوچستان کی مٹی زرخیز ہیں ایسے ہزاروں لوگ پیدا ہوں گے ۔

بقول زاہدہ حنا صاحبہ کے ”کسی بھی سماج کو آگے بڑھانے میں اصل کردار اس کے لوگوں کی مزاحمت کا ہوتا ہے۔ مزاحم ہونے والے جس قدر مقاومت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی قدر کوئی سماج آگے بڑھتا ہے اور لوگوں کو اپنے حالات بدلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر ہم مزاحمت کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں تو ایک بالکل سامنے کا نام یونانی ڈراما نویس سوفو کلینر کا ہے۔ جس نے کئی صدی قبل مسیح“ اینٹی گنی ”کا کردار تخلیق کیا۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی وہ لڑکی جو ناز و نعم میں پلی بڑھی، اس کا رشتہ بادشاہ وقت کے بیٹے یعنی ولی عہد سے طے ہے۔ تقدیر اسے ایک ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں اس کے دونوں سگے بھائی آپس میں لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں“ ۔ اس عورت کی مزاحمت کا باب یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

بلوچ مزاحمتی کا نشان ماہ رنگ میں دیکھا جا رہا ہے جو بلوچ مظلوموں کی آواز بنی ہوئی ہے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلات منگوچر شہر کے لانگو قبیلے سے ہے۔ وہ پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے ان کے والد عبدالغفار لانگو ایک غریب دوست مزدور کی آواز، ایک قوم پرست انسان تھا جو واپڈا میں ملازمت کرتے تھے۔ وہ دوبارہ لاپتہ ہوئے اور آخر 2011 میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی تھی۔ اس وقت ماہ رنگ بہت چھوٹی تھی لیکن بہت جلد بلکہ اپنی عمر سے پہلے جوان ہوئی اور اپنی بلوچ قوم کی آواز بنی ہوئی ہے جو اپنی پوری زندگی ظلم و جبر کے خلاف دیوار کی طرح کھڑی نظر آتی ہے۔

چوں کہ تاریخ خود کو ضرور دہراتی ہیں بلوچ تاریخ میں عورتوں کا مقام بہت بلند ہے۔ 1916 میں ایک بلوچ عورت کی قیادت میں بلوچوں نے انگریزوں کے ساتھ جنگ لڑی ہے انگریزوں کے کماندار جنرل ڈائر اور بلوچوں کا کمان گل بی بی کی ہاتھ میں تھی۔ جب جنگ میں انگریزوں کو شکست ہوئی آخر جنرل ڈائر نے کہا میں اس عورت سے ملنا چاہتا ہوں۔ جنرل ڈائر نے اپنی کتاب ( ”ریڈرز آف سرحد“ جو گل خان نصیر نے ’بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار‘ کے نام پر ترجمہ کیا ہے ) میں لکھا ہے کہ ”جب میں اس بلوچ خاتون کو دیکھا تو میں نے احتراماً اپنی فوجی ٹوپی کو دوبارہ اٹھایا تھا ایک تو میں نے زندگی بھر میں ایسی خوبصورت عورت نہیں دیکھی تھی اور دوسرا یہ کہ اس سے بہادر عورت بھی میں نے نہیں دیکھی تھی“ یہ بلوچ خاتون کی داستانیں ہیں۔ مزاحمت بلوچ کے خون کے اندر موجود ہیں۔

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d