انتخابات۔ فقط رسمی کیوں؟

ہر گزرتا دن تاریخ بن رہا ہے اور اس تاریخ کو بدلنے کے لئے کتنی ہی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن تاریخ کہاں بدلنے والی ہے، اس کو جتنی مرضی بدلنے کی کوشش کی جائے لیکن پھر ایک سچ ہزار جھوٹ کے آگے آ کھڑا ہوتا ہے، جو ایک بار تاریخ میں لکھا جا چکا وہ قدغن میں بھی گونجے گی تخت پر بھی۔ مختصر یہی کہ تاریخ کا قتل ممکن نہیں۔
سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے لڑتا ملک آخر انتخابات کے دہانے پر جا کھڑا ہوا، سپریم کورٹ کے 8 فروری کو الیکشن کا انعقاد کرانے کے فیصلے کے بعد آئینی عمل کو سرانجام دینے کی امید پیدا ہوئی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں ابھی بھی اس طرح کا جوش نظر نہیں آ رہا جو ہونا چاہیے تھا۔ نون لیگ بند کمروں کی سیاست میں مصروف ہے اور الیکشن کی تیاری بھی مفاہمت کے ذریعے کرنے پر راضی نظر آتی ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی ہے جس کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، ہر وہ ریاستی حربے آزمائے جا رہے ہیں جس سے تحریک انصاف کی سیاست کو نقصان پہنچے اور اس کا ووٹ بینک متاثر ہو۔
لیکن ہمیں یہ مان کر چلنا ہو گا کہ نون لیگ کی بات ہو یا تحریک انصاف کی یا پھر زرداری کی پیپلز پارٹی کی ان سب سیاسی پارٹیوں کی سیاست عوام کے گرد کم اور ایک عمارت کے گرد زیادہ گھومتی ہے۔ جب وہاں سے کسی پارٹی کو اشارہ ہوجاتا ہے تو وہ پارٹی باقیوں پر بازی لے جاتی ہے اور دوسری جماعتیں اس جدوجہد میں لگ جاتی ہیں کہ کب ان کو وہاں سے اشارہ ملے اور وہ تخت پر براجمان ہوں
انتخابات جوں جوں قریب آتے جا رہا ہیں، چہ میگوئیاں اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہیں، مارکیٹ میں جھوٹ کا بازار گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، بازار میں صرف سچ ہی نہیں جھوٹ کو بھی سچ کا رنگ دے کر بیچا جاتا ہے اور آج کل اس کا بزنس عروج پر نظر آتا ہے۔ غیر تصدیق شدہ پولز اور سرویز دکھا کر ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی ہی امید کی کرن ہے جو ملک کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے جبکہ دوسری پارٹی کو عوام میں غیر مقبول دکھایا جاتا ہے۔
ایک طرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو کھلی آزادی ہے جلسے کرنے کی لیکن ان کی سیاست فقط بند کمروں میں مشاورت تک محدود ہو گئی ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کو جلسے تو دور کی بات ایک ریلی نکالنے تک کی بھی اجازت نہیں، اگر ایسا کرتے ہیں تو فوری مقدمہ درج کر کے گرفتاریاں ہوجاتی ہیں۔ چند دن پہلے جب الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان تحریک انصاف سے واپس لیا تو اس فیصلے کو پارٹی پر قدغن کے طور پر دیکھا جانے لگا کیونکہ انتخابات کے اتنے قریب آ جانے کے بعد کسی پارٹی سے اس کا نشان لے لینا اس پارٹی کے ووٹرز کی حق تلفی ہوگی۔
لیکن باقی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس کو سراہا، جانے کیوں تاریخ سے ہم سیکھنے کے بجائے تاریخ دہراتے چلے جاتے ہیں۔ جب جمہوری سیاسی پارٹیوں کو بھی جمہوریت پر یقین نہیں ہو گا تو اس سے آمریت کو ملک میں تقویت ملے گی۔ خیر اب یہ ذمہ داری اداروں پر آتی ہے کہ کیسے اس جھوٹ پر پلی مارکیٹ کا اثر ختم کر کے سب سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں گے اور انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کو اقدامات کے ذریعے جواب دیا جائے گا جب تک ہائبرڈ رجیم ماڈل برقرار رہے گا اس ملک میں استحکام فقط خواہش ہی رہے گی اور اسی اسی مداخلتی سسٹم کو روکنے کا خواب شرمندہ تعبیر تب ہو گا جب سیاستدان بھی اس کندھے کا استعمال چھوڑیں گے اور یہ کندھا خود بھی سیاسی بیساکھیوں کے طور پر استعمال نہ ہو گا، بند کمروں میں فیصلے کر لینے سے ملک کی قسمت میں فقط بحران ہی آئے ہیں!

