سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)
سرائیکی زبان و ادب کے اجلاس کی روداد
اس اجلاس کی روداد لکھنے میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ ہمارے خیال کی کروٹ ہے کہ اگر کشید فکر نہیں تو بھی اردو دان طبقے کو سرائیکی مشاہیر سے متعارف کرانے کے لیے ان کا جو تعارف پیش کیا جا رہا ہے وہی قلم بند کروں کہ شاید کوئی ان کے تفکر کا جویا پیدا ہو کہ ابھی چند دن قبل کہیں پڑھا تھا کہ باہر کی کسی جامعہ میں ایک غیر زبان کی استاد اور مترجم نے افضل توصیف کے افسانوں کا ترجمہ کرنے کے لیے اجازت طلب کی تھی۔ خیال کی کروٹ کے ساتھ اسلوب بھی بدل گیا وہ نہیں جو قسط اول میں تھا۔ یہ اجلاس اردو میں کیوں ہونا چاہئیں اس کی سادہ سی منطقی وجہ پہلے حصے میں بیان کر چکی ہوں۔ یہ اجلاس سرائیکی اردو دونوں زبانوں میں اور زیادہ تر سرائیکی میں ہوا۔ سرائیکی میں جتنا سمجھ میں آیا اتنا اردو دان طبقے کی خدمت میں پیش ہے۔
میزبان شاہد جتوئی :دوستو! کیوں کہ یہ سیشن سرائیکی زبان و ادب کے مشاہیر کے حوالے سے ہے، گفتگو سرائیکی میں ہوگی اور میں سمجھتا ہوں کہ سرائیکی اس خطے کی رابطے کی زبان ہے اور ہر کوئی اس زبان کو سمجھتا ہے۔ میں گزارش کروں گا کہ جو لوگ یہاں تشریف فرما ہیں اگر یہاں توجہ رکھیں گے تو میں بہت مشکور رہوں گا۔ سرائیکی وادیٔ سندھ کی سب سے قدیم زبان ہے۔ یہ وسیبی لوگوں کی زبان ہے۔ سرائیکی شاعری کی عمر ہزارہا سال ہے۔ اس ہزار سالہ تاریخ کا ایک اہم عہد حضرت بابا غلام فرید کی شاعری کا ہے۔
یہ عہد سرائیکی شاعری کا وہ اہم موڑ ہے کہ ایک شاعری بابا فرید سے پہلے کی ہے اور ایک شاعری بابا فرید کے بعد کی ہے۔ ہم یہاں سرائیکی شاعری کے ساتھ سرائیکی افسانہ اور ناول پر بھی بات کریں گے۔ بابا فرید کے ساتھ سرائیکی زبان کے دیگر بڑے شاعر جاں باز جتوئی، سفیر لاشاری، خرم بہاولپوری، سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار ظفر لاشاری اور افسانہ نگار بتول رحمانی کے متعلق ہمارے مہمان مقررین اظہار خیال فرمائیں گے۔
بابا فرید 1901 میں اس دنیا سے وصال کر گئے۔ بابا فرید کی شاعری اور زمانے، وقت، حالات، شعر و ادب کا ارتقا؛اس اجلاس میں اس کا جائزہ لیں گے۔ نصف صدی تک لوگوں نے فرید کے رنگ میں شاعری کی۔ پاکستان بننے کے بعد سرائیکی وسیب مسائل اور دکھوں کا شکار ہوئے۔ اس کا اثر شعر و ادب پر بھی پڑا۔ فرید کے بعد فرید کی چھاپ نئے ارتقا، نئی سوچ، نئی فکر پر نمایاں اور گہری ہے۔ جس نے کئی نئے دبستان عبدالکریم دلشاد، نور محمد سائل اور جاں باز جتوئی پیدا کیے۔ سب سے پہلے میں سائیں جاں باز جتوئی کے بارے میں بات کروں گا۔
جاں باز جتوئی مشاعرے کی جان تھے۔ انہوں نے سرائیکی مشاعرے کو عوامی بنایا۔ جس مشاعرے میں جاں باز جتوئی ہوتے تھے وہاں خلقت جمع ہوجاتی تھی۔ گھاٹی گھاٹی داڑھی، وینگرے وینگرے بال، چاند جن چہرہ، گرج دار آواز، جوگیا دا حلیہ، ہر ہر مصرعے پر مجمع میں اتنا جوش و خروش ہوتا کہ کبھی میں اسٹیج کے قریب ہوجاتا اور کبھی اسٹیج سے دور پہنچ جاتا۔ وہ سرائیکی زبان کے سفیر تھے۔ انہوں نے لوگوں کو شاعری کے ذریعے شاعری سے بھی جوڑا اور ان کو آپس میں بھی جوڑا۔ وہ قلندر شاعر تھے۔ انہیں فرید ثانی بھی کہا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری میں ایک ردھم ہے، (میزبان نے اپنی آواز میں گرج پیدا کرتے ہوئے کہا) ایک دھمک ہے، (سیٹ پر لہکتے ہوئے کہا) موسیقی ہے، وہ ترنم ہے کہ مشاعرے کی فضا جھومنے لگتی تھی :
مجھے عیش و آرام نہیں بلکہ صدمہ دو
تاکہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہو
پوری زندگی تو نے غیروں میں گزاری ہے
ایک رات تو جاں باز کو بھی دو
مجھے الجھا کے رکھو بھلے خوشی نہ دو
نہ ہی میری خالی جھولی کو آباد کرو
چاہو تو اپنی کالی زلفوں میں قید رکھو آزاد نہ کرو
(سرائیکی شاعری کا اردو ترجمہ بشکریہ پروفیسر روشن علی سومرو استاد شعبہ تجارت وفاقی جامعہ اردو، عبدالحق کیمپس کراچی)
جاں باز جتوئی کا اصل نام غلام رسول خان تھا۔ ان کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے، کچھ کتابوں کے مطابق 1918 ہے اور کچھ کتابوں کے مطابق 1924 ہے۔ ان کا تعلق جاگیردار نواب خاندان سے تھا۔ لیکن بچپن سے ہی قلندر مزاج اور روحانیت کی طرف مائل تھے، دردمند اور حساس تھے۔ انہوں نے جاگیر داری سے کنارہ کشی اختیار کی اور مزار پر جاکر بیٹھ گئے۔ ان کی شاعری کی چار کتابیں سسی، ہواڑاں، تنواراں اور ارداساں ہیں جو تقریباً ہر گھر میں موجود ہوتی ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’ارداساں‘ ایم اے کی سطح پر نصاب میں بھی شامل ہے۔ قافیہ، قطعہ، غزل ہر صنف میں انہوں نے لکھا ہے۔
پروفیسر جاوید چانڈیو رئیس اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا خواجہ فرید پر کام ہے لیکن فلائیٹ نہ ملنے کے سبب وہ اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکے۔ اب میں سینئر صحافی، دانش ور نذیر لغاری کو دعوت دوں گا کہ وہ خواجہ فرید پر بات کریں۔
نذیر لغاری :خواجہ غلام فرید (اس کے بعد وہ چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہو گئے او ر ان کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکات اور ماتھے کی سلوٹوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کسی سوچ میں ہیں، پھر انہوں نے کہا) میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کس زبان میں بات کروں، اردو میں بات کروں کہ سندھی میں، بلوچی میں بات کروں کہ سرائیکی میں ؛ میرا خیال ہے کہ مجھے آزاد چھوڑ دیا جائے جس طرح چاہوں بات کروں۔ سرائیکی میری مادری زبان ہے، بلوچی بھی میرے گھر کی زبان ہے، سندھی بھی میرے لیے اسی طرح ہے کہ میرے سندھی دوست یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سندھی نہیں بولتا ہے، میں اپنے اظہار کے لیے کوئی بھی زبان بولوں گا اور بولتا رہوں گا۔
(اس اعلیٰ اظہاریے کے بعد انہوں نے کہا ) بابا فرید ایک ایسے عہد کی شخصیت اور شاعر ہیں جب دنیا میں مد و جزر تیزی سے ہو رہا تھا، سرمایہ دارانہ نظام اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا تھا، جاگیر داری یورپ میں بڑی ضرب کھا چکی تھی، فرانس کے انقلاب کے بعد لگاتار جرمنی میں اور قریبی ممالک میں انقلابات اور رد انقلاب یہ سارے عوامل ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ بابا فرید کی پیدائش کا سال 1845 ہے، اس کے تین سال بعد 1848 میں کمیونسٹ مینو فیسٹو لکھا جاتا ہے ، اسی دور میں نئے نظریات، نئے تصورات اور نئے خیالات آتے ہیں، اسی دور میں انارکزم بھی ایک نظام کے طور پر متعارف ہوا اور لبرل ازم جو سرمایہ داری نظام کی اساس ہے وہ بھی سامنے آیا، یہ تصورات کے اسکول تھے اور ان کے درمیان رابطے بھی تھے۔ ان ارتقا پذیر نظریات کے عروج کے زمانے میں بابا فرید پیدا ہوئے۔
فرید کا بچپن روایتی مذہبی گھرانے میں گزرا۔ بہاولپور ریاست کے ایک نواب فرید کے خاندان کے مرید تھے تو وہ ان کے آرام آسائش کا خیال رکھتے تھے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے والد صاحب یا برادر بزرگ کے دہلی دربار سے بھی تعلقات تھے اور مغلیہ شہزادے بھی خواجہ فرید کے خاندان کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے تھے یہاں تک کہ مغلیہ دور کا کوئی آخری شہزادہ خواجہ فرید کے خاندان کے ساتھ ہی رہ گیا تھا۔ لیکن خواجہ فرید کے اندر اپنی زبان، اپنے خطے، اپنی سرزمین، اپنے وطن کے لیے محبت بے پناہ تھی اور اس کا اظہار ہر جگہ ملتا ہے۔
ان کی سرائیکی زبان میں دو سو اکہتر کافیاں ہیں جو سرائیکی زبان کا اثاثہ ہے۔ خواجہ فرید کے نام سے ہزار ہا ’دوڑے‘ منسوب کیے جاتے ہیں، بابا فرید نے کوئی دوڑ نہیں لکھا، نہ غزل لکھی ہے نہ نظم لکھی ہے۔ البتہ ان کی جو اردو شاعری ہے خیالات کے تنوع کے اعتبار سے اسے اردو کے کسی بھی بڑے شاعر کے مقابلے پر رکھا جا سکتا ہے۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے کا جو مقدمہ میر حسان الحیدری نے لکھا ہے وہ کمال کا ہے۔
میزبان: بہت بڑے ناول نگار، محقق، دانش ور حفیظ خان صاحب خواجہ فرید پر مزید گفتگو کریں گے۔
حفیظ خان : خواجہ صاحب سرائیکی کافیوں کے خدائے سخن ہیں۔ ان کی دو سو اکہتر کافیاں پورا ایک جہان ایک کائنات ہے۔ بابا فرید کا دور 1845 سال پیدائش اور 1901 سال وفات تقریبا چھپن سال انہوں نے عمر پائی۔ یہ برصغیر کا وہ دور ہے جس میں 1857 کی جنگ آزادی بھی ہوئی۔ انہوں نے مزاحمت بھی کی۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے جو انہوں نے اپنے مرید نواب صادق محمد خان کو لکھا کہ :
اپنی دھرتی آپ بساتوں
مت انگریزی ٹھانے
اس دور میں فارسی زبان کا بڑا چرچا تھا۔ فارسی زبان میں شعر لکھنا بڑی بات ہوتی تھی۔ جو اپنی مقامی زبان میں بات کرتا تھا اس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں خواجہ فرید نے اپنے خان دان سے، پورے وسیب سے ایک جھگڑا مول لیا کہ انہوں نے سرائیکی زبان میں شاعری کی یوں انہوں نے اس کو پہچان ہی نہیں دی بلکہ ان کی شاعری نے اسے بام عروج پر پہنچا دیا۔ اس زمانے کے لحاظ سے فارسی کے بجائے سرائیکی میں شاعری کرنا بھی اپنے عہد سے بغاوت اور مزاحمت کا ثبوت ہے۔ ان کی وہ کافی جسے پٹھانے خان نے گا کر امر کر دیا:
میرا عشق بھی تو میرا یار بھی تو
میرا دین بھی تو ایمان بھی تو
میرا قبلہ کعبہ مسجد مندر
مذہب تے قرآن بھی تو
ان کی ایک اور بہت مشہور کافی ہے، وہ وسیب کے لیے امید کا پیغام اور زخم کا مرہم ہے۔
کیا تھا جو تیری نہ بنی
ایک مشہور واقعہ ہے ایک شخص خواجہ صاحب کے پاس آیا اور اس نے نواب صادق کی شکایت کی کہ اس نے اس پر ظلم کیا ہے۔ خواجہ صاحب نے نواب صادق کو ایک رقعہ لکھا جو تاریخ میں امر ہے، اس میں انہوں نے ایک جملہ لکھا کہ ’صادق زیر بن زبر نہ بن، تو پیش ہو گا‘ ۔ ان کی ایک اور مشہور کافی کا مصرعہ ہے کہ ’نہ یار ملدا نہ موت آوے۔ ”
میزبان : بابا فرید کے کافیے کا اردو ترجمہ ہے :
ملا کسی کام کے نہیں ہیں
وہ یار کے شیوے نہیں جانتے
وہ کسی بھید اور اسرار سے واقف نہیں ہیں
آخر کار ان کو پیٹھ کے بل ہی گرنا ہے
اب سرائیکی زبان کے بڑے شاعر سفیر لاشاری جنہیں روحی، چولستان اور باقی وسیب کے دکھی لوگوں کا نوحہ خوان کہا جاتا ہے۔ ان کے بے شمار گیت آج بھی لوگ گن گنا رہے ہوتے ہیں، ان کا ایک شعر کا ترجمہ ہے :
کچا کوٹھا ہے میں بارش کی دعا کیسے کروں؟
فصل بھی سوکھ رہی ہے تو بتا میں کیسے کروں؟
سفیر لاشاری پر بات کریں گے نذیر لغاری صاحب
نذیر لغاری :میرے لیے بہت مشکل ہے، میری نسبت ہے میرا تعلق ہے۔ وہ میرے لیے سب کچھ تھے، میرے ماں باپ کے برابر اور کئی لحاظ میں بہت سے رشتوں سے بڑھ کر ؛ سفیر لاشاری نے ایک سو آٹھ سال سے زیادہ عمر پائی۔ سفیر لاشاری ایسے دور میں آئے جب بابا فرید جیسے گھنے سائے میں کسی دوسرے شاعر کا مقام اور شناخت بنانا ہی بہت بڑا سوال تھا۔ جس طرح غالب کی چھاؤں میں داغ، ذوق اور مومن آ گئے اسی طرح کئی شاعر چراغ اعوان، مولوی محمد یار، گڑھی اختیار خان، عبد الکریم دلشاد، جانباز جتوئی، نور محمد سائل بابا فرید کی گھنی چھاؤں میں نظر نہیں آتے۔
لیکن سفیر لاشاری ان شاعروں میں ہیں جو اس چھاؤں سے نکل کر آئے اور اپنا اثر قائم کیا۔ ان کے دور میں بڑے بڑے لوگوں کا اپنا اپنا مکتب تھا اور ایک ایک مشاعرہ کم از کم دس گھنٹے سے کم نہیں ہوتا تھا، اب بھی جس مشاعرے میں پچاس شاعر ہوں ہم اسے چھوٹا مشاعرہ کہتے ہیں۔ سفیر لاشاری کا کوئی گروپ نہیں تھا جس طرح دلشاد کا ، جانباز جتوئی کا ، سائل اور خرم بہاولپوری کا گروپ تھا؛ سفیر لاشاری کا دائرہ وسیع تھا۔ ستر کی دہائی میں جب انہوں نے اپنی کافی ’روحی‘ پڑھی تو لوگوں نے دیکھا کہ فرید کا دوسرا جنم ہے اور اس سے آگے کا ہے۔
لگتا ہے کہ فرید کے لہجے میں زیادہ توانائی آ گئی ہے، زیادہ طرز کلام آ گیا ہے ، جیسے فرید کی شاعری کا دوسرا حصہ ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ جتنے روحی کے گل بوٹوں اور پھلوں کے نام سفیر کی شاعری میں ہیں اتنے فرید کی شاعری میں نہیں۔ سرائیکی کا کوئی بھی ادبی پروگرام فرید کے کافیوں یا سفیر کے ترانوں سے شروع ہوتا ہے۔ خرم بہاولپوری اور سفیر لاشاری جیسی عہد ساز شخصیات کی شاعری کا تقاضا ہے کہ ان پر الگ الگ اجلاس منعقد کیے جائیں۔
میزبان: چولستان میں جب باہر کے لوگوں کو زمینیں دی جا رہی تھیں، آباد کاروں کو وہاں بسایا جا رہا تھا اور چولستانیوں کو بے دخل کیا جا رہا تھا، باہر لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے سڑکیں بن رہی تھیں، بجلی آ رہی تھی، نہریں نکل رہی تھیں، ترقی ہو رہی تھی تو اس پر سفیر لاشاری نے لکھا تھا (ترجمہ) :
ہم بے فیض ساون سے کوئی سوغات نہیں مانگتے
جو ہمارے گھروں کی بنیادیں اکھاڑ دے
ہم ایسی برسات نہیں مانگتے
اب ہم گفتگو کریں گے خرم بہاولپوری صاحب پر ۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ خرم بہاولپوری اپنا کلام ایک تھیلے میں لے کر مشاعرے میں پہنچے تو وہاں سے ان کا کلام چوری ہو گیا۔ حفیظ خان صاحب نے ان کا وہ کلام ایک ایک آدمی کے پاس جا کے جمع کیا، دو کتابیں ان کی شاعری اور شخصیت پر مرتب کیں جو خرم بہاولپوری کے سو سالہ عہد کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ خواجہ فرید کے ہم عصر شاعر خرم بہاولپوری نے کافی کو ایک الگ رنگ دیا۔ وہ سرائیکی کے پہلے غزل گو شاعر بھی ہیں، ان کے ایک شعر کا ترجمہ:
ا اللہ تمہیں آزمائش میں نہ ڈالے
ہمیں ویران جنگلوں میں تو نہیں رولو
حفیظ خان صاحب!
حفیظ خان: سانولا رنگ، درمیانہ قد بد، سر اور داڑھی کے بال چٹے گھنبور، چٹی پوشاک، ٹپکا، چولا، پیر میں نوک دار ریاستی کھسا، ہاتھ میں بید، طبیعت میں بے نیازی، ہونٹوں پہ مسکان، ماتھے پر تریری، فارسی محاورہ مضبوط، عربی پہ گرفت چوکھی، اردو کمپنی کے زمانے کی۔ نام حافظ نصیرالدین، تخلص خرم بہاولپوری، سو سال کے قریب عمر پائی، قادر الکلام شاعر، سرائیکی میں غزل کی بنیاد رکھی۔ غزل، کافی، چوکڑے، قطعے، رباعی، گیت اور نظم گو شاعر تھے۔
ان کے کلام چھپنے کا کوئی بندوبست ان کی طویل عمر میں نہیں ہوسکا اگرچہ کہ ان کے یار دوست وزیر مشیر منصف سب ہی تھے۔ نواب بہاولپور نے ان کو اپنے شہر کا قاضی مقرر کیا۔ وقت کم ہے ایک مشہور واقعہ بیان کرتا ہوں۔ اس زمانے میں ملتان کی ایک بہت مشہور گائیکہ اور مغنیہ حیدر باندی تھی۔ وہ اپنی آواز اور حسن کی بنا پر بہت مشہور تھی۔ وہ بہاولپور بھی آئی، خرم صاحب نے اسے دیکھا، سنا اور فی البدیہہ ایک قطعہ لکھا:
واہ مکھڑا حیدر باندی دا
جیوے چندر چڑھا ہے چاندی دا
اے ٹو جہاں دی ملک کوئی نہیں
ایک رات دی بات سران دی دا
اس پر اتنی ہجو لکھی گئیں کہ وہ شودی بہاولپور چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔
میزبان:سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار ظفر لاشاری جن کا پہلا ناول ’نازو‘ ہی کمال کا ناول ہے۔ سرائیکی میں باقاعدہ نثر نگاری بیسویں صدی میں شروع ہوئی۔ اس پر بات کریں گی شازیہ شکیل، یہ محقق ہیں اور سفیر لاشاری کی نواسی ہیں۔
شازیہ شکیل : احمد پور شرقیہ کی دھرتی وہ بھاگ بھر دھرتی ہے جہاں علم و ادب کے کئی نامور ستارے چمکے۔ ظفر لاشاری 1948 میں پیدا ہوئے۔ انہیں اس زمانے میں ٹی بی کا مرض تشخیص ہوا جب یہ لا علاج مرض سمجھا جاتا تھا۔ تب انہوں نے اپنے علمی و ادبی سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے پہلا افسانہ 1969 میں لکھا۔ انہوں نے اپنے افسانوں او ر ناولوں میں اپنی دھرتی، اپنے لوگوں کے دکھ، سماجی جبر بیان کیے ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں بے غیرت، نرس، کنواری ماں، مٹی دی سیج، زہر دے گھونٹ، لکھ پڑھ، سچے موتی اور شودی شامل ہیں۔
بیماری کے باوجود انہوں نے پنجاجی اور سرائیکی ادب میں ایم اے کیا۔ سینی ٹوریم میں داخل ہوئے اور اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے مشہور ناول ”نازو“ لکھا۔ یہ ظفر لاشاری کی لکھت کا کمال ہے کہ وہ لوگ جو ہماری بولی کو بولی ہی نہیں مانتے تھے، پنجاب بورڈ نے اسے چھاپا اور پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کے نصاب میں اسے شامل کیا گیا۔ یہ سارے وسیب کے لیے بڑی فخر کی بات ہے۔ ان کا دوسرا ناول ”پہاج“ ان کی زندگی میں نہیں چھپ سکا بعد میں نور احمد فریدی نے اپنے سرائیکی رسالے میں اسے قسط وار چھاپا۔ بعد میں ظفر لاشاری صاحب کے بیٹے اطہر لاشاری نے وہ ناول چھپوایا اور اپنے علاقے میں ظفر لاشاری کے نام سے ایک لائبریری قائم کی۔
میزبان: آخر میں ہم بات کریں گے سرائیکی کی مشہور افسانہ نگار بتول رحمانی پر جو صرف سینتالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ایم ایس سی کیمیا کے بعد انہوں نے اردو میں افسانہ نگاری سے آغاز کیا، بعد میں اپنی ماں بولی سرائیکی میں افسانے لکھنے شروع کیے اور کمال کر دیا۔ ان پر بات کریں مصنفہ نینا صاحبہ :
نینا: بتول رحمانی صرف لکھاری نہیں تھیں، وہ افسانے کو جدید رنگ دینے والی ڈھالنے والی کے ساتھ ساتھ ایک استاد، ریڈیو ٹی وی کی بہترین آرٹسٹ اور ایک سرگرم سماجی کارکن بھی تھیں۔ انہوں نے ہر پلیٹ فارم پر وسیبی ثقافت اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مذہبی، طبقاتی، معاشرتی، تہذیبی، نفسیاتی اور عائلی موضوعات پر افسانے لکھے۔ انہوں نے پہلا افسانہ اردو میں ’لہریں‘ کے نام سے لکھا۔ ان کے اردو افسانوں کا ایک مجموعہ ’چوتھی سمت‘ 1994 میں چھپا۔
ان کا پہلا سرائیکی افسانہ ’روحی دے روپ‘ تھا جس میں روحی کی ریت، اس کے دکھ سکھ ؛ ایک اور افسانہ ’پینڈو‘ ہے جس میں ایک دیہاتی جو مغربی ثقافت کی حامل امیر چھوکری سے شادی کرتا ہے اور وہ ناکام ہوجاتی ہے، ’دھنک رنگ‘ افسانہ روزمرہ کی گزران اور مہنگائی پر ہے۔ 1994 میں ہی ان کے سرائیکی افسانوں کا مجموعہ ’سانجھ‘ بھی آیا۔ آج کا افسانہ نگار بھی ان ہی مسائل پر لکھتا ہے جن کو انہوں نے تیس سال پہلے موضوع بنایا تھا۔ ان کی علمی، ادبی، فنی خدمات کو کہیں بھی مان نہیں دیا گیا۔ آرٹس کونسل کا شکریہ کہ انہوں نے بتول رحمانی کو یاد رکھا۔
میزبان : (مہان مقررین کے تشکر کے بعد ) بابا فرید کی اس بیت پر نشست کا اختتام کروں گا:
درد فرید ہمیشہ ہونا چاہیے
یہ تقسیم اور جدائی کے پاپ کو دھو دیتا ہے
اس سے یہ تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ
کسی نہ کسی طرح پریم نگر پہنچا جائے
آپ سب کا بہت بہت شکریہ!


