اصل سازشوں کا وقت پر ادراک کتنا ضروری ہے


سازشوں اور سازشیوں کا وقت پر ادراک کرنا انہیں کچلنا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ پاکستان کے ماضی کی ایک مثال سے لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج اگر 1971 کے اصل مجرم حقیقی معنوں میں بے نقاب ہو جائیں۔ انہیں قرار واقعی سزا بھی سنا دی جائے تو کیا پاکستان اور بنگلادیش واپس ایک ملک بن جائیں گئے؟

جواب صد فیصد نفی میں ہو گا۔

یقیناً تب بھی، آج کی طرح دونوں طرف کے وہ عوام جنہوں نے جان و مال کی قربانی دے کر ایک آزاد ملک حاصل کیا۔ وہ ملک توڑنے کی بجائے اپنے ہی ملک میں آزادی اور بنیادی حقوق کی مانگ کرتے ہوں گئے۔ آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو آج بھی باقی بچے پاکستان کے مختلف حصوں میں سے لوگ اپنے حقوق کی مانگ ہی کر رہے ہیں۔ تب کی طرح آج بھی عوام کا مقصد پاکستان کو توڑنا یا اس کے خلاف سازش کرنا بالکل نہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں، 71 کی طرح دشمن قوتیں آج کے حالات سے فائدہ اٹھا کر ویسا کھیل دوبارہ نہیں کھیلیں گی؟

یقیناً آپ ضرور سمجھتے ہوں گئے۔ وہ ضرور فائدہ اٹھائیں گئے۔ ان کی پہلی ترجیح جائز مانگ کرنے والوں کو غدار ڈکلیئر کروانا ہو گا تاکہ مانگنے والوں کو ہر طرف سے دھتکار دیا جائے۔ جس کے نتیجے میں مانگنے والے بھی یہ بات دل سے قبول کر لیں گئے کہ ان پر مسلط لوگ غدار ہیں۔ اس طرح دونوں دھڑے خود کو حق پر اور دوسرے کو غدار سمجھ کر تب تک لڑیں گئے جب تک پھر سے ٹوٹ نا جائیں۔

آج دیکھا جائے تو کیا پاکستان کے حالات بالکل ویسے ہی نہیں ہو چکے؟

جس جماعت کو آپ نے خود پہلے سے موجود اپنی بنائی ہوئی جماعتوں کو قابو کرنے کے لیے یا جن بھی مقاصد کے لیے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بنایا، آج اسے ہی غدار ڈکلیئر کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اب جبکہ وہ جماعت واپس انہیں لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جو صرف اور صرف ملک میں برابری کے حقوق اور انصاف کے لیے نکلے تھے۔ کیا آپ کو ان نوجوانوں کی مانگوں پر بھی شک ہے؟ یقیناً نہیں ہو گا۔ تو اگر انہیں بھی ملکی سیاست میں جگہ نہیں دیں گئے تو پھر دونوں فریقین میں سے کون خود کو غلط سمجھے گا۔ وہ جو 9 مئی کا بدلہ یا اس پر انصاف کرنا چاہتے۔ یا وہ جو 76 سالوں سے ملک کی تباہی کے ذمہ داروں کا احتساب چاہتے۔ انہیں سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے؟

خدارا پاکستان پر رحم کریں پاکستانیوں کو مسنگ پرسنز نا بنائیں ان کے گھروں کے تقدس کو پامال نہ کریں۔ مشرقی عورتوں کو بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پر مت گھسیٹیں۔ ماؤں کو بچوں کی تصویروں کے ساتھ ٹھٹھرتے موسم میں ہزاروں کلومیٹر مارچ پر مجبور نہ کریں۔ سیاسی کارکنوں کو ان کے سیاسی حق سے محروم نہ کریں۔ عوام کو فیصلہ کرنے دیں انہیں اپنے لیے کیسا ملک چاہیے۔

آپ کے ذمہ سازشوں کو روکنا ہے۔ اصل سازشیوں کا پتا لگائیں۔ انہیں وقت پر کچلیں کہیں پھر اتنی ہی دیر نا ہو جائے کہ حقائق کا پتا چلنے پر بھی سب بے سود ہو۔

Facebook Comments HS