کہانی: منٹگمری حصہ سات


کہانی کار : وقار مصطفی سپرا

فلاور مین کی عدالت میں آج پانچ قتلوں کے کیس کی سماعت تھی۔

تفصیل اس کی یہ کہ: گاما نام کے ایک مقامی کو گھوڑی پال مربعہ الاٹ ہوا۔ بعد از وفات آس کی جو کہ باعمر 110 سال ہوئی۔ مربعہ اس کے دو درجن لواحقین میں وجہ تنازع بنا۔ جو کہ اس کی لاش ابھی گھر میں ہی تھی آپس میں لڑ پڑے۔ اور مزید 6 افراد موقع پر ہی مارے گئے۔ سب سے پہلے فلاور مین نے اس کی بیوی کو برائے بیان طلب کیا۔ اس نے مدعا کچھ یوں بیان کیا کہ 6 لاشیں ہماری اس وقت کچہری میں ہم ساتھ لئے ہیں کیونکہ پیچھے کوئی بندہ یا عورت نہ ہے۔ جو کہ اس وقت ان لاشوں کو دفن کر سکے۔ فلاور مین نے تمام خاندان کی حاضری لگوائی۔ جس کی تعداد 25 تھی۔ 6 مردہ اور 19 زندہ۔ تمام 25 لوگ عدالت میں حاضر تھے۔ برے حال پرانے خستہ کپڑے اکثر پاؤں میں جوتا تک نہیں۔ عرض فلاور میں نے سوچا کہ یہ کیا لوگ ہیں۔ جن میں سانس تک نہیں پھر بھی اتنے ظلم۔

فلاور مین کو گزشتہ دو سالوں میں یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اس علاقہ کے لوگوں کی نفسیات دنیا بھر سے الگ ہے۔ اور ان کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ راج کے بانی کہہ کر گئے کہ صرف ٹیکس جمع کرنے پر توجہ رکھی جائے اور عوام کو دفتری عمل میں الجھائے رکھو کیونکہ نہ یہ لوگ سیدھے ہیں اور نہ ہی ان کو سیدھی بات سمجھ آ سکتی ہے۔

فلاور مین نے مائی سے پوچھا: مائی۔ ویل تمہارے اولاد ہے۔ انہوں نے ایک دوسرا کا بڑا نقصان کر دیا۔ اب تمہارے مطابق اس سب کا ذمہ دار کون ہے اور کسی کو ان میں سے سزا دی جائے کیونکہ ایک جرم ہوا ہے تو قانون نے اپنا راستہ لینا ہے۔

مائی بولی : صاحب سزا دا ویلا (وقت) ابھی شاید نہیں آیا۔ کیونکہ دل اجے تک کھارے وی نا بیٹھا، تے لگیاں نے لاگ لے لئے۔ ( لوک محاورہ) اس لئے عرض یہ ہے کہ ان میں کسی کو سزا ہو نہیں سکتی۔ نہ پنچایت کے مطابق نہ قانون کے مطابق کیونکہ ان میں سے کسی کا قصور ہی نہیں۔

فلاور مین مائی کی مد لیل گفتگو سن کر متاثر ہوا۔
اس نے پوچھا :۔ مائی قصور کسی کا پھر؟
صاحب یہ بتائے یہ لوگ آپس میں کیوں لڑے؟
فلاور میں بولا۔ ویل زمین کے لئے۔
مائی :۔ نہ صاحب زمین نہیں۔ نہری زمین کے لئے ورنہ یہ زمین جب سانجھی تھی۔ تب کبھی کوئی نہ لڑا تھا۔
فلاور میں بولا : او کے نہری زمین کے لئے لیکن لڑے تو یہ ہیں نا۔

مائی: نہ جو لڑے وہ مر گئے اور اب صرف اس مقدمہ میں ایک فریق کا جو کہ ابھی بھی موجود ہے۔ اب آپ کا دل کرے تو اس کو سزا دو یا بری کر دو۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

لیکن فلاور میں بولا : وہ ہے کون۔

مائی ہوئی وہ ہے موئی نہر۔ جس نے گھر گھر میں نفرت کا بیج ڈالا اور زمین کے چپہ چپہ پر خون سفید ہوا۔ صاحب! اس نہر کو سزا نہ دی تو پھر ایک دن ویسے ہی اس کو سزا ملے گی۔

فلاور مین لاجواب ہو گیا۔ اس نے مثل پر یک سطری جملہ لکھا :۔ تمام فریقین اس مقدمہ میں وفات پا گئے عدالت برخواست کر دی کہ مقدمہ قابل سماعت نہ ہے۔

اور یہ سوچنے ہوا اُٹھا کہ کیا یہ ”نہر“ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ گھوم پھر کر ہر مقدمہ میں نہر ہی قصور وار نکلتی ہے؟
لیکن اس کو کچھ سمجھ نہ آیا۔
…………………………………………………

صاحب قصہ کچھ اس طرح کہ راوی کے کنارے نور شاہ سے آگے روشن شانی نام کا ایک چھوٹی سی آبادی ہے۔ ان کے ساتھ بابا جی کی کولیی ( مٹی کا روایتی کمرہ جات ) تھی۔ وقت کے ساتھ لوگ آنے لگے اور بابا جی تھے بھی کرنی والے۔ عرض وہاں پر وہ جگہ بابا مستان دی کولیں کہلانے لگا۔ ایک دن برکلے اے سی تب ضلع گوگیرہ کہلاتا تھا۔ جہاں یہ شہر آباد ہوا منٹگمری اس جگہ جنگل تھا یہ میرے پردادا کی چند جھوگیں ( لکڑی و مٹی کے کمرے ) تھی۔ جب ریل بنائی تو ہمیں چند میل دور کہا گیا کہ جاکر جھونپڑے لگا لو۔ عرض ماڈہ ( کمزور ) کیا اور نخرا کیا۔ ہم لوگ چلے گئے۔

فلاور مین بولا۔ برکلے کے قصہ پر رہو۔

شیرا ساہی بولا: جی صاحب! ایک دن۔ سیات ( بد قسمتی) نے برکلے کو اٹھایا اور وہ اس طرف جا نکلا اس نے دیکھا کہ خلقت بڑی اطراف بابا مستان موجود ہے۔ نا معلوم کیا اس بد دماغ کو ہوا کہ اپنے سپاہیوں کو کہا کہ ان کولیوں کو آگ لگا دو۔ سپاہیوں نے ڈرتے ڈرتے اطراف کے کچھ کولیوں کو جو کہ آٹا جمع کرنے کے لئے تھی کو آگ لگا دی۔ بابا مستان کی کولیی کو جب آگ لگی تو اندر آٹا تھا اور وہ خاک کی مانند ہوا میں اُڑا۔

اس کو دیکھ کر بابا مستان نے بد عادی کہ ان کو آگ لگنے والا آج ہی مارے اور اسی طرح دھوڑ میں رینگ رینگ کر مارے۔

فلاور میں حیرت سے یہ قصہ سنا۔ جو ایک مقامی ڈیرہ دار شیرا ساہی سے سن رہا تھا۔ بولنے کو بولا لیا تھا لیکن بعد از فلاور مین کو پتہ چلا کہ یہ شخص سرکار کے کاغذوں میں موافق نہ ہے۔ لیکن اب تو آ گیا تو فلاور مین نے سوچا کہ قصہ سن ہی تو۔

خیر برکلے بھی ڈر گیا اور واپسی بنگلہ کی طرف گوگیرہ جا رہا تھا کہ اس کو 10 مقامی جیالوں نے گھیرا اور مار دیا۔ مارتے ہوئے وہ گھوڑے سے گرا اور اس نے دریا کنارے کے کلر میں جو کہ گھوڑوں کے آنے سے اڑ رہی تھی۔ اس میں رینگ کر جان بجانے کی کوشش کی لیکن بچ نہ سکا۔ بعد از اس کے مقدمہ قتل میں کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئے۔ لیکن ان کو جب سزائے کالا پانی ہوئی تو اس کے لئے ان کو بحری جہاز میں کالا پانی بھیجا جا رہا تھا تو وہ لوگ جہاز سے فرار ہو گئے اور ابھی زندہ ہیں۔
فلاور مین نے حیرت سے یہ قصہ سنا۔ اور اس شام شیرا ساہی کا نام غیر موافق لوگوں کی سرکاری فہرست سے بھی کاٹ دیا

Facebook Comments HS