سندھ طاس معاہدہ کی معطلی۔ بحران یا موقع

وزیر اعظم مودی کے حالیہ بیان نے کہ وہ سندھ طاس معاہدہ کو منسوخ کر دیں گے، پاکستان میں ایک تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اس معاہدے کی منسوخی سے بلاشبہ پاکستان میں پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس صورتحال کو صرف ایک

Read more

پنجاب میں چاول کی کاشت پر پابندی اور چولستان میں چھ نہروں کے اعلان کا تضاد

پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جانے والا وہ بل جس کے تحت وسطی پنجاب میں نہری پانی کی قلت کے باعث اگیتی چاول کی کاشت پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، ایک طرف تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب، جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان میں بیک وقت چھ نئی نہروں کی تعمیر کا اعلان ایک ناقابل فہم تضاد کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں خبریں ایک ہی صوبے کے دو مختلف حصوں کی ایسی تصویر پیش کرتی

Read more

دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کا تنازعہ

آج کل پاکستان میں دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کا موضوع ایک گرما گرم بحث کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس مسئلے پر دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید نہروں کی تعمیر کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف سندھ کی صوبائی حکومت اور بہت سے ماہرین ماحولیات اس تجویز کی سخت مخالفت کر رہے

Read more

موسم سرما کی اداسی: موسمیاتی تبدیلی کا شکار لاہور

سردیوں کا موسم جادو کا موسم تھا۔ اب سردیوں کی سادہ لذتیں بھی تباہی کا باعث بن چکی ہیں۔ سردیوں میں دھوپ کی گرم آغوش میں ٹہلنے کے دن گزر چکے ہیں۔ اس کی بجائے، اب ہم اسموگ اور آلودگی کے زہریلے مرکب کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں جو ہوا میں بہت زیادہ موجود ہے۔ موسم سرما کا کبھی صاف آسمان اب اکثر آلودگیوں کی کہر سے دھندلا رہتا ہے، جو ہمیں سورج کی روشنی سے محروم کر دیتا

Read more

لاہور کاربن اور سموگ نیوٹرل سٹی؟

لاہور شہر میں پانچوں سیزن (موسم) سموگ شروع ہوا چاہتا ہے۔ جب ہم اپنی جدید تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو لاہور اور دہلی کی علاقائی بیلٹ ہمیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آلودہ نظر آتی ہے۔ یہ سب کیوں کب اور کیسے ہوا۔ یہ کہانی پھر سہی۔ لیکن آج ذکر کرنا ہے لاہور میں کی جانے والی شجر کاری کا۔ ہم یعنی میں اور چند درجن مزید لاہور کنوزویشن سوسائٹی کے ممبرز نے گُذشتہ ایک دہائی سے زائد

Read more

پاکستان کے لیے ایک سرسبز مستقبل: قابل تجدید توانائی

پاکستان، تیزی سے شہر کاری اور صنعت کاری سے نبرد آزما ملک، تیزی سے ماحولیاتی آلودگی کے اہم چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ لاہور کا سموگ سے لدا آسمان، جو ایک بڑا صنعتی مرکز ہے، غیر چیک کیے جانے والے اخراج کے نتائج کی واضح یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے ایک کے طور پر ، پاکستان کی ایک پائیدار مستقبل کی طرف منتقلی اس کی قابل تجدید توانائی

Read more

کہانی: منٹگمری حصہ سات

کہانی کار : وقار مصطفی سپرا فلاور مین کی عدالت میں آج پانچ قتلوں کے کیس کی سماعت تھی۔ تفصیل اس کی یہ کہ: گاما نام کے ایک مقامی کو گھوڑی پال مربعہ الاٹ ہوا۔ بعد از وفات آس کی جو کہ باعمر 110 سال ہوئی۔ مربعہ اس کے دو درجن لواحقین میں وجہ تنازع بنا۔ جو کہ اس کی لاش ابھی گھر میں ہی تھی آپس میں لڑ پڑے۔ اور مزید 6 افراد موقع پر ہی مارے گئے۔ سب

Read more

کہانی: منٹگمری حصہ چھ

کہانی کار : وقار مصطفی سپرا ڈپٹی کمشنر کا علاقائی دربار راوی کے کنارے پہ سابقہ ضلع مقام گوگیرہ پر لگا تھا۔ فوری امور کے علاقائی مقدمات صاحب کو پیش کیے گئے۔ مقدمات کی سماعت کرتے کرتے فلاور مین اکتا گیا تھا۔ گرمی کا موسم آ رہا تھا۔ گوگیرہ کے قدیم تعمیر شدہ کمرہ اور کچہری کی عمارت میں بے حد رش اور بدبو عرض وہ اکتا کر لسٹ کو دیکھتا ہے اور آخری مقدمہ کو شروع کرنے کا کہتا

Read more

سٹوری پارٹ 5

صبح سویرے سے ہی لوئر بار نہر کی پٹری پر صفائی اور مرمت کے لئے تاحد نگاہ محکمہ انہار کے نہری باوردی بیلدار اور درمیان میں ذرا مختلف وردیوں والے تار بابو جو کہ آج نگرانی کے امور انجام دے رہے تھے۔ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ چالیس فٹ چوڑی لوئر بار نہر حالیہ تاریخ کے عقلی معجزات میں سے ایک۔ جس نے پنجاب کو بدل کر دکھا دیا تھا۔ آج اس نہر پر پن بجلی کے منصوبے

Read more

ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان؟

ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان کون ہے یہ ایک سوال ہے۔ جو مجھ سے گزشتہ سال مختلف یونی ورسٹیوں کے طلبہ نے دوران لیکچرز پوچھا۔ سچ تو یہ ہے اس بات پر کبھی میں نے اس طرح غور ہی نہیں کیا تھا۔ ذہین میں جب اس سوال پر کئی ماہ غور کیا تو کچھ یہ سمجھ میں آیا۔ ایک تو یہ کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ورلڈ کلاس ایلیٹ یونی ورسٹی ہی کوئی نہیں۔ اس لئے

Read more

کہانی: منٹگمری حصہ چہارم

کئی ایکڑ رقبے پر پھیلے وکٹوریا طرز تعمیر کی ایک عمارت منٹگمری کے کچہری کے ساتھ چرچ اور کرکٹ میدان کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کو ہی کلب گھر بنا دیا گیا تھا۔ فلاور مین نے ہفتہ میں تین شامیں کلب گھر کے لئے مخصوص کر رکھی تھیں۔ اس کی دیکھا دیکھی شہر کی نئی اشرافیہ کے ساتھ ساتھ انگریز افسر و یورپی شہری بھی کلب کے چکر لگا نے لگ پڑے تھے۔ آج ثانی بھی اجل

Read more

منٹگمری (3)

ڈپٹی کمشنر کی عدالت کا بڑا سا کمرہ خاص برطانوی طرز تعمیر۔ اونچی چھت اور موٹی لکڑی کے بالے کی اونچی چھت اور اوپر کوئی 14 فٹ اونچائی پر رسے سے کھلنے اور بند ہونے والا ہوادار روشن دان کورٹ روم میں بھانت بھانت کے لوگ اور ان کے مسائل و مقدمات۔ غرض یہ کہ ایک عدالت کا روایتی منظر۔ فلاور مین ابھی عدالت میں آیا نہ تھا۔ عدالت میں آج ایک مقدمہ زیر بحث تھا۔ جس میں ایک لڑکی

Read more

منٹگمری (2)

لوئر مال لاہور پر ضلع کچھری کے اندر و با ہر پولیس کا پہرہ تھا۔ اندر بھگت سنگھ کی پیشی پر کمرہ عدالت میں صرف خاص الخاص اجازت یافتہ لوگوں کو ہی جانے کی اجازت تھی۔ میر ثانی کی بے عیب انگریزی کام دکھا گئی اور موہن سنگھ اور وہ دونوں اندر جانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن تب تک مقدمے کی آج کی سماعت مکمل ہو چکی تھی اور بھگت سنگھ و دیگر کو باہر عدالت سے آتے ہوئے۔

Read more

(1) منٹگمری

”یہ انگریز بھی نہ عجیب ہوتے ہیں“ ۔ اجل سنگھ نے ناشتے کی میز پر اپنے خاندان سے گفتگو شروع کی۔ اجل سنگھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھا ”ان انگریزوں کو ہمارے رواجوں کا بالکل بھی اندازہ نہیں کل فلاور مین صاحب نے ڈپٹی کمشنر ضلع منٹگمری نے مجھے ضلع دربار کے بعد حقہ پیش کر دیا۔ اب میں نام کا ہی نہیں واقعی گرو کا داس ہوں۔ میں تمباکو کیسے کھینچ سکتا؟ ” ”تو تم نے کیا صاحب کے سامنے کے

Read more

یاد کے لنگر کا منظر: کاشف رضا اور اقبال خورشید کے طویل مکالمہ کے بعد

آج اقبال خورشید صاحب کے کاشف رضا بھائی کے ساتھ گفتگو دیکھی اس سے پہلے اقبال خورشید ناصر عباس نیر صاحب سے بھی گفتگو کی۔  یاد کے لنگر پر عجب منظر آئے۔ آئیے آپ کو دیکھتا ہوں۔ کوئی چھ، آٹھ برس پرانی بات ہے۔ جب اچانک سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اپنے اپنے اردو ناول کے آنے کا اعلان کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ میں نے تقریباً سب ہی دیکھے اور جو اچھا لگا ان کا کچھ حصہ پڑھا

Read more

پاکستان کے موجودہ بحران کی حقیقی وجہ

آج کل ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ آخر پاکستان اس گرداب میں پھنسا کیوں؟ کیا اگلا سری لنکا ہم تو نہیں؟ کیا سابقہ حکومت کی ناتجربہ کاری لے ڈوبی؟ لطیفہ یہ ہے کہ جس سے بھی پوچھو۔ اس کے پاس ان کا کوئی نیا جواب۔ اگر اس بات کے پس منظر میں جائیں تو یقینی طور پر اس کے اوپر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن ہم بات کو مختصر کرتے ہوئے اس کالم میں

Read more

حافظ نعیم اور ابراہیم مراد: جماعت اسلامی کے جدید کردار و افکار کے ترجمان

پاکستانی معاشرہ کے طالب علم و حصہ ہونے کے طور پر مجھے ہمیشہ سے جماعت اسلامی کے افکار و ارتقا میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے۔ جہاں تک ذاتی پسند و ناپسند کا تعلق ہے تو شاید میں کسی حد تک جماعت اسلامی کو پسند ہی کرتا ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ کسی بھی جماعت کے حوالے سے آپ کا تاثر اس کے مرکزی قیادت کے حوالے سے ہی بناتا ہے۔ مجھے اتفاقاً جماعت کے جن بزرگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان

Read more

حقیقی کامیاب کون؟

اب اتنے سالوں بعد جب یاد کا لنگر اٹھاتا ہوں اور تو یاد آتا ہے کہ وہ 2010 کا موسم بہار تھا۔ مارچ کے آخری دن چل رہے تھے۔ ایک دن ”بوڑ“ (برگد) کے درخت کے نیچے چشتی، ڈاکٹر اور میں بیٹھے تھے کہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ کامیابی کی تعریف کیا ہے؟ میں نے کہا کہ اچھا وقت گزرنا۔ چشتی بولا:۔ کن اداروں سے تعلیمی اور پیشہ ورانہ و سماجی طور پر وابستہ رہے۔ ڈاکٹر نے چوٹ کی، کہا ”چشتی صاحب! صاف کہو نہ سول سر ہیں۔

ہماری باتیں سن اکثر اور لوگ بھی ہمارے پاس بیٹھنا شروع کر دیتے تھے۔ اس دن بھی علی اور وحید آ بیٹھے تھے۔ ہم نے ان کی رائے لی کہ وہ کچھ اس پر تبصرہ کریں۔ علی نے ہمیشہ کی طرح فلسفیانہ نکتہ اٹھایا کہ ’کہتی ہے خلقت تجھے غائبانہ کیا‘ وحید بولا: میرے خیال میں ناموافق حالات میں کتنا باوقار رہیے۔

Read more

لاہور کے ماحول کو تباہ کرنے والا راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ

راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ایک نیا منصوبہ ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ راوی دریائے سائفن سے ہڈاریاں ڈرین جو کہ موہلن وال سے دریا کی طرف ہے تک 08 لاکھ کنال سے زائد رقبہ پر ایک میگا کمرشل رہائشی منصوبہ بنایا جائے۔ اس منصوبہ کے تحت 14 لاکھ گھر کی تجویز ہے جبکہ کمرشل منصوبہ جات اس کے علاوہ ہیں۔

اس طرح ایک طرح سے تقریباً 70 لاکھ سے 01 کروڑ آبادی والا ایک نیا شہر لاہور کے ساتھ بنانے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ پہلی دفعہ آج سے قریب 12 سال پہلے شہباز شریف کے دوسرے دور وزارت اعلیٰ میں سامنے آیا۔ بعد از سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا اور بنیادی کام اور فزیبلٹی رپورٹ بناتے بناتے وہ دورحکومت ختم ہوگیا۔ الیکشن کے بعد دوبارہ جیسا کہ سرکاری کام کا ہمارے ملک میں رواج ہے۔ آہستہ آہستہ یہ کام پھر شروع ہوا۔

Read more

جس جان گزرے وہ جانے

آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے لئے واحد مصروفیت سوشل میڈیا ہی رہ گیا ہے۔ تو ان وقتوں میں جو بھی مسئلہ سوشل میڈیا پر ذرا سا نمایاں ہو جائے۔ اس پر بہت تیزی سے راے دینے والوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ آج یا عہد لاک ڈاؤن سے نہیں بلکہ شروع سے ہی ہمارے معاشرے میں کسی بھی سماجی مسئلہ پر جو عوامی راے بنتی رہی ہے اس میں سوشل

Read more

ہم ایک قوم ہیں یا چوروں کا ہجوم؟

آج میں ایک مشاعرہ میں شرکت کے لیے مغلپورہ جا رہا تھا کہ مال روڈ والے انڈر پاس کے بعد لاہور کی نہر پر کچھ زیادہ ہی رش تھا۔ بہر حال میں جیسے آگے بڑھا کیا دیکھتا ہوں کہ کاروں موٹر سائیکلوں کا سیل رواں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے۔ جیسا ایک دوسرے کے اوپر سے گزر جانا چاہتا ہو۔ میرے ہم سفر کہنے لگے کہ جناب بہتری کی کوئی صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ ہم ایک

Read more

کتابوں کی دکانیں اور ہمارا معاشرہ

ہمارے ملک ہمارے معاشرے میں جب بھی بات کریں تو ہر کوئی ہر وقت مائل بہ گلہ ہی ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگ ہیں جو کہ اس ہر طرف رواں اخلاقی پستی کے بارے میں سوچتے اور سمجھتے بھی ہیں کہ یہ ہے تو کیوں ہے اور دنیا کے باقی معاشرہ یا بڑے شہروں میں زندگی کیسی ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا شوق جو کہ بعد از میرا مضمون اور پھر زندگی کی غالباً واحد نہ

Read more