سال نو: کیا ہوا، کیا ہو گا؟


ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دنیا نے جانے والے سال کو رخصت کرتے ہوئے نئے سال کا پرجوش استقبال کیا۔ انسانی بقا کا راز، مشکل حالات میں پرامید رہنا ہے۔ ذرا سوچیں پچھلے چند سال دنیا پر کتنے بھاری گزرے ہیں۔ کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا نے 6 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لقمہ اجل بنایا، عالمی سپلائی چین کے ٹوٹنے سے بین الاقوامی تجارت تباہ ہو گئی اور عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ کووڈ کے بعد عالمی سطح پر معاشی بحران سے نکلنے کی کوششیں ہو رہی تھیں کہ روس۔ یوکرین جنگ کا آغاز ہو گیا اور دنیا توانائی و غذائی بحران کی زد میں آ گئی۔

تا ہم، انتہائی غیر معمولی حالات بھی انسانی عزم کو کمزور نہ کر سکے۔ نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہوئے یہ سوچا جانے لگا کہ گیا سال کیسا تھا اور نیا سال اپنے ساتھ کیا پیغام لایا ہے۔

گزشتہ برس یورپ اور یورپی یونین کو کن حالات و واقعات کا سامنا رہا اس پر اگر ایک جامع نظر ڈال لی جائے تو 2024 یورپ کے لئے کن امکانات کے ساتھ آیا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا۔

یورپ 44 جب کہ یورپی یونین 27 ملکوں پر مشتمل ہے۔ یورپی یونین کے ممالک کی آبادی تقریباً 45 کروڑ ہے، اس کا رقبہ 16 لاکھ مربع میل سے زیادہ ہے۔ اس یونین کے 21 ملکوں میں پارلیمانی جمہوریت، 5 ملکوں میں نیم صدارتی جمہوری اور ایک ملک میں صدارتی نمائندگی کا نظام رائج ہے۔

یورپ کئی برسوں سے سیاسی اور معاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ 2023 میں توانائی اور اشیا6 کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی لیکن وہ اب بھی 15 سال کی بلند ترین سطح پر برقرار ہیں۔ گزشتہ سال انرجی سیکیورٹی یورپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی جس پر کچھ حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ 2024 میں دنیا کی غیر یقینی سیاسی و جیو پولیٹیکل صورت حال یورپ کی معاشی بحالی میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی اور علاقائی بحرانوں کے باوجود یورپ میں جمہوری نظام مستحکم رہا۔ جمہوری عمل میں شہریوں کی نمائندگی، شہریوں کو حاصل حقوق، قانون کی حکم رانی اور انتظامی امور میں شہریوں کی شرکت کی سطح، وہ پیمانے ہیں جن سے جمہوریت کے مضبوط ہونے کو جانچا جاتا ہے۔ یورپ ایک بڑا اور متنوع جغرافیائی خطہ ہے۔ گوناگوں مسائل کے باوجود اس کا شمار ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں جمہوری ادارے اور اقدار بہت مضبوط ہیں۔ جمہوریت کے حوالے سے جن پیمانوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کے مطابق عالمی درجہ بندی میں 20 سر فہرست ملکوں کا تعلق یورپ سے ہے۔

تاہم، یورپ میں بھی صورت حال یکساں نہیں ہے۔ شمال مغربی یورپی ملکوں کی کارکردگی کافی بہتر ہے۔ مشرقی یورپ کے ملکوں آذربائیجان، بیلا روس اور رشین فیڈریشن میں جابرانہ حکومتیں قائم ہیں جہاں تک مغربی یورپ کا تعلق ہے تو ہنگری اور پولینڈ کے سوا بلغاریہ، شمالی مقدونیا اور رومانیہ میں جمہوری نظام اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔

یورپ کو 2023 میں ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر یورپی ملکوں کے مقابلے میں پرتگال، یونان اور البانیہ کے درجہ حرارت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرم لہروں یعنی ہیٹ ویوز سے 2023 میں 70000 ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں جب کہ 2022 میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز سے 61 ہزار لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ ہیٹ ویوز سے اٹلی، اسپین اور پرتگال میں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتیں % 56 زیادہ ہلاک ہوئیں ہیں۔

یورپ میں 2023 کے دوران چند اہم واقعات ہوئے۔ 14 جون 2023 کو یونان سے غیر قانونی طور پر تارکین کو لے جانے والے فشنگ ٹرالر کو ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں عورتوں بچوں سمیت 500 سے زیادہ لوگ اذیت ناک موت کا شکار ہو گئے۔ جان سے جانے والوں میں بہت سے پاکستانی بھی شامل تھے۔ اگست 2023 میں شمال مشرقی یونان میں یورپی یونین کی تاریخ کی سب سے بھیانک جنگلی آگ بھڑک اٹھی اور 4 لاکھ ہیکٹر علاقے کو خاکستر کر گئی۔ گزرے سال فن لینڈ، نیٹو کا 31 واں رکن بن گیا۔

2024 کے اوائل میں سویڈن بھی روس کے خوف سے نیٹو میں شامل ہونے والا ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ حماس۔ اسرائیل جنگ میں یورپ کوئی متفقہ موقف نہ اپنا سکا۔ یورپی یونین نے بھی اپنے پرانے موقف پر اکتفا کیا کہ اسرائیل کو عالمی قوانین کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور غزہ کو بلا رکاوٹ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد ملتی رہنی چاہیے۔ 2023 کا اہم سیاسی واقعہ نیدر لینڈ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت، پارٹی آف فریڈم کی حیران کن فتح تھی۔

اسلام، تارکین وطن اور یورپی یونین کی مخالف قوم پرست جماعت کی کام یابی لبرل، ڈیموکریٹک اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ جون 2024 کو یورپی پارلیمنٹ کے لیے عام انتخابات ہونے والے ہیں جن میں یورپی یونین کے 27 ممالک کے کروڑوں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یہ انتخابات ہندوستان کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے بڑے عام انتخابات ہوں گے۔ چلتے چلتے یہ بتاتی چلوں کہ 2023 میں آئس لینڈ، ڈنمارک اور آئر لینڈ دنیا کے تین محفوظ ترین ملک قرار دیے گئے ہیں جب کہ افغانستان، یمن اور شام دنیا کے تین سب سے خطرناک ترین ملکوں میں شامل ہیں۔

امید کے ساتھ سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ نیا سال دنیا کے لیے پچھلے سال سے کم مشکل اور زیادہ بہتر ثابت ہو۔

Facebook Comments HS