یورپی پارلیمانی انتخابات: دائیں بازو کا سیاسی ابھار

یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے وہ انتخابی نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ انتخابات پچھلے چند سالوں کے دوران، پورپ کے سیاسی رجحانات میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی عوامی پذیرائی کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ثابت ہوئے ہیں۔ یورپین پارلیمنٹ کی نوعیت اور اہمیت کے بارے میں چند باتیں جاننا ضروری ہیں۔ یورپین پارلیمنٹ کا قیام 1958 میں عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں یورپی یونین کے رکن

Read more

شیما کرمانی: ہر تان ہے دیپک

تحریر: صائمہ حیات/ عاطف حیات پرفارمنگ آرٹ اور بطور خاص کلاسیکل رقص کو ہمارے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر اس فن کی پذیرائی نہ ہونے کے سبب یہ فن اب یکسر معدوم ہو چکا ہے۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں بشمول اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں طالبعلموں کی اکثریت تعلیم حاصل کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ طالب علم اپنے پورے تعلیمی کیریئر کے دوران اس فن سے مکمل طور پر نابلد رکھے جاتے ہیں بلکہ نصاب میں

Read more

زندگی نہیں موت کے لیے ڈاکٹروں کی مدد کے طلب گار

اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں 24 مارچ کو اسکاٹش لبرل ڈیموکریٹ میک آرتھر نے ایک بل متعارف کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ شدید اذیت و تکلیف سے دوچار ایسے بالغ افراد جو لا علاج بیماری میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹر کی مدد سے اپنی زندگی خود ختم کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایسا کرنے کا قانونی حق فراہم کیا جائے۔ یہ برطانیہ کا پہلا حصہ ہے جہاں اس طرح کا قانون منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس

Read more

بالٹی مور حادثہ؛ چند حقائق

امریکا کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کی بندر گاہ سے منگل کی ابتدائی صبح 95000 ہزار ٹن وزنی اور ایفل ٹاور جتنے حجم والا ایک کنٹینر بحری جہاز ’ڈالی‘ بندرگاہ کی آبی راہ گزر پر واقع مشہور ’کی برج‘ کے نیچے سے گزر کر سری لنکا کے طویل سفر کے لیے روانہ ہوا۔ اسے 27 دن بعد 22 اپریل کو، کولمبو پہنچنا تھا۔ ابھی جہاز پل کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اس کی بجلی غائب

Read more

روس میں دہشت گرد حملہ: یورپ میں خوف کی لہر

سرد جنگ کے خاتمے اور سابق سویت یونین کی شکست و ریخت کو اگرچہ 32 سال گزر چکے ہیں لیکن روس کا شمار آج بھی دنیا کے طاقت ور ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ یہ ملک اس وقت سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے لیکن اس کے بے پناہ قدرتی وسائل بالخصوص تیل و گیس کے وسیع ذخائر نے اسے معیشت کے بد ترین بحران سے اب تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔ روس ایک بڑی جوہری اور فوجی طاقت بھی

Read more

یورپ پر تارکین وطن کا بوجھ؟

انسانوں کے آباؤ اجداد نے افریقہ سے 20 لاکھ سال قبل ہجرت کے جس سفر کا آغاز کیا تھا وہ پوری دنیا میں آج تک جاری ہے۔ ورلڈ امیگریشن رپورٹ کے مطابق 2010 میں بین الاقوامی تارکین وطن کی تعداد 22 کروڑ تھی جو 2021 میں % 27 بڑھ کر 28 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ تارکین وطن امریکا، جرمنی اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ یورپ میں بیرونی ملکوں سے

Read more

یورپ سیاسی تصادم اور مظاہروں کی زد میں

گزشتہ چند مہینوں سے یورپ کے کئی ملکوں میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی سوچ کے خلاف زبردست عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جرمنی، فرانس اور اسین میں لاکھوں لوگوں نے سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل کر لبرل، اعتدال پسند اور بائیں بازو کی سیاسی فکر کی حمایت اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست پر کھل کر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے

Read more

فرانس کا نو عمر ترین وزیراعظم اور سیاسی کشمکش

یورپ نے تقریباً 500 سال قبل اندھیروں سے نکل کر روشنی کی دنیا کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ نشاۃ ثانیہ یعنی حیات نو کے طویل دور میں فکری، ادبی اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جرمن راہب اور مصلح مارٹن لوتھر نے 95 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تحریر کر کے ریاست پر پوپ کی بالا دستی کے خاتمے کی، تحریک اصلاح کی کامیابی کی راہ ہموار کر دی تھی۔ ان گزری صدیوں

Read more

سال نو: کیا ہوا، کیا ہو گا؟

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دنیا نے جانے والے سال کو رخصت کرتے ہوئے نئے سال کا پرجوش استقبال کیا۔ انسانی بقا کا راز، مشکل حالات میں پرامید رہنا ہے۔ ذرا سوچیں پچھلے چند سال دنیا پر کتنے بھاری گزرے ہیں۔ کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا نے 6 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لقمہ اجل بنایا، عالمی سپلائی چین کے ٹوٹنے سے بین الاقوامی تجارت تباہ ہو گئی اور عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا

Read more

صنفی برابری کے حصول کا خواب!

دنیا کے تمام ملک چونکہ ارتقائی عمل کے مختلف مدارج میں ہوتے ہیں لہٰذا چند مشترک بنیادی شعبوں کے حوالے سے عالمی صورت حال کو جانچنے کے لئے درجہ بندی کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ ہر سال کے اختتام پر یہ تجزیہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں معاشی و سماجی ترقی، صحت، ماحول، انسانی حقوق اور صنفی فرق جیسے معاملات میں ماضی کے مقابلے میں منفی یا مثبت کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ ایسے موقع

Read more

نیدر لینڈ: سیاسی سمت کا فیصلہ ہونے کو ہے!

7 جولائی 2023 کو امیگریشن کے مسئلہ پر اختلافات پیدا ہونے کے باعث نیدر لینڈ میں قائم چار جماعتی مخلوط حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعد ازاں، 22 نومبر کو نیدر لینڈز میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس میں اسلام اور اقلیتوں کے سخت مخالف سیاست دان گیرٹ ولڈرز کی سیاسی جماعت پارٹی فار فریڈم ( PVV) نے پارلیمان کے ایوان زیریں کی 150 میں سے 37 نشستیں اپنے نام کر کے ڈچ پارلیمان میں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں

Read more

عورتوں کے حقوق کا عالمی دن اور زاہدہ حنا

بے فکری کے کیا خوبصورت دن تھے، ہم نے یونی ورسٹی کی مصروفیات کو نمٹانے کے بعد شہر بھر کی ادبی و ثقافتی کانفرنسوں اور تقریبات میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ان سرگرمیوں کی بدولت ہم شہر کی ادبی، سیاسی اور فنون لطیفہ کی اہم شخصیات سے روشناس اور متعارف ہوئے۔ شہر کی جس ادبی شخصیت سے سب سے پہلے ہمارا تعارف ہوا وہ اردو ادب کی بہت اہم اور معتبر ادیبہ زاہدہ حنا صاحبہ تھیں۔ بچپن

Read more

2020 :جاتی شام کا پیغام

شام ڈھل چکی ہے اور سرد رات کی چادر پھیلتی جا رہی ہے۔ دور سے کہیں افسردہ پٹاخوں کی اکا دکا آوازیں سماعت سے ٹکرا رہی ہیں جس سے اس بات کا احساس اچانک مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ جاتے سال کی یہ آخری شام بھی آج کی سوگوار فضا دیکھ کر کتنی غمگین ہو گی کہ لوگ یا تو اکیلے یا اپنے پیاروں کے ساتھ گھروں میں قید ہو کر اسے رخصت کر رہے ہیں۔ میں بھی اپنے

Read more

اٹلی میں کرسمس اور بی بی شہید کی یاد

اٹلی کے وزیراعظم کونتے صاحب نے جب اس بات کا عندیہ دیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کرسمس کے موقعے پر پورے اٹلی کو ریڈ زون قرار دیا جائے گا، آمدورفت پر پابندی عاید ہو گی اور صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی لوگ گھر سے باہر نکل سکیں گے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر داخلہ میتھو سالوینی نے کونتے صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وزیراعظم اطالوی تاریخ، رسم و رواج اور کلچر سے نابلد ہیں۔ وہ لاک ڈاؤن کے نام پر کرسمس کے تہوار پر عوام کو زبردستی گھروں میں قید نہیں کر سکتے۔

یہ خبریں جب میری نظروں سے گزریں تو میں دل ہی دل میں مسکرائی اور سوچا کہ آخر اطالویوں کو کون روک سکتا ہے کرسمس کی ہنگاموں خیزیوں سے۔ کونتے صاحب کی یہ ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہیں لیکن اس بات پر عمل درآمد ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ ثابت نہی ہو گا۔

Read more

نوین جی حیدر۔ ایک فائٹر

نوین حیدر ایک فائٹر تھیں۔ وہ ایک ہمدرد انسان بہترین استاد اور دوستوں کی دوست تھیں۔ ان کا اپنے شاگردوں کے ساتھ صرف کلاس رومز تک کا رشتہ نہیں تھا کیونکہ اپنا بیشتر وقت وہ ان کی کونسلنگ میں صرف کرتیں اور پیشہ وارانہ زندگی میں بھی ان کی معاون اور مدد گار رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہمہ وقت اپنے شاگردوں میں گھری رہتی اور اپنا بیشتر وقت بھی ان ہی کے ساتھ گزارتی تھیں۔ وہ ایک زبردست موٹیویٹر تھیں اور اپنے شاگردوں کی چھو ٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کو بے حد داد دیا کرتیں تھیں۔ ایک استاد اور شاگرد کا ایسا رشتہ اب کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب کراچی میں تاریخ اور عورت کے عنوان سے سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور اس میں مجھے بھی ایک مقالہ پڑھنا تھا۔ کانفرنس کا جب پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا تو انہوں نے ہال میں باآواز بلند کہا آج صائمہ نے اپنا وننگ اسٹروک کھیلا ہے۔ ان کی طرف سے ایسی حوصلہ افزائی میرے لئے باعث مسرت تھی۔

Read more

خوابوں کی راہ گزر

میری یاداشت ساتھ نہیں دے رہی کہ وہ کون سی تاریخ تھی لیکن اس شام ہم جس ہستی سے روشناس ہوئے تھے وہ بہت ہی عظیم اور عالی مرتبت تھی۔ کافی دیر تو ہم اس بات کا افسوس کرتے رہے کہ ان کے بارے میں ہم اتنے لاعلم کیوں تھے۔ خیر انہیں جاننے کی خوشی زیادہ تھی اس لئے وہ افسوس پر غالب آ گئی اور ہم سب یعنی میں عاطف اور صدف تاریخ کے اس ورق سے جو کچھ بھی کشید کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا۔ ۔ ۔ کیا شاندار انسان تھے بی ایم کٹی صاحب۔

دبلے پتلے اور آنکھوں میں بلا کی ذہانت۔ اس شام شہر کے مختلف حلقوں سے وابستہ افراد جمع تھے۔ بائیں بازوں کے کارکنوں سے لے کر پیپلز پارٹی کی کئی نامی گرامی شخصیات، سول سوسائٹی کے کے سر گرم لوگ، مزدور تحریک سے وابستہ کئی مزدور لیڈر اور کئی جامعات کے پروفیسر اور ہم جیسے دیوانے لوگ۔ ۔ ۔ پی ایم اے ہاؤس کراچی میں بی ایم کٹی صاحب کے اعزاز میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور ان کے سبھی یار دوست اور مداح انہیں ان کی زندگی بھر کی جدوجہد پر شاندار خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔

Read more

جہاز کے مسافر: پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی

اس جمعہ کو ہم تین دوستوں نے ورچوئل سحری کا اہتمام کیا تھا، وٹس ایپ کانفرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کافی گپ لگائی۔ ہمیشہ کی طرح میں تھوڑا لیٹ ہو گئی، جب میں نے کانفرنس کال کو جوائن کیا تو وہ دونوں سحری کر کے چائے کے مزے لے رہے تھے۔ میں نے سحری میں کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ گارلک پراٹھا انڈے کے ساتھ بنایا جس کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔ خیر سحری کے ساتھ ساتھ میرے دونوں عزیز دوست مجھ سے اٹلی کے لاک ڈاؤن کا احوال پوچھ رہے تھے۔

ہماری گفتگو کا محور کرونا وائرس اور اس کے اثرات تھے۔
ھم سب مل کر ”چین“ کو کوس رہے تھے۔ ۔ ۔ مستقل باتیں کرتے کرتے ہم نے چائنا کا نام بھی بدل دیا تھا۔

Read more

اٹلی سے ایک کالم: ہم ہیں پاکستانی

رات کے اس پہر اٹالین، جرمن، امریکن، برٹش میڈیا کے کرونا وائرس سے متعلق اپڈیٹس دیکھ لینے کے بعد دل بہت اداس ہے۔ شاید لفظ اداس اس کیفیت کو بیان کر نے سے قاصر ہے۔ کرونا نامی وبا کا جو شعلہ چین سے اٹھا تھا وہ اب تک 200 ملکوں میں آگ لگا چکا ہے۔

اٹلی پچھلے ڈھائی سال سے میرا مسکن ہے یہاں تو اس جان لیوا وائرس سے ایسی ویرانی اور مردنی چھائی ہے کہ بہار کے رنگ بھی مائند پڑ گئے ہیں۔ ہر سو موت رقص کرتی ہے۔ لوگ سہمے اور مرجھائے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں۔ اٹلی میں اب تک 10 ہزار افراد جاں بحق چکے ہیں اور ہزاروں اس موذی وائرس کا شکار ہیں۔ اٹلی کے بعد اسپین یورپ کا دوسرا مللک ہے جہاں یہ مہلک وائرس اب تک پانچ ہزار افراد کی جان لے چکا ہے۔

Read more