جہاز کے مسافر: پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی

اس جمعہ کو ہم تین دوستوں نے ورچوئل سحری کا اہتمام کیا تھا، وٹس ایپ کانفرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کافی گپ لگائی۔ ہمیشہ کی طرح میں تھوڑا لیٹ ہو گئی، جب میں نے کانفرنس کال کو جوائن کیا تو وہ دونوں سحری کر کے چائے کے مزے لے رہے تھے۔ میں نے سحری میں کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ گارلک پراٹھا انڈے کے ساتھ بنایا جس کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔ خیر سحری کے ساتھ ساتھ میرے دونوں عزیز دوست مجھ سے اٹلی کے لاک ڈاؤن کا احوال پوچھ رہے تھے۔

ہماری گفتگو کا محور کرونا وائرس اور اس کے اثرات تھے۔
ھم سب مل کر ”چین“ کو کوس رہے تھے۔ ۔ ۔ مستقل باتیں کرتے کرتے ہم نے چائنا کا نام بھی بدل دیا تھا۔

Read more

اٹلی سے ایک کالم: ہم ہیں پاکستانی

رات کے اس پہر اٹالین، جرمن، امریکن، برٹش میڈیا کے کرونا وائرس سے متعلق اپڈیٹس دیکھ لینے کے بعد دل بہت اداس ہے۔ شاید لفظ اداس اس کیفیت کو بیان کر نے سے قاصر ہے۔ کرونا نامی وبا کا جو شعلہ چین سے اٹھا تھا وہ اب تک 200 ملکوں میں آگ لگا چکا ہے۔

اٹلی پچھلے ڈھائی سال سے میرا مسکن ہے یہاں تو اس جان لیوا وائرس سے ایسی ویرانی اور مردنی چھائی ہے کہ بہار کے رنگ بھی مائند پڑ گئے ہیں۔ ہر سو موت رقص کرتی ہے۔ لوگ سہمے اور مرجھائے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں۔ اٹلی میں اب تک 10 ہزار افراد جاں بحق چکے ہیں اور ہزاروں اس موذی وائرس کا شکار ہیں۔ اٹلی کے بعد اسپین یورپ کا دوسرا مللک ہے جہاں یہ مہلک وائرس اب تک پانچ ہزار افراد کی جان لے چکا ہے۔

Read more