جعلی سیاست


بچپن میں سنتے تھے کہ سیاست تو عوامی فلاح کا کام ہے، جس کو عوامی مشکلات کو جاننے اور پھر ان کو حل کرنے میں دلچسپی ہوتی تھی وہ عوامی فلاح کے موزوں پر پورا اترتے ہوئے الیکشن لڑنے اور پھر بڑے عہدوں پر بیٹھ کر عوام کے درپیش مسائل کو حل کرنے کا اہل ہوتا تھا

جب بڑے ہوئے تو دیکھا یہاں سیاست کا مرکز عوامی فلاح نہیں بلکہ اپنی فلاح ہوتی ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والے سیاستدان جب جیت کر کرسی پر براجمان ہوجاتا ہے تو اس کو عوامی درپیش مشکلات بھول جاتی ہیں اسے فقط اپنے مفادات نظر آرہے ہوتے ہیں، اس کے دل میں عوام کے امیدوں پر پورا نہ اترنے کے ڈر سے زیادہ کرسی سے اتر جانے کا ڈر ہوتا ہے۔

تھوڑے سے اور بڑے ہوئے تو دیکھا سیاستدان فقط الیکشن سے ہی نہیں بلکہ مفاہمت سے بھی حکومت بنانے کے اہل ہو سکتے ہیں، چنانچہ ایسا لگتا ہے ایک ظاہری دنیا کے پیچھے ایک گمنام سی دنیا ہے جو ظاہری دنیا کو کنٹرول کر رہی ہو، محسوس ہوا جیسے عوام کے ووٹ سے پارلیمنٹ میں آئے ہوئے سیاستدان اپنے فیصلوں اور اعمال میں خود مختار ہی نہیں ہیں، ان کو کسی بھی اہم معاملے کو شروع یا اختتام کرنے کے لئے کسی کندھے کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہ کندھا جس کو چاہے اپنی مرضی سے سہارا دیتا ہے، اور جب کسی کے فیصلے اس کندھے کو پسند نہ آئیں تو یہی کندھا اس سیاسی شخص سے سہارا لے لیتا ہے اور پھر جیسے کچھ لمحے پہلے دکھنے والی مضبوط حکومت ریت کی دیوار کی طرح گرتی چلی جاتی ہے۔

اسی سوچ نے ملک میں حقیقی سیاست کے بجائے کنٹرولڈ سیاست کے کلچر کو پروموٹ کیا، ایسی سیاست کو عوامی سیاست بنایا جس کو نہ عوام کرتی تھی نہ ہی عوام کے منتخب کیے ہوئے نمائندے، جب سیاستدانوں میں یہ سوچ عام ہوئی کہ سیاست عوام کے لئے نہیں بلکہ کسی ایک خاص شخص کے لئے کام کرنے کا نام ہے تو بس یہیں سے ہم اور ہماری راہیں حقیقی سیاست سے جدا ہو گئیں۔

پردوں کی پیچھے کی جانے والی سیاست کا عکس ہمیں ہر دور میں نظر آیا اور یہی سلسلہ چلتا ہوا آ رہا ہے۔ جب ایک پارٹی حکومت میں ہوتی ہے تو پورا نظام اسی کے تابع ہوتا ہے، عدالتوں سے بھی وہ ریلیف لینے میں کامیاب ہوتی ہے، اس کے مخالف ہونے والی ہر تحریک بے بس اور ناکام ہو جاتی ہے لیکن یہ سب تب تک ہوتا ہے جب تک کندھے کا سہارا ہوتا ہے۔ کچھ وقت کا گزرنا ہوتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے سب منظر تبدیل ہوجاتا ہے یہی حکومت جو سب پر حاوی ہوتی ہے وہ بے بس ہو کر رہ جاتی ہے، عدالتوں کے دیے ہوئے سب فیصلے اس کے خلاف استعمال ہونے لگتے ہیں، حکومت گرانے کی باتیں ہونے لگتی ہیں اور ایک اچانک ایک جمہوری ملک کی مضبوط حکومت دھڑام سے نیچے گرتی ہے!

اس غیر رسمی سیاست نے ملک کے ساتھ ساتھ عوام میں اخلاقی اقدار کو بھی متاثر کیا، سیاستدانوں کی غیر رسمی سیاست کی وجہ سے مجموعی طور پر عوام میں تفریق پیدا ہوئی۔ سیاستدانوں کی عوام کی سیاست کے بجائے ایک فرد کی سیاست کو اہمیت دینے کی وجہ سے عوام اور سیاسی پارٹیوں میں خلا آنے لگا جس نے پاکستان کی عوام میں نا امیدی اور مایوسی کو فروغ دیا، سیاستدان خود بھی ایک دوسرے سے جیتنے کے چکر میں اتنے باولے ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے مخالف کی صحیح بات کو بھی اپنی لاجک سے غلط قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جب ایک عدالت کسی پارٹی کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو اس پارٹی کے سپورٹر عدالتوں پر جانبداری کا الزام لگاتے ہیں اور جب یہی عدالت دوسری پارٹی کے خلاف فیصلہ کرتی ہے تو اب دوسری پارٹی کے ورکرز اور سپورٹرز عدالت کو جانبداری کو طعنہ دیتے ہیں، جب ملک میں انصاف بھی کسی کو فائدہ دینے اور نہ دینے کے تناظر میں دیکھا جائے اور کسی حد تک ہو گا بھی تو کیسے اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔

ہم اس کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر جتنی مرضی آنکھیں پھیر لیں لیکن ہمیں آنا عوام کی سیاست، آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف ہی ہو گا، کیونکہ ریاست کی طاقت عوام ہوتی ہے کوئی کرسی اور عہدہ نہیں، جو ملک عوام کو نظرانداز کرتے ہیں وہاں قانون رہ جاتا ہے نہ انصاف۔ سیاستدانوں کو اب اس کنٹرولڈ سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اپنے مفادات کی لڑائیوں سے بالاتر ہر کر ملک کے نظام کو بہتر کرنے، اور ان کو کرسی تک پہنچانے والے عوام کی فلاح کے لئے کام کرنا ہو گا، وگرنہ یہ کھیل ایسے ہی چلتا رہا تو عوام کو پھر بپھرنا بھی آتا ہے اور پبلک جب اپنی طاقت دکھانے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو کوئی عہدہ اور شخص اس سیلاب کو نہیں روک سکتا۔

Facebook Comments HS