کیا جناح اور نہرو انگریز کے ایجنٹ تھے؟
بھارتی اپنے بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ جناح انگریز کے ایجنٹ تھے اور ہم اپنے بچوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ نہرو انگریز کے ایجنٹ تھے۔ وہاں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریز تقسیم کر کے متحدہ ہندوستان میں موجود غیر معمولی ترقی کے امکانات کو نا صرف روکنا چاہتا تھا بلکہ ایک ایسی کمزور ریاست بھی چاہتا تھا جسے خطے میں روس، چین اور ہند کے خلاف استعمال کر سکے۔ جناح چونکہ تقسیم کے سب سے بڑے داعی سمجھے جاتے تھے اور یہ تقسیم ہی ہے جس نے انھیں جناح سے قائد اعظم بنا دیا، اس لیے وہ انگریز کے ایجنٹ تھے۔
یہاں ہم اپنے بچوں کو یہ دلیل دیتے ہیں کہ انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں اور ان کی ممکنہ مملکت سے خائف تھے اس لیے وہ ہندوستان کو متحد رکھ کر مسلمانوں کو انگریز کے بعد ہندو کی مستقل غلامی میں دینا چاہتے تھے۔ نہرو چونکہ ہر حال میں تقسیم کو روکنا چاہتے تھے اس لیے وہ انگریز کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے، مزید یہ کہ تقسیم ہونے کے بعد جس طرح بھارت کو نوازا گیا اور پاکستان کے ساتھ جس طرح باؤنڈری کمیشن اور دوسرے معاملوں میں زیادتی کی گئی اس سے بھی انگریز کا نہرو کی طرف واضح جھکاؤ نظر آتا ہے۔
یہ دونوں الزامات دلچسپ ہیں اور ان پر تقریباً یقین کیا جاتا ہے، مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس میں کچھ سچ بھی ہے یا یہ دو ریاستوں کے سرکاری بیانیے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ تاریخ کوئی پڑھنے پڑھانے کی چیز نہیں ہے بلکہ کھوج نکالنے کی چیز ہے۔ اب جبکہ تقسیم کو چھتر سال گزر چکے ہیں اور اس موضوع پر نا صرف بہت کچھ لکھا جا چکا ہے بلکہ ہر طرف کا انڈیا آفس کا ریکارڈ شائع بھی ہو چکا ہے تو اگر کوئی چاہے تو وہ ریاستی بیانیوں سے آگے بڑھ کر سچ جان سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں طرف کے ریاستی بیانیوں کو راسخ کرنے کے لیے اتنی دھول اڑائی گئی ہے کہ سچ کہیں گم ہو گیا ہے، لیکن اگر کوئی فرہاد جیسا حوصلہ رکھتا ہو تو یہ نہر بھی کھودی جا سکتی ہے۔
کچھ برس پہلے مجھے اس سوال کا سامنا تھا، اور ابھی بھی ہے، کہ ہم ایسے کیوں ہیں۔ ایسے سوال کا جواب کہیں تاریخ میں دفن ہوتا ہے اور آپ کو اسے کھوجنا ہوتا ہے۔ تاریخ کا ابتداء سے مطالعہ شروع کیا، جو اب بھی جاری ہے، بس کبھی کبھار تیز ہوجاتا ہے اور کبھی سست، تو بہت سی باتیں کھلنے لگیں۔ ابھی جتنا پڑھا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کی ضرورت ہے۔ اب تک کے مطالعے سے جو کچھ صاف ہو گیا ہے، سوچتا ہوں اسے تو لکھتا جاؤں۔
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اصلاً جناح تقسیم نہیں چاہتے تھے اور مسلمانوں کا استحصال نہرو کے متحدہ ہندوستان کا مقصد نہیں تھا تو یہ بیانیے کہ جناح اور نہرو انگریز کے ایجنٹ تھے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ آپ جناح، ان کی سیاسی جدوجہد اور ان کے مطالبات کو پڑھتے جائیں تو آپ کے سامنے یہ تصویر ابھر کر آجاتی ہے کہ وہ ایک تاریخی محرکات اور اثرات کو سمجھنے والے زیرک سیاستدان تھے جن پر مستقبل کو دیکھنے والی کھڑکی بھی کھلی ہوئی تھی۔
وہ اتحاد ہند کے بے پناہ فوائد سے بھی آگاہ تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اگر اقلیتوں کو آغاز سفر میں ہی آئینی ضمانتیں حاصل نہ ہوں تو ان کا استحصال کس قدر آسان ہوجاتا ہے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ متحدہ ہندوستان میں ایسا انتظام ابتداء سے ہی ہو جائے کہ مسلمان، جو پہلے سے ہی پسماندہ چلے آتے تھے، وہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت حاصل کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ اکثریت اس معاملے میں وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ جناح نے کابینہ مشن پلان جو کہ ہند کو متحد رکھنے کی واحد صورت تھی، کو دوسروں سے پہلے قبول کیا۔
کیا جناح نے تقسیم کی صورت میں پنجاب اور بنگال کو متحد رکھنے کے لیے سکھ اور ہندو اقلیتوں کو اس سے زیادہ دینے کی پیشکش نہیں کی جو وہ مسلمان اقلیت کے لیے مرکز میں مانگ رہے تھے۔ کیا جناح ہر حال میں علاقوں کی ایسی تقسیم جیسی پنجاب اور بنگال میں ہوئی سے بچنا نہیں چاہتے تھے۔ مجھے یہ صاف نظر آیا کہ ایک جناح ہی تو تقسیم سے بچنا چاہتے تھے اور باقی سب انجانے میں انہیں اس طرف دھکیلتے رہے۔
اپنے ہاں اور ہمسائے میں سب سے بڑی عدالتوں کو جب طرح مقتدرہ کے ہاتھوں کھلونا بنتے دیکھا تو جناح کا یہ اصرار اور بھی سمجھ آیا کہ حقوق کی بات پہلے طے ہوگی اور اسے چند ججوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
آپ نہرو کو ان کی سیاسی جدوجہد سے بھی سمجھ سکتے ہیں اور ان کی تصانیف سے بھی۔ میں نے دونوں کو پڑھنے کی کوشش کی ہے اور اس نتیجے ہر پہنچا ہوں کہ وہ حقیقت سے زیادہ آئیڈیل کے قائل تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جیسے وہ خود کھلے ذہن کے ہیں سب ایسے ہی ہوں گے ۔ اس کے باوجود وہ ایک دور تک دیکھ سکنے کی صلاحیت رکھنے والے سیاست دان تھے جو خوابوں کی راہ میں آنے والی ہر چیز کو ہٹانے کے قائل تھے۔ ایک کمزور مرکز ان کے خواب چکنا چور کر دیتا اس لیے انھوں نے کابینہ مشن پلان جس میں ہند کے اتحاد کی آخری صورت تھی اسے رد کر دیا۔ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور اپنی فطرت سے بہت کم وسعت قلبی نہرو کو وہاں لے آئی جہاں تقسیم رونما ہوئی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ وہ سب بہرحال آدمی ہی تھے، یہ ہم ہیں جو انھیں دیوتا بنا چکے ہیں، مگر تاریخ دیوتا پرستی کا پتہ دیتی ہے مگر خود دیوتا پرست نہیں۔


