ڈیرہ بگٹی کی ایسٹ انڈیا کمپنی


عجب اک لو سینہ کی چادر کے اندر جل اُٹھی ہے۔ جتنی تسکین کی مایا اس میں ڈالتا ہوں بجھنے کی بجائے بھڑکتی جا رہی ہے۔ اسے بجھانے کے لئے کئی کتب کی ورق گردانی کی ہے۔ مگر دائمی شعلہ بن کر جلتی جا رہی ہے۔ اس کی تپش دل و جگر کے ساتھ دماغ کی شریانوں تک پہنچ گئی ہے۔ اور روز کے واقعات اس میں خام تیل کا کام کر رہے ہیں۔

کبھی بھوک سے تنگ آ کر بگٹی جوانوں کی لاشیں پنکھوں سے لٹکی وٹس ایپ گروپس میں نظر آتی ہیں۔ اور کبھی فیس بک پر ہاتھ باندھے بزرگ اپنی اولاد کی معاش کے لئے نوابوں اور حکومتی اہلکاروں سے منت سماجت کرتے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی عورتوں کی بے سر و سامانی کی حالت میں حکمرانوں سے سوال کرتی نظر آتی ہیں۔ اور کبھی تعلیم یافتہ جوان اپنے ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر اعلیٰ عدلیہ کے دروازوں پر نظر آتے ہیں۔ اور دوسری طرف پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کی کامیابیوں سے بھرے اشتہاری میگزین وفاق کی لائبریریوں میں نظر آتے ہیں تو میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ مسلسل ستر سالوں سے گیس نکالنے والی کمپنیاں ان چند ہزار لوگوں کی بھوک مٹانے میں ناکام کیسے ہو گئی ہیں؟ اور جب ان میگزینوں کی اندر جھانکتا ہوں تو مجھے سفید پگڑی پہنے اور کالے چشمے لگائے ان حضرات کی تصویر نظر آتی ہے، جو ان کی پشت پناہی کرتے رہتے ہیں۔ اور چند لاکھ کی عوض پوری قوم کو گویا یرغمال بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں قائم گیس فیلڈز کا رویہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح بدل رہا ہے۔ 2004 کا رویہ اب بدل کر 1857 والی ایسٹ انڈیا کمپنی کا رویہ بن گیا ہے جو معاہدے نواب اکبر خان کے ساتھ کیے تھے۔ ان سب سے انکاری ہو گئے۔ مگر انکاری ہونے کا طریقہ بڑا مضحکہ خیز ہے۔ شروع میں مقامی لوگوں کی احتجاجی ریلوں کو سکیورٹی مسائل کے نام پر ہٹایا جانا شروع کر دیا۔

بعد میں اپنے لیے مقامی لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ ان کو ملازمت پر رکھا اور پھر ان ملازمت کی مد میں پبلک ویلفیئر کی ساری رقم ان کو دینا شروع کر دی۔ اور ان کے مٹی کے گھروندے شاہی محلات میں تبدیل ہو گئے اور پیسہ آنے کی وجہ انہوں نے دو دو کروڑ کی مالیت کی چار چار گاڑیاں بھی خرید لیں۔ اور مزید ان کے مقامی حکومتی افسران سے تعلقات بھی بن گے، کیونکہ یہ ایک عمومی رویہ ہے کہ جب بھی افسران، علاقے میں آتے ہیں تو علاقہ کا جائزہ لیتے ہیں، تو سب سے پہلے گھروں اور گاڑیوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اور جب ہر طرف مٹی کے گھروں کے بیچ میں صرف ایک دو عمارتیں نظر آتی ہیں تو ان کو جاننے کے تجسس میں نکل پڑتے ہیں۔ پھر ان سے دو چار ملاقاتیں ہوجاتی ہیں اور آہستہ آہستہ تعلقات بن جاتے ہیں۔ اور ان تعلقات کی وجہ سے عوام ان کی اندرونی طاقت کے ساتھ ساتھ ظاہری شخصیت سے متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور گیس کمپنی کی یونینز کے الیکشن جیتنا ان کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔ اور یونین میں بیٹھ کر صرف کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات کی حد تک آواز اٹھاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری رہا۔

جب عوام کی اکثریت ریٹائرڈ ہونے لگی تو مجبور عوام نے عدالتوں کا رخ اختیار کر لیا۔ پھر ان گیس کمپنیوں نے بھی اپنے لیے وکیل رکھ لیے۔ اور ان کو سالانہ کروڑوں روپے دینا شروع کر دیے۔  غریب بگٹی عدالت تک پہنچنے کی طاقت تو رکھتے تھے۔ مگر ان کے مقابلے کا وکیل تو نہیں رکھ سکتے تھے۔ بالآخر کچھ سال پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان مظلوموں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ لیکن پھر بھی ان بے بس عوام کے وسائل کی گردن پر سواری کے گھناؤنے کھیل ختم نہیں ہوئے۔ لہٰذا انھوں نے ایک انوکھی درخواست عدالت میں جمع کروا دی۔ جس میں ویکینسی خالی نہ ہونے کا عذر اور اگلی ملازمتیں مقامی افراد کو دینے کا وعدہ شامل تھا۔

وقت گزرتا گیا۔ اور گیس فیلڈز کے اشتہار آنے لگے۔ لیکن اشتہار ڈیرہ بگٹی تو نہیں پہنچ پاتے۔ کیونکہ وہاں اخبار نہیں جاتا۔ پھر بھی ان مظلوموں کو کسی نہ کسی طریقے سے وہ اشتہار ملنے لگے۔ لیکن اس میں دس دس سال کا تجربہ لازماً چاہیے ہوتا تاکہ مقامی بندہ اپلائی بھی نہ کر سکے۔ اور گزرے حکومت میں نوابزادہ شازین کے ذریعے ان کو اپنے وعدہ کی یاددہانی کرائی گئی، اور ان کو بتایا گیا کہ آپ نے تو خالی پوسٹوں پر مقامی افراد کو ملازمتیں دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

مگر پھر بھی وہ کچھ نہ مانے۔ اور نہ ماننے کی وجہ ملک پر قابض سرمہ داری نظام ہے۔ جس نے ان نیم سرکاری اداروں کو اتنا مضبوط کر دیا کہ اب لوکل لوگوں کے ساتھ کیے معاہدے تک نہیں مان رہے۔ آج بھی جب چار لوگ ان کے خلاف اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے چپ کرایا جاتا ہے۔ کوئی عام بگٹی ان گیس فیلڈز کے خلاف ایک نعرہ تک نہیں لگا سکتا۔ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ بگٹی قوم کی شعوری زندگی بڑھائے اور وہ ان منافق چہروں کی شناخت کرنے کے ساتھ اپنے حق لینے میں کامیاب ہو سکے۔

Facebook Comments HS