سندھ کی اردو سپیکنگ کمیونٹی
کوئی پندرہ سال پہلے میں کوئٹہ سے بذریعہ جعفر ایکسپریس ٹرین پنجاب میں اپنے آبائی علاقے کی طرف آ رہا تھا۔ گاڑی میں دونوں ائر کنڈیشنڈ بوگیاں عید کے رش کے سبب مسافروں سے بھری ہوئی تھیں اور پنجاب و سندھ کی طرف لمبا سفر کرنے والے بعض مسافروں کو عید کے رش کی وجہ سے برتھ نہ مل سکی تھی۔ میرے کیبن کے باہر بھی ایک قدرے پریشان حال نیا شادی شدہ جوڑا کیبن کے باہر لگی سیٹوں پر سفر کر رہا تھا۔ دونوں میاں بیوی بہترین اور عمدہ شخصیت کے مالک تھے۔
دیکھنے میں بہت پڑھے لکھے، بھلے مانس، پر وقار، مہذب اور شائستہ لگ رہے تھے۔ ہر لحاظ سے یہ ایک آئیڈیل اور قابل رشک کپل (couple) تھا۔ مجھے عام طور پر دوران سفر نیند نہیں آتی اور خاص طور پر ٹرین میں ساتھی مسافروں کے ساتھ گفتگو کر کے سفر گزارنا اچھا لگتا ہے۔ یوں میرے بہت سے ایسے دوست ہیں جن سے دوران سفر تعلق پروان چڑھا اور کئی ایک کے ساتھ اب تک یہ تعلق قائم ہے جن میں محترم آصف اور بھابھی شفق آصف بھی شامل ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ مذکورہ سفر میں چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد انسانی جذبات اور ہمدردی کے تحت میں نے اس نوجوان جوڑے کو آفر کی کہ اگر ان کا سفر زیادہ لمبا ہے تووہ میری برتھ پر آرام کر سکتے ہیں جس پر انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور آصف نے بتایا کہ ان کی بیگم کو واقعی آرام کی ضرورت تھی کیونکہ کوئٹہ سے راولپنڈی تک ان کا سفر چھتیس گھنٹوں پر محیط تھا۔ چنانچہ خاتون برتھ پر آرام کرنے کے لئے چلی گئیں اور میں آصف بھائی کے ساتھ گفتگو میں محو ہو گیا۔
دوران تعارف انھوں نے بتایا کہ وہ پاک فوج میں کمیشنڈ افسر ہیں اور ان دنوں کوئٹہ میں تعیناتی تھی جبکہ عید کی چھٹیوں پر وہ اپنے آبائی علاقے کی طرف جا رہے تھے۔ مزید گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر اور دانشور بھی ہیں۔ (کچھ عرصہ پہلے ان کی شاعری کا مجموعہ ”مگر تم اب بھی میرے ہو“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے ) ۔ ایک فوجی افسر کا صاحب ذوق، صاحب مطالعہ اور پھر دانشور اور شاعر ہونا میرے لیے کافی خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔
دیر تک ہم مختلف موضوعات پر سیر حاصل علمی گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ کسی اسٹیشن پر ایک اور برتھ خالی ہو گئی اور ان کی بیگم صاحبہ نے ہمیں کھانے کے لئے بلا لیا۔ حیدر آبادی بریانی کے بارے میں سنا بہت تھا لیکن اس دن پہلی دفعہ کھانے کا اتفاق ہوا جو واقعی نہایت لذیذ تھی یا پھر پکانے والے کے ہنر کا کمال تھا۔ انتہائی خوش اخلاق اور پر اعتماد بیگم آصف گلزار نے ایم بی اے کیا ہوا تھا اور حیدر آباد سندھ کی اردو سپیکنگ فیملی سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس سے قبل یونیورسٹی میں دوران تعلیم سٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں اپنی انٹرن شپ کے دوران سندھ کی مہاجر کمیونٹی سے میرا پہلا رابطہ ہوا جب کراچی میں ایم کیو ایم کا بہت زور ہوتا تھا، کراچی میں اپنے قیام کے دوران میں نے اس کمیونٹی کو جاننے کی غرض سے اردو سپیکنگ کمیونٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے ایک علاقے میں رہائش اختیار کی۔ میرے وہاں قیام کے دوران مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں اپنے گھر سے دور ہوں کیوں کہ میں نے وہاں پنجابیوں کے بارے میں کسی طرح کا تعصب نہیں دیکھا بلکہ لوگ پنجاب اور لاہور کی نسبت سے بہت محبت سے پیش آتے تھے اور رات کو فلڈ لائٹس میں ہم اکثر کرکٹ میچ کھیلتے تھے۔
چنانچہ اس سفر میں سندھ کی اردو سپیکنگ فیملی کے کسی فرد سے دوسری بار گفتگو کرنے اور انھیں سمجھنے کا موقع ملا۔ بعد میں یہ تعلق خاندان اور آپس کی رشتہ داری تک بھی پہنچا لیکن بوجوہ نوبت رشتہ داری تک نہ پہنچ سکی اور میں نے شرمندگی میں رابطہ نہ کرنے کی ٹھانی کہ ہمارے ہاں پنجاب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک دفعہ کہیں رشتے کی بات ٹوٹ جائے تو چاہے دو خاندان کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں دوبارہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
لیکن یہ اردو سپیکنگ لوگ اس حوالے سے بہت عظیم، کھلے دل والے، ملنسار اور صحیح معنوں میں مہذب واقع ہوئے جنھوں نے اس بات کو قطعی ناراضگی اور قطع تعلقی کا سبب نہیں بننے دیا اور اب بھی ہمارے درمیان باہمی احترام کا رشتہ قائم ہے۔ ایک دلچسپ چیز جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ ان اردو سپیکنگ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی بہنوں میں جو علم سے محبت، سلیقہ، شائستگی، نفاست، ککنگ اور گھر چلانے کا فن ہے وہ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم کی خواتین میں ہو۔
بد قسمتی سے پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتوں کے آپس میں سماجی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے بعض اوقات سنگین غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں جس کا فائدہ حاکم طبقات اٹھاتے ہیں۔ مختلف قوموں کے درمیان سماجی رابطوں سے ہم ایک صحتمند اور مضبوط پاکستانی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہندوستان کے شہری علاقوں سے آنے والے یہ مہاجر، خاص طور پر اردو سپیکنگ کمیونٹی کے لوگ بہت ہی باکمال تھے جنھوں نے پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کے کاروبار کو سہارا دیا۔
یہ لوگ پڑھے لکھے، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک، ایماندار اور ہنر مند تھے جنھوں نے فوج، سیاست، بیوروکریسی، ادب اور کاروبار سمیت تمام شعبوں میں پاکستان کو بہت کچھ دیا۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہمارے علم دوست، انسان دوست اور وضع دار محترم صدر عارف علوی اور صدر ممنون حسین (مرحوم) بھی اسی کمیونٹی کے درخشاں ستاروں میں سے ہیں۔ پاکستان کی مختلف سیاسی قیادتوں کو بھی بجا طور پر یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اردو سپیکنگ کمیونٹی سے ملک کے سب سے بڑے عہدے کا انتخاب کر کے بہت فراخدلی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو یہ مہاجر آپ کو استاد کے روپ میں نظر آئیں گے جنھوں نے عام پاکستانیوں کی ہر شعبے میں راہنمائی کی۔ سندھ کے ان مہاجروں کا المیہ یہ تھا کہ وہ جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے علاقوں سے نہ تھے بلکہ ان کا تعلق ہندوستانی معاشرے کے پڑھے لکھے اور متوسط شہری طبقات سے تھا جبکہ پاکستان اور بالخصوص سندھ میں ان کا واسطہ ایسے حاکم طبقوں سے پڑا جو جاہل یا نیم خواندہ ہونے کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ طرز فکر رکھتے تھے۔ جن میں غرور، اکڑ، تعصب اور اقتدار سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی سو ان اردو سپیکنگ یا مہاجروں اور مقامی وڈیروں کے مفادات کا تضاد ہی اس سارے مسئلے کی بنیادی وجہ ہے۔
بہت سے لوگ خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے وائے صحافی اور دانشور تعصب میں آ کے پاکستان کی دیگر قومیتوں بالخصوص بلوچوں اور مہاجروں کو سمجھے بغیر ان کے بارے میں بعض کڑوی کسیلی باتیں کر جاتے ہیں۔ شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے پاکستانی پنجاب کے لوگ ہیں اور اس لحاظ سے ان کی جائز شکایات کی شنوائی کرنا حکمران کلاس کا فرض ہے۔
آج بھی ان مہاجرین کے گریڈ بائیس کے سیکرٹری کے عہدے تک پہنچنے والے افسران کے بچے چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں کیونکہ وہ کرپشن سے دور رہتے تھے۔ موجودہ دور میں ان کو تشدد اور کرپشن کا راستہ دکھانے والا یہی جاگیردارانہ مائنڈ سیٹ ہے جنھوں نے بڑے طریقے سے ایم کیو ایم کو بند گلی میں دھکیل دیا جس میں متحدہ راہنماؤں کی اپنی غلطیاں بھی ہیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں مہاجر کا لفظ ہمیں سننے کو ملتا ہے جب پنجابیوں نے انھیں ”ہندوستانی“ جبکہ پٹھانوں اور سندھیوں نے انھیں ”پناہ گزین“ کے القابات سے پکارنا شروع کیا۔ مہاجر کا لفظ بعض صورتوں میں متنازع بھی ہے چنانچہ مہاجروں کی مڈل اور اپر کلاس خود کو اردو سپیکنگ کمیونٹی کے طور پر متعارف کرواتی ہے کیونکہ مہاجر کا لفظ انھیں نفرت انگیز ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن میمن برادری سے تعلق رکھنے والے مہاجروں کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔
”مہاجر“ کا لفظ یا ٹائیٹل اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ کچھ عرصہ پہلے تک اسے بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، اسے ہم محض میڈیا کی فریمنگ اور پرائمنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ کسی اور علاقے سے ہجرت کر کے کہیں بسنے والوں کے لئے ایک اصطلاح ہے۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ مہاجر یا اردو سپیکنگ کمیونٹی پاکستان کے کثیر نسلی معاشرے میں اپنی شناخت کی تلاش میں ہے۔
الطاف حسین جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے مہاجروں کو ایک سیاسی شناخت عطا کی۔ وہ اپنی کتاب ”سفر زندگی“ میں مہاجروں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے غیر منقسم ہندوستان کے چھوٹے صوبوں سے پاکستان کی طرف ہجرت اختیار کی“ ۔ اگرچہ ہندوستان کی تقسیم کے حامی بہت کم تھے لیکن کانگریس کی طرف سے کیبنٹ مشن پلان کو پہلے تسلیم اور پھر مسترد کرنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کا عمل ناگزیر ہو گیا۔ سندھ کے ان مہاجروں نے کلکتہ، مالابار، اورنگ آباد، امرتسر، پٹنہ، احمد آباد اور دیگر مسلم اقلیتی شہروں اور صوبوں سے سب جائیدادیں اور رشتے چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت اختیار کی۔
سندھ کے مہاجروں کے بارے میں پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں میڈیا کی مہربانی اور ایم کیو ایم کی نسبت سے عمومی طور پر ایک منفی تاثر پایا جاتا تھا جو انتہائی مبالغہ آمیز ہے جس کا ایک مقصد اس جماعت کے دائرہ اثر کو سندھ کے اربن ایریاز سے باہر اور دوسرے صوبوں میں اس کے پھیلتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا بھی ہو سکتا ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جس کا کریڈٹ ایم کیو ایم کو جاتا ہے جن میں سے ایک یہ کہ اس جماعت نے پہلی بار پاکستانی عوام خاص طور پر مہاجر نوجوانوں کے پڑھے لکھے اور درمیانے طبقے کو اسمبلیوں میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے برابر بٹھایا اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا جرم ہے۔
یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ہر مہاجر کا تعلق تشدد زدہ سیاست سے ہوتا ہے۔ میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر، فاٹا اور گلگت بلتستان بہت سے علاقوں کا سفر کر چکا ہوں اور میرے تجربے میں جو بات آئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام قومیتیں شاندار خصوصیات اور صلاحیتوں کی حامل ہیں اور عام پاکستانی ہمیشہ نسلی تعصب سے گریز کرتے ہیں اور ان کا سامنا جب بھی کسی دوسری قومیت کے پاکستانی سے ہوتا ہے تو وہ محبت سے پیش آتے ہیں۔
پاکستان کے تمام جملہ مسائل کا ذمہ دار یہ وڈیرہ شاہی سسٹم ہے جس نے آکٹوپس کی طرح عوام کو جکڑ رکھا ہے۔ یہی لوگ ہیں جو عوام میں فرقہ واریت اور قوم پرستی کے بیج بو کر انھیں بے وقوف بنا کر اور آپس میں الجھا کر ان پر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں کراچی میں رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لئے کارروائیاں قابل ستائش تھیں لیکن ٹھوس شواہد اور عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ہی گرفتار ملزموں کو کسی جماعت کے کھاتے میں ڈالا جاتا تو بہتر تھا۔
مہاجر کمیونٹی کے بعض لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والے آپریشن کلین اپ میں پندرہ ہزار مہاجروں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا جن کے ورثا آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں۔ عدالتی عمل کے بغیر کسی جماعت یا قوم کی کردار کشی میڈیا ٹرائل ہی کہلائے گی۔ مہاجر کی شناخت وقت کے ساتھ کمزور پڑی ہے یا مضبوط ہوئی ہے؟ اگر نسلی تشدد کے اعداد و شمار دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کراچی کے پولرائزڈ ماحول میں مڈل کلاس کے علاوہ مہاجروں کے باقی طبقات میں مہاجر نیشنل ازم یا شناخت مضبوط ہوئی ہے۔
ہمیں مہاجروں سمیت پاکستان کی دیگر تمام قومیتوں کے افراد کو صرف اور صرف پاکستانی شناخت دینی ہو گی۔ آج پاکستان کی کم وبیش تمام قومیتوں خاص طور پر اقلیتی گروہوں میں ایک اضطراب پایا جاتا ہے اور مذہب کا رشتہ انھیں متحد رکھنے میں ناکام رہا ہے جس کی ایک واضح مثال 1971 میں بنگلہ دیش کا قیام ہے۔ پاکستان کے محب وطن سیکیورٹی اداروں کا بہت بڑا احسان ہو گا اگر وہ پاکستانیوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے والے ان وڈیرہ شاہی عناصر یا مائنڈ سیٹ کے گٹھ جوڑ کا بھی قلع قمع کر دیں کیونکہ سارا مسئلہ طاقتور لوگوں کے سٹیٹس کو قائم رکھنے کا ہے اور یہ ایسے ظالم لوگ ہیں کہ جنھوں نے اپنا اسٹیٹس کو قائم رکھنے کے لئے 1971 میں پاکستان کو دو لخت کر دیا۔
اگر اس اسٹیٹس کو میں تبدیلی نہ کی گئی تو کل کو مہاجروں کے ساتھ ساتھ سندھی، پٹھان، بلوچ اور یہاں تک کہ کشمیری بھی وفاق پاکستان کے لئے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو اس ظالمانہ سٹیٹس کوو کو قائم رکھنے کے لئے کسی کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے کیونکہ فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے صرف چند لوگوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی بالا دستی قائم کرنے کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے بنے ہیں۔
اٹھارہویں ترمیم نے ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کو جنم دیا جو ایک اچھی شروعات ہے لیکن ہم محدود صوبائی خود مختاری کے نتائج بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اب تک اٹھارہویں ترمیم سے صوبے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اور اپنی نگرانی میں آنے والے سرکاری اداروں کو پوری طرح فعال کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان کو کئی عشروں سے غربت، جہالت، کرپشن، امن و امان، کمزور اقتصادی صورتحال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے سنگین بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
اردو سپیکنگ کمیونٹی اور دیگر قومیتیں وفاق پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور یہ تبھی پاکستان کے مضبوط وفاق کا باعث بنیں گی جب پاکستانی معاشرے میں مساوات کی بنیاد پر انصاف ہو گا یا انصاف ہوتا دکھائی دے گا۔ بہر حال امید کی جا سکتی ہے کہ جلد یا بدیر پاکستان درست راستے پر گامزن ہو جائے گا جہاں مہاجروں سمیت پاکستان کی تمام قومیتیں وفاق پاکستان کی مضبوط اکائیاں بن سکیں گی۔


