روضہ مبارک کی زیارت: یہ ماجرا کیا ہے؟
جب سے عمرہ کر کے آئے ہیں دل کی حالت عجیب سی ہے۔ آنکھوں کے سامنے ہر وقت خانہ خدا اور روضہ مبارک کے مناظر مسلسل چھائے ہوئے ہیں۔ رات کو تو گویا رونق ہی لگ جاتی ہے جیسے براہ راست وہاں ہوں۔ یہ ماجرا کیا ہے؟
کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے۔
ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہیں ہوں یا کل ہی خانہ کعبہ اور روضہ رسول سے ہو کر آئے ہوں۔ وہی حرم وہی کعبہ۔ وہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے طواف ہو رہا ہے اور انوار کی بارش۔
وہی سبز گنبد، روضہ رسول اور مسجد نبوی اور حال دل۔
جاننے والے کہتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب انسان ان مقدس شہروں سے ہو کر آتا ہے تو کچھ عرصہ ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ ایسے ہی مناظر نظروں کے سامنے اور دل میں موجزن رہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیونکر ہوتا ہے اور کب تک رہتا ہے؟
میری دانست میں یہ سب ان مقدس مقامات کا اعجاز ہے اور یہ ہر ایک کا اپنا اپنا تجربہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مقدس شہروں کی زیارت ایک عظیم سعادت ہے۔ تاہم منظوری کے بغیر یہ حاضری ممکن ہی نہیں ہے یعنی وہی آتے ہیں جن کو سرکار بلاتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق ایک مقبول عمرے کا ثواب ایک مقبول حج کے برابر ہوتا ہے اور مقبول حج کا ثواب ایسے ہی ہے جیسے انسان اس دنیا میں نیا نیا وارد ہوا ہو۔ معصوم اور گناہوں سے پاک۔ یعنی ایک مقبول عمرہ انسان کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ پھر کون نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے گناہوں سے نجات حاصل کر لے۔ خاص طور پر ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس پاک گھر کی زیارت کرے جو زمین پر خدا کا پہلا گھر کہلاتا ہے اور جہاں انبیاء، پیغمبر، صحابہ، اولیاء، قطب، ابدال اور اللہ کے برگزیدہ بندے، دنیا کے شاہ و گدا سب ہاتھ باندھے اور سر جھکائے حاضر ہوتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں اپنے لیے خیر و برکت مانگتے ہیں۔
حرم میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے ثواب کے برابر ہوتا ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ وہ ایک نماز کا ثواب لاکھوں نمازوں کی ثواب کی برابر حاصل کرے۔ کس کی خواہش نہیں ہوگی کہ وہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرے اور پچاس ہزار نمازوں کا ثواب حاصل کرے۔ یقیناً سب یہی چاہیں گے کہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہو تاہم یہ اعزاز انہی کو ملتا ہے جس کو وہ چاہتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو مجھ پر درود و سلام پڑھتے ہیں ان کا درود و سلام مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ وہ اس روضہ اطہر پر حاضر ہو کر درود و سلام پڑھے اور اس کا یہ درود و سلام براہ راست آپ ﷺ تک پہنچے۔ یقیناً یہ ایک مقبول درود و سلام ہو گا۔
ہم نے بارہا سنا تھا کہ جو ان مقدس شہروں یعنی مکہ اور مدینہ میں ایک بار چلا جائے وہ بار بار خواہش کرتا ہے کہ ان مقامات مطہرہ کی دوبارہ زیارت کرے۔ تاہم اس کا ذاتی تجربہ گزشتہ ماہ دسمبر میں ہوا جب حرمین شریفین کی زیارت نصیب ہوئی۔
ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک خواب تھا اور کل ہی کی بات ہو۔ اس حاضری کی یادیں اب بھی دل میں تروتازہ ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے آنکھوں کے سامنے طواف کے مناظر ہوں، حرم ہو اور مسجد نبوی اور روضہ رسول۔
اس کرم کا ذکر کیسے کروں جو بار بار مجھ پر ہوتا رہا اور ہو رہا ہے۔ جب حرم میں حاضری کے بعد واپسی کی اجازت چاہی اور ہوٹل آ گئے تو پھر کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ دوبارہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی حاضری اور حرم میں نماز ادا کرنے کی توفیق دی۔ بالکل اسی طرح مسجد نبوی میں نماز تہجد اور فجر ادا کرنے کے بعد جب اجازت چاہی اور واپس ہوٹل آ گئے تو اس کے بعد پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ دوبارہ حاضری کا موقع مل گیا اور نماز ظہر بھی وہیں ادا کی۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب ان کا کرم تھا ورنہ میری یہ اوقات نہیں تھی۔
حاضری کے بعد کی صورتحال کو میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لیے یہ چند اشعار درج ذیل ہیں ؛
اے خدا! یہ ماجرا کیا ہے
یہ لگن اور یہ جذبہ کیا ہے
ھم کہ ہیں بالکل ہی نابلد
نہیں معلوم کہ ہوا کیا ہے
دل کہ کھینچے چلا جاتا ہے
اور روح کا تو پتہ کیا ہے
نہیں جاتا آنکھوں سے وہ منظر
آنسوؤں کا یہ سلسلہ کیا ہے
یہ عنایت ہے انھیں کی ورنہ
تو ہی بتا یہ سب بھلا کیا ہے


