چھاپہ خانے کے موجد جوہن گٹن برگ میوزیم کی یاترا

جرمن کی سرزمین کو اگر ایجادات اور دریافتوں کی سرزمیں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا کے بیشتر اہم ترین ایجادات اور دریافتوں میں اس عظیم جرمن قوم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ علم دوستی اور تحقیق کے پاگل پن میں اس قوم کی کوئی انتہا نہیں دکھائی دیتی۔ یہ قوم صدیوں پہلے بھی علم کی پیاس بجھانے کی پیاسی تھی اور آج بھی تحقیق میں پیش پیش ہے۔ دنیا کی سب سے قدیم اور شاید اولین یونیورسٹی جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں موجود ہے اور فعال ہے۔
یہ 1380 میں قائم ہوئی تھی۔ اسی شہر ہائیڈل برگ کے آٹھ شہری اب تک نوبل پرائز حاصل کرچکے ہیں جبکہ مجموعی طور جرمنی کے حاصل کردہ نوبل پرائز کی تعداد 115 ہے جو دوسرے نمبر پر ہے۔ سب سے زیادہ نوبل پرائز برطانیہ نے 137 حاصل کر رکھے ہیں۔ جرمنی کے نوبل پرائز میں زیادہ تر کا تعلق سائنس سے ہے۔ شاید ہی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ بچا ہو جس میں جرمن سائنس دانوں نے اپنا کوئی کارنامہ بطور یاد گار نہ چھوڑا ہو۔ مشہور ترین ناموں میں البرٹ آئن شٹائن کا ہے۔
اس کے علاوہ ماضی کے چند کاموں میں جدید ریفریجریٹر، نیکو ڈیسک برائے ٹیلیویژن، خود کار ڈیجیٹل کمپیوٹر زیڈ تھری اور فور، جدید آٹوز اور ہوائی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجی، برقی مقناطیسی تابکاری، جدید ٹیلی مواصلات ایسے چند کارنامے شامل ہیں۔ ایکس رے کا موجد ولہیم رونٹجن ایک جرمن ہی تھا جسے اس انوکھی اور سائنس کی اہم ترین ایجاد پر 1901 میں فزکس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ جرمن سائنس دانوں اور موجدین کی تحقیقی اور ایجادات کی فہرست بہت طویل ہے۔
انہی میں ایک میکانکی پرنٹنگ پریس کی ایجاد بھی شامل ہے جس کا موجد جرمن جوہن گٹن برگ ہے جس کا تعلق جرمن شہر مینز سے ہے۔ گزشتہ سال 2023 کا اختتام پراسی جوہن گٹن برگ میوزیم کی یاترا سے ہوا۔ اس میوزیم میں چند گھنٹے صدیوں پیچھے کی دنیا میں گزارے اور پھر واپس پلٹ آئے۔ صدیوں پرانی دنیا حیرت کا ایسا سمندر تھی کہ اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ 28 دسمبر کی ایک سرد صبح تھی جب ہم گھر سے نکلے۔ ہماری منزل جوہن گٹن برگ میوزیم تھی۔
دریائے رائن کے ساتھ ساتھ سفر شروع کیا اور تقریباً گھنٹہ کی مسافت کے بعد ہم ریاست ہیسن سے نکل کر ریاست رائن لینڈ کے دارالحکومت اور صدیوں پرانے شہر مینز میں داخل ہوئے۔ یہ رومی سلطنت کے زمانہ میں ایک قلعہ بند شہر تھا جنہوں نے پہلی صدی قبل مسیح اسے فوجی چوکی کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ آج اس شہر کی کل آبادی بیس لاکھ دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گٹن برگ میوزیم کی بنیاد اسی شہر کے شہریوں نے 123 سال قبل 1900 میں اس وقت رکھی تھی جب گوٹن برگ کی پیدائش کے 500 سال پورے ہوئے تھے۔
گٹن برگ 1398 میں مینزمینز میں پیدا ہوا تھا اور تین فروری 1468 کو اسی شہر میں اس کی وفات ہوئی تھی۔ یہ میوزیم مینز کے اولڈ ٹاؤن کے وسط میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے قدیم عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے جو سیاحوں اور طباعت کے ماہرین کی بھرپور توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ شہر کے پرانے حصے میں پہنچنے کے بعد ایک ہزار سال پرانے کتھیڈرل چرچ کے سامنے سے گزرتے ہوئے میوزیم کے سامنے جا پہنچے۔ بیرونی صحن کے داخلی راستے پر چار دروازے نما بڑی شیٹس دیکھنے کو ملیں جن پر چھاپہ خانہ کی ابتدائی دور کے طباعت کے نقش کنندہ تھے جن کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔
اندر پہنچے تو علم ہوا کہ فی ٹکٹ پانچ یورو کا تھا۔ پاکستانی قیمت کے لحاظ سے قیمت یہ پندرہ سو روپے فی کس تھی۔ موبائل سے تصاویر کھینچنے کی اجازت تھی لیکن فلش کا استعمال ممنوع ہے۔ پرنٹنگ پریس کا یہ قدیم عجائب گھر چار فلورز پر مشتمل ہے جہاں تاریخی اشیاء جن میں قدیم کتب، دستاویزات، قدیم طباعت کی مشینیں جن میں ہلکی اور بھاری کتب دونوں کی طباعت کی مشینیں موجود ہیں، پرنٹنگ کے اوزاروں، سیاہی، کاغذ تیار کرنے کے نمونے، ڈمی اخبارات کے قدیم نسخے اور مشرقی ایشیائی ممالک چین، کوریا اور جاپان میں ہاتھ اور قلم سے کتاب لکھنے سے متعلق صدیوں پرانے تاریخی یادگاریں اور نمونے موجود ہیں۔
ہر ایک کے ساتھ انگریزی اور جرمن زبانوں میں تاریخ اور تفصیل لکھی موجود ہے۔ ان ایشیائی ممالک میں ہاتھ سے لکھنے کا کام اور کاغذ کی تیاری اس قدر مشکل اور سست تھا کہ کتاب یا ایک صفحہ کی کاپی تیار کرنے میں ہفتے مہینے لگ جاتے تھے اور کام بھی معیاری نہ ہوتا تھا۔ ان مسائل اور کمزوریوں کو ختم کر کے گوٹن برگ نے میکانکی چھاپہ خانہ ایجاد کیا جس نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ پندرہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی میں جو بھی مزید ترقی ہوئی اس کو یہاں محفوظ کیا گیا اور یہی بتایا گیا کہ پبلشنگ کی دنیا میں بعد کی تمام تر ترقی گٹن برگ کی ایجاد کی ہی مرہون منت ہے۔
یہ سچ ہے کہ اس کی ٹیکنیک ( متحرک الفاظ) نے ہی کتب کی اشاعت کو آسان ہی نہیں بلکہ تیز تر بھی بنا دیا تھا۔ اس کی چھاپے خانے ( پرنٹنگ پریس) ایجاد سے ہاتھ سے لکھنے کے کام کا اختتام ہوا اور کتب کی اشاعت میں غیر معمولی تیز۔ یہ بھی کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی ایجاد نے سائنس اور تحقیق کے راستوں کی راہ ہموار کردی جب تمام علم تیزی سے کتابوں پر منتقل ہونا شروع ہوا اور ہر قسم کی کتب تک عام انسان کی رسائی ممکن ہوئی۔
یہ حقیقت ہے کہ گٹن برگ کے چھاپے خانے نے یکسر دنیا بدل کر رکھدی تھی۔ گوٹن برگ کی ایجاد کے سب اس کو ”Man of Millienium“ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ 1999 میں ”ہزاریہ کے افراد“ میں گٹن برگ کو پہلا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹائم لائف جریدے نے اس کی ایجاد کو دوسرے ہزاریے کی اہم ترین ایجاد قرار دیا تھا۔ گٹن برگ کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس کی ایجاد کو یاد رکھنے کے لئے اسی کے شہر میں انٹرنیشنل گٹن برگ سوسائٹی قائم ہے جو پرنٹنگ و پبلشنگ کی ٹیکنالوجی میں تحقیق کرنے اور مواد لکھنے کے لئے کام کرتی ہے جس کا قیام جون 1901 میں آیا تھا۔
اسی طرح گٹن برگ فاؤنڈیشن بھی موجود ہے یہ دونوں ہی قدیم ترین ادارے ہیں۔ گٹن برگ فرینڈز سرکل بھی قائم ہے اور اس میوزیم کے زیر اہتمام نمائشوں کا انعقاد بھی ہوتا رہتا ہے۔ اسی میکانکی چھاپہ خانہ پر ”گٹن برگ انجیل“ کی اشاعت اس کا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ اس کے ذکر کے بغیر اس کا خاکہ زندگی مکمل نہیں ہوتا۔ گھومتے پھرتے ہمیں شروع میں ہی ”گٹن برگ انجیل“ کا وہ تاریخی نسخہ دیکھنے کو ملا جو اس نے اپنے چھاپہ خانہ پر طبع کیا تھا۔
ریکارڈ اور تاریخ کے مطابق اس نے 180 بائبل کے نسخوں کی اشاعت کی تھی جو 1455 میں پہلی بار منظر عام پر آئیں تھیں۔ ان میں سے 145 کاغذ پر جبکہ باقی بچھڑے کی کھال پر طبع تھیں۔ ان میں سے صرف 49 بیسویں صدی تک محفوظ رہ سکیں تھیں اور اب ان میں جو میوزیم، یونیورسٹی، لائبریریوں میں موجود ہیں ان میں زیادہ تر نامکمل ہیں اور آدھی بائبل سے بھی کم ہیں۔ کہیں محض چند صفحات ہی باقی محفوظ رہی ہیں۔ گٹن برگ کی زندگی کے کچھ پراسرار پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
مثال کے طور پر اس کی اوریجنل حقیقی تصویر موجود نہیں ہے، اسی طرح اس کی شادی اور بیوی اور اولاد بارے بھی تاریخ خاموش ہے۔ میوزیم کے اندر لائیو معلومات کے علاوہ سیاحوں کے لئے پرنٹنگ کی صدیوں پرانی تاریخ سنانے کے لئے چھ ادوار پر مشتمل آڈیوز بھی موجود ہیں ان آڈیوز میں گٹن برگ کی ایجاد، اس کی زندگی اور گٹن برگ بائیبل کی اشاعت کی تفصیل موجودہ ہے۔ اسی طرح گٹن برگ سے قبل کتب کی اشاعت، گٹن برگ کے بعد کی ابتدائی پبلشنگ کا کام، مشرقی ایشیائی ممالک میں گٹن برگ سے قبل کا طباعت کا کام اور اسلامی دنیا میں کتابوں کی طباعت کا طویل سفر بارے معلومات بھی ان آڈیوز میں شامل ہیں۔
ہر آڈیو آپ تین یورو پچاس سینٹ کی ادائیگی کر کے سن سکتے ہیں۔ گٹن برگ جوپیشے کے لحاظ سے ایک جرمن لوہار، سنار تھا اور ٹیکنیکل امور سے بخوبی آگاہ ہونے کے علاوہ ایک تخلیقی ذہن کا مالک تھا لیکن مالی طور پر بہت کمزور تھا۔ اس کو اپنی ایجاد کے لئے دو بار قرضہ لینا پڑا تھا لہذا جونہی اس کی ایجاد کامیابی سے ہمکنار ہوئی تو اس نے کمرشل بنیادوں پر اس کا استعمال کیا تاکہ قرضے اتار سکے۔ قرضے دینے والوں کے ساتھ شراکت بھی اختیار کی جو بعد میں تنازعوں کا شکار ہوئی۔
گٹن برگ میوزیم میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد کا اولین اور اوریجنل چھاپہ خانہ موجود نہیں ہے۔ اس کے زیر استعمال سب سے پہلا چھاپہ خانہ کہیں لاپتہ ہو چکا ہے تاہم پندرہویں صدی میں ہی اس کی دستاویزات اور اس کے ساتھیوں کی معاونت سے پھر تیار کیا گیا جو آج بھی موجود ہے اور اس پر گوٹن برگ کے طریقہ کار کے مطابق پرنٹنگ کرنے کا اولین طریقہ ہر گھنٹے کے بعد عملی طور پر کر کے سیاحوں کو دکھایا جاتا ہے باقی اس کے دور کی مکمل تاریخ پرنٹنگ کے لوازمات وہاں موجود ہیں اور صدیوں قبل کی طباعت کا طریقہ دیکھنے کو دستیاب ہے۔






