کیا اسلام آباد کا متبادل دارالحکومت بنانے کا پلان بنایا جا رہا ہے؟


حال ہی میں بی بی سی کے ایک معروف تجزیہ نگار کا کالم بی بی سی کی ویب سائٹ اور دیگر بلاگ ویب سائٹس پہ آیا۔ عنوان تھا ”اب اسلام آباد کہاں اٹھا کے لے جانا ہے؟ انھوں نے لکھا کہ ایوب حکومت کی خواہش پہ جنرل یحییٰ خان نے اسلام آباد کا نقشہ ایتھنز یونان کے ایک آرکیٹیکٹ کانسٹنٹینوڈوکسیاڈس سے بنوایا جس نے اسلام آباد کا نقشہ ایتھنز کے قدیم شہر کی طرز پہ بنا دیا جس میں اونچی جگہ پہ حکومت کرنے والوں کے لیے رہائش اور دفاتر کے لیے عمارتیں ڈیزائن کی گئیں۔ اس کے بعد کا علاقہ کھاتے پیتے دولتمند لوگوں کے لیے، پھر عوامی سیکٹرز اور دیگر آبادیاں۔ بی بی سی کے یہ تجزیہ نگار اپنے کالم یا بلاگ میں ذومعنی بات کہنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔

بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے پاس ہمارے دوست علی شیر کا ٹی اسٹال اور پبلک کال آفس ہوتا تھا۔ موٹر رکشہ ڈرائیورز، ٹھیلہ ریڑھی پہ فروٹ اور سبزیاں بیچنے والے، ناکام عاشق، آکڑہ ٹنڈولہ پرچی کے ذریعے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی میں راتوں رات کروڑ پتی بن جانے کا خواب دیکھنے والے اور شادی بیاہ پہ گڈوی بجا کر گانا سنانے والی پکھی واس عورتیں سب اس کے پاس آ کر بیٹھتے تھے۔

علی شیر منہ میں رکھے نجمہ راجہ جانی والا پان چباتا جاتا اور اپنے پاس آنے والوں کی ہنستے ہنستے ”عزت افزائی“ بھی کرتا جاتا۔ مجال ہے جو کسی کے ماتھے پہ بل بھی آتا ہو۔ سب اپنی صفائیاں پیش کر رہے ہوتے ”نہیں، علی شیر بھائی! ایسا نہیں ہے۔ میں ایسا نہیں ہوں۔ میں ایسی نہیں ہوں۔ وہ بات دراصل یہ ہے کہ“ ۔

پہلے تو مجھے حیرت ہوتی تھی کہ علی شیر دوسروں کی اچھی خاصی بے عزتی کر دیتا ہے لیکن کوئی بھی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔ ہوتا یہ تھا کہ دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے، تنقید کرتے ہوئے وہ مسلسل ہنستا رہتا۔ دوسرے بھی سمجھتے کہ علی شیر تو بس مذاق کر رہا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ دوسروں کے کام بہت آتا تھا۔ کوئی رکشہ ڈرائیور کہہ دیتا کہ علی شیر بھائی! مجھے وزیراعظم اور صدر پاکستان سے ملاقات کرنا ہے تو وہ فوراً کہتا ”کوئی مسئلہ نہیں، کرا دیں گے“ ۔ بی بی سی لندن کے یہ تجزیہ نگار بھی علی شیر والا فن جانتے ہیں۔ اپنے کالم میں سب کے لتے لیتے ہیں۔ قارئین لطف اندوز ہوتے ہیں اور جس کی یہ ”عزت افزائی“ کر رہے ہوتے ہیں وہ خاموش رہتا ہے۔

کیا واقعی پاکستان کا مرکزی دارالحکومت کسی نئی جگہ پہ منتقل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی ہو رہی ہے؟

چند سال پہلے بہاول پور میں ایک افواہ بڑے زور و شور سے پھیلائی گئی کہ پاکستان کا مرکزی دارالحکومت اسلام آباد سے بہاول پور میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ بس پھر دس ہزار روپے مرلہ کے حساب سے ملنے والے رہائشی پلاٹ کی قیمتوں کو ایسے پر لگے کہ وہ اب دس سے پندرہ لاکھ روپے فی مرلہ میں فروخت ہو رہا ہے۔

31 دسمبر 2023 کو مجھے بہاول پور کے ایک کاروباری علاقہ کی ایک ایزی لوڈ شاپ پہ جانا پڑا۔ میرے موبائل فون میں بیلنس ختم ہو گیا تھا۔ یہ شاپ ایک سات مرلہ پرانے مکان میں قائم ہے جو پارک کے سامنے گزرنے والی سڑک کے بالکل سامنے ہے۔ میں نے شاپ والے سے کہا ”سنا ہے پارک کے کونے والا سات مرلہ کا مکان جس کے نیچے دوچار دکانیں ہیں وہ برائے فروخت ہے۔ مالک مکان اس کا بائیس کروڑ روپے مانگ رہا ہے اور آپ پندرہ کروڑ روپے آفر دے آئے ہو“ ۔

ایزی لوڈ شاپ والے نے جواب دیا۔ ”اکبر بھائی! میں خود اپنا یہ سات مرلہ مکان جس کے نیچے دو دکانیں بھی ہیں فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے بارہ کروڑ روپے مانگے ہیں لیکن پارٹی مجھے ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی آفر دے رہی ہے“ ۔

میں نے کہا، فلاں شاپ والے نے تو مجھے بتایا تھا کہ اس نے وہ سات مرلہ جگہ چند سال پہلے ایک کروڑ روپے میں خریدی تھی تو ایزی لوڈ والے بھائی نے کہا ”ارے بھائی! میرے ساتھ والا سات مرلہ کا مکان جس میں اب فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ بنا ہوا ہے وہ بارہ سال پہلے ستر لاکھ روپے میں خریدا گیا لیکن اب قیمتیں لاکھوں نہیں کروڑوں میں جا پہنچی ہیں“ ۔

احباب! یہ سب اس افواہ کی ”برکتیں“ ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ بہاول پور کو ملک کا نیا مرکزی دارالحکومت بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ زلزلہ بیلٹ میں نہیں آتا۔

لیکن کیا واقعی مستقبل میں پاکستان ایک نئے دارالخلافے کا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔ ایسا ہو گا یا نہیں اس پہ ہم کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ دو تین سال پہلے چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کی افتتاحی تقریب ڈی ایچ اے بہاول پور میں رکھی گئی۔ راقم بھی وہاں گیا تھا۔ وہاں بھی اس طرح کی باتیں کی گئیں ”جی، ہم چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کو انٹرنیشنل بنانے کے لیے اسے راجھستان اور جے پور تک لے جا رہے ہیں۔ ہمسایہ ملک سے ہماری بات چیت چل رہی ہے اور یہ کہ اس جیپ ریلی میں ہمسایہ ملک کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ریسر ڈرائیورز بھی حصہ لیں گے“ ۔ وہاں ایک صاحب کی زبان سے یہ بات بھی سننے کو ملی کہ مستقبل میں چولستان میں ایک سمارٹ اور منفرد ڈیزائننگ کا شہر آباد کیا جاسکتا ہے کیونکہ چولستان زلزلہ والی فالٹ لائن کی رینج سے باہر ہے۔

آپ کو ثمینہ پیرزادہ اور توقیر ناصر کا ڈرامہ ”دریا“ یاد ہے۔ اس کی فلمبندی صحرائے چولستان میں ہوئی تھی۔ ”رانی پٹھانی، پھلاں دی دیوانی۔ ویرن پرنا آندا ہے رانی پٹھانی، پھلاں دی دیوانی“ فیم ڈرامہ۔

اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا کہ یہی چولستان بین الاقوامی شہرت حاصل کر لے گا۔ پہلے جیپ ریلی کی وجہ سے اور اب جو آثار قدیمہ کا ہزاروں سال پرانا شہر دریافت ہوا ہے جو ریت کے ٹیلوں کے نیچے دبا ہوا تھا۔ خیر۔

اگر واقعی مستقبل میں پیارے پاکستان کا کوئی نیا دارالحکومت بنایا جاتا ہے تو اکبر شیخ اکبر آپ کو تجویز دیتا ہے کہ اس کے قیام میں درج ذیل باتوں کو اپنا لیا جائے تو پاکستان کا بہت بڑا بھلا ہو جائے گا۔

ایک تو یہ کہ شہر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ڈیزائن کروایا جائے۔ آپ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس مثلاً  AI Bing کو پرامٹ دینی ہے کہ مجھے ایسا شہر ڈیزائن کر دو جہاں ہر بلڈنگ یہاں تک کہ گھر بھی ایک مکمل علیحدہ یونٹ ہوں۔ کوئی عمارت دوسری عمارت کے ساتھ ہم دیوار نہ ہو۔ مرکزی سڑک آٹھ لین اور ذیلی سڑکیں اور گلیاں چار لین کی ہوں۔ شہر کے درمیان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کنٹرول ہونے والے سمارٹ سرکاری دفاتر ہوں۔ دوسرے دائرے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا علم سکھانے والی یونیورسٹیاں ہوں۔ تیسرے دائرے میں ان افراد کے لیے سرکاری گھر ہوں جو ان سرکاری دفاتر اور یونیورسٹیوں میں کام کرتے ہوں اور یہ گھر ہم دیوار نہ ہوں۔ پورے شہر کی کوئی بھی عمارت تین منزلہ نہ ہو بلکہ بہتر ہے سنگل سٹوری ہو۔ شہر کی تمام عمارتوں کا رنگ سفید ہو، اس کی ایک سائنٹیفک وجہ ہے۔

چوتھے دائرے میں ان یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء کے لیے سمارٹ ہوسٹلز ہوں۔ اچھا ہر دو دائروں کے درمیان پارک ہوں جو سارے دائرے کے گرد گھومتے ہوں۔ شہر میں کار، جیپ، موٹر سائیکل، ٹیکسی کار اور ذاتی گاڑی رکھنے پہ پابندی ہو۔ سرکاری افسروں کو بھی کوئی سرکاری گاڑی الاٹ نہ ہو۔ پورے شہر کی ٹرانسپورٹ صرف انڈر گراؤنڈ میٹرو ٹرینز اور فلائی اوورز پہ چلنے والی ٹرینز، میٹرو بس سروس اور اڑنے والی کار سروس پہ مشتمل ہو۔ یہاں تک ملک کے صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف بھی اسی پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرنے کے پابند ہوں۔

پانچویں دائرے میں سپر مارکیٹس ہوں جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کنٹرول ہوتی ہوں۔ پھر دوبارہ پارکس آ گئے اور اب چھٹے دائرے میں ایسے ہوٹلز، موٹلز، سرائے اور ہوسٹلز ہوں جو شہر میں باہر سے آنے والے لوگوں کو بہت کم ریٹس پہ رہائش مہیا کریں۔ یہ دھیان میں رہے کہ اس نئے دارالحکومت میں پراپرٹی مافیا کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ ایک منظور شدہ قانون کے تحت اس شہر میں کسی بھی فرد کو ذاتی پراپرٹی رکھنے کا اختیار نہ ہو۔

اچھا، یہ شہر پچاس کلومیٹر کے قطر میں ہو اس کے بعد پچاس کلومیٹر کے قطر میں ایسے کھیت ہوں جہاں حکومت کی زیر نگرانی ادویات میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں اور پودے کاشت کیے جائیں۔ پھر اگلے دائرے میں جھیلیں اور جنگلی حیات کا جنگل ہو۔

اچھا، یہ بھی قانون بنایا جائے گا کہ اس شہر کے گرد دو سو کلومیٹر کے قطر میں کسی قسم کی کوئی انڈسٹری نہ بنائی جائے کیونکہ وہ اس شہر کی فضا کو آلودہ کر دے گی۔ یہ بھی قانون ہو کہ اس شہر میں باہر سے آنے والے ہر شخص کی بلڈ سکریننگ ہو گی کہ آیا وہ کسی مہلک بیماری میں تو مبتلا نہیں جس کے وائرس پھیل جاتے ہوں۔

خیر۔ تجاویز تو بہت ہیں لیکن بلاگ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تو آج کل بہاول پور میں ایسی سردی پڑ رہی ہے جو جسم تو جسم، دماغ کو بھی شل کر رہی ہے۔ دوسرا میرے گھر کے قریب کباڑیوں نے مکانات خرید کر اور کرایہ پہ لے کر وہاں پرانی عمارتوں کے ملبے سے آنے والے پرانے آئرن گاڈرز، ٹی آرز اور سریا کو بجلی سے چلنے والی مشینوں کے ذریعے کاٹنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اس کی وجہ سے میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ میں زیادہ دیر تک کمپیوٹر پہ نہیں بیٹھ سکتا اس لیے جلدی بستر میں گھس جاتا ہوں۔ خدا حافظ۔

Facebook Comments HS