ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے


ہمیں شہر میں منتقل ہوئے تین چار ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ قدرت نے ہمیں بیٹے کی ان مول نعمت سے نواز دیا۔ تم شادی کے تقریباً ایک سال بعد امید سے ہوئی تھیں اور اس ایک سال کا عرصہ تم پر بہت ہی بھاری گزرا بلکہ آخر میں تو اس بھاری پن کا احساس مجھے بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔ حالاں کہ پریگنینسی میں سال دو سال کی تاخیر ہو جانا تو کوئی ایسی بھی غیر معمولی بات نہیں تھی کہ جس پر اس قدر پریشان ہوا جاتا۔ لیکن قرب و جوار کی رشتہ دار اور ملنے جلنے والی خواتین اس مسئلے کو تمہارے ساتھ موضوع سخن بنانا ہمیشہ اپنا فرض اولین خیال کیا کرتیں اور اس ضمن میں ایسے ایسے قصے کہانیاں بیان کیے جاتے جو تمہاری پریشانی، مایوسی اور اداسی میں مزید اضافے کا سبب بنتے۔

گاؤں کی خواتین کو اس فن میں خوب ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ گاؤں میں اگر کوئی زیادہ بیمار ہو جاتا تو گھر والوں کی کوشش ہوتی کہ گھر کے باہر کسی کو اس بات کا پتہ نہ ہی چلے۔ دریں اثنا خواتین کا مریض کی تیمارداری کرنے کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا جو عموماً اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتا۔ ایک تیماردار خاتون مریض کو بتاتی کہ تم کافی کمزور نظر آ رہے ہو۔ دوسری اس بات کی نشاندہی کرتی کہ اس کا رنگ بھی بہت پیلا ہو گیا ہے۔

نئی آنے والی خاتون کو مریض کا ناک مڑا ہوا اور کان نیچے کو ڈھلکے ہوئے محسوس ہوتے اور ساتھ ہی ماضی قریب میں کسی فوت ہونے والی ہستی کے ساتھ مریض کا تقابلی جائزہ لینا کبھی نہ بھولتیں کہ موت سے پہلے اس مرحوم کی تقریباً زیادہ تر علامات مریض میں موجود ہیں۔ پھر ایک خاتون اس کے سرہانے بیٹھ کر سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کر دیتیں اور پھر یہ تلاوت تادم مرگ پورے زور و شور سے جاری رہتی۔ کسی بھی مریض کے سرہانے سورہ یٰسین کی تلاوت شروع ہونے کا عمومی مطلب یہی لیا جاتا کہ اب وہ چل چلاؤ کی حالت میں ہے۔

کوئی بہت ہی طاقتور قوت ارادی کا شخص ہی موت کے لیے بچھائے گئے اس جال کو توڑ کر باہر آنے میں کامیاب ہوتا ورنہ اکثر مریض تو مایوسی و نا امیدی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے۔ بہر حال ایسے ہی مہربان تیمارداروں کو تم بھی ایک سال تک بھگت چکی تھی۔ اس لیے بیٹے کی پیدائش کی خوشی ہم لوگوں کے لیے معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ بلال کی پیدائش کے ساتھ ہی تمہاری مصروفیات بھی بڑھ گئیں تھیں۔ بلال کی پیدائش پر ماں جی بھی ہمارے پاس ہی تھیں۔

بلال کو ہاتھ پر لٹا کر ماں جی اسے بغور دیکھ رہی تھیں اور کہنے لگیں۔ اتنی چھوٹی سی جان ہے کب یہ سکول جانے لگے گا کب بڑا ہو گا اور اس کی شادی کریں گے۔ ماشاء اللہ اب وہ بڑا بھی ہو چکا ہے اس کی شادی بھی ہو چکی بلکہ خیر سے تین بچوں کا باپ بھی ہے۔ اللہ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی چھوٹا بھائی ڈاکٹر ارشد بھی بہاولپور سے فارغ ہو کر آ گیا اور اس نے گگو میں اپنا کلینک بنا لیا۔ سارا دن وہ کلینک پر ہوتا اور شام کو گھر آ جاتا۔ تقریباً پانچ چھ ماہ بعد ہی اس کی تعیناتی سرکاری ہسپتال بورے والا میں بطور میڈیکل افسر کے ہو گئی۔ اب وہ رات کو ٹی ایچ کیو ہسپتال بورے والا میں ڈیوٹی کرتا اور صبح دس گیارہ بجے گگو اپنے کلینک چلا جاتا۔ جہاں سے شام کو واپسی ہوتی اور رات دس بجے ٹی ایچ کیو میں اس کی نائٹ شفٹ شروع ہو جاتی۔

جب ڈاکٹر ارشد کو ملازمت کرتے ہوئے چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا تو زندگی کے متعلق اس کا لا ابالی پن دیکھتے ہوئے اسے پابند سلاسل یعنی اس کی شادی خانہ آبادی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ جب اس سلسلے میں اس سے بات ہوئی تو اس نے فوری انکار کر دیا اور وجہ یہ بتائی کہ میں نے ابھی معاشی طور پر مستحکم ہونا ہے۔ اس کے بعد شادی کا سوچوں گا۔ میں نے اس کی بات بڑے تحمل سے سنی اور اس سے پوچھا کہ تمہیں تقریباً ایک سال کلینک کرتے ہوئے ہو گیا ہے اور پچھلے چھ سات ماہ سے سرکاری نوکری بھی کر رہے ہو۔

اس عرصے میں تم نے کتنے پیسے جمع کیے ہیں۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نے وضاحت کی کہ جس قسم کی تمہاری طبیعت ہے تم پانچ سال بعد بھی اسی طرح ہو گے اور ہو سکتا کہ اس وقت ہم لوگ تمہاری شادی میں بھی دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔ اس لیے یہی وقت تمہاری شادی کے لیے بہترین وقت ہے۔ تمہاری نیم رضا مندی کی صورت میں شادی کے نیک کام کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے ضروری کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے ضروری کام مناسب رشتہ کی تلاش تھی۔

سابقہ تجربات کی روشنی میں اس سارے معاملے کو احسن طریقے سے نمٹانے کے لیے تین رکنی سلیکشن بورڈ تشکیل دیا گیا۔ جو مجھ سمیت ماں جی اور میجر صاحب پر مشتمل تھا۔ جس نے فوری طور پو اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ میں اور ماں جی پہلا رشتہ دیکھنے کے لیے ساہیوال گئے۔ لڑکی ڈاکٹر تھی۔ لڑکی کے والد سرکاری ملازم تھے۔ اور فرید ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے۔ میں اور ماں جی وہاں گئے۔ تو ماں جی تو گھر کی خواتین کے ساتھ بیٹھی تھیں۔

اور میں بیٹھک میں لڑکی کے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اور ایک دوسرے کے کوائف جانچنے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ویسے یہ کوشش یک طرفہ ہی تھی۔ کیوں کہ میں تو اس قسم کے نشیب و فراز سے قطعاً ناواقف تھا۔ دوپہر کو کھانے کی میز پر دونوں ٹیمیں اکٹھی ہوئیں۔ تو خاتون خانہ نے مجھ سے دریافت کیا۔ کہ آپ کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ اپنے آپ کو ہندوستان میں ضلع جالندھر کی رہائشی بتاتی ہیں۔ جب کہ آپ نے اپنے آپ کو فیروزپور کا بتایا ہے۔ اب یہاں مجھے ساری بات کی وضاحت کرنا پڑی۔

ہماری ماں جی ضلع جالندھر سے تعلق رکھتی تھیں۔ جبکہ والد صاحب ضلع فیروزپور کے گاؤں قادر والا کے رہائشی تھے۔ ماں جی ہم فیروز پور کے باسیوں کو جالندھر کے باسیوں سے کم تر خیال کیا کرتیں۔ اس لیے وہ اپنی ہندوستانی سکونت کے سلسلہ میں جالندھر سے ہی منسلک رہیں۔ انہیں جب کوئی پوچھتا۔ تو وہ اپنے آپ کو ہمیشہ ضلع جالندھر کا ہی سابقہ رہائشی بتایا کرتیں جبکہ ہم اپنے والدین کو ضلع فیروزپور کا باسی بتایا کرتے۔ یہی وقوعہ یہاں ہوا تھا۔

وضاحت پر صورت حال واضح ہو گئی۔ جواب آں غزل کے طور پر یہ دونوں میاں بیوی بورے والا میں ہمارے گھر تشریف لائے۔ چائے وغیرہ سے فراغت کے بعد ان دونوں نے ایسی عقل مندی اور دانائی کی بات کی جس کی طرف ہمارا کبھی دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ شوہر موصوف نے استفسار کیا کہ اس گھر میں تو آپ اپنے بیوی بچے سمیت رہتے ہیں۔ اور ساتھ کے گھر میں میجر صاحب رہتے ہیں۔ شادی کے بعد یہ نیا جوڑا کہاں رہے گا۔ یہ بات تو واقعی ہم نے نہیں سوچی تھی۔

ہم نے انہیں بھی نہایت صاف گوئی سے یہی بتایا کہ یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا۔ ویسے ہمارے ہاں اس قسم کی مکمل منصوبہ سازی کا اتنا رواج بھی نہیں تھا۔ اس لیے ان کا یہ استفسار خاصا ناگوار گزرا اور یقیناً انہوں نے بھی ہمارے بارے میں ایسا ہی سوچا ہو گا۔ اس لیے طرفین نے ہی بڑی خوش دلی کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھنے سے پہلے یہیں پر ہی روک دیا۔

Facebook Comments HS