مینڈیٹ اور مشرف کی سزائے موت


سزائے موت بہرحال ایک ایسا تکلیف دہ فیصلہ ہوتا ہے جسے سیلیبریٹ کرنے کا گمان بھی کیا جانا غیرانسانی عمل سمجھا جانا چاہیے تاہم اسے درست یا غلط قرار دیا جا سکتا ہے، اس پر بات کی جا سکتی ہے اور اطمینان یا عدم اطمینان کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا مشرف کی سزا بحال کرنے کا یہ فیصلہ بھی تلخ ہونے کے باوجود جمہوریت کے لئے بے حد اطمینان بخش ہے۔ اسی تناظر میں بھٹو صاحب کی پھانسی کے کیس کو بھی دوبارہ دیکھا جانا تاریخ درست کرنے کی ایک شاندار کوشش ہے جس سے وطن عزیز کو جمہوری سمت تعین کرنے میں یقیناً معاونت حاصل ہو گی۔

پرویز مشرف ایک شاندار انسان اور بڑے لیڈر تھے مگر آئین شکنی ان کی ایک ایسی غلطی تھی جس کے بطن سے ایسی مزید مہلک غلطیوں نے جنم لیا جنہوں نے مشرف اور ان کے محبوب ملک دونوں کو تباہی کے رستے پر ڈال دیا۔ ایک ڈکٹیٹر کی نیک نیتی سے ہوا عمل بھی اچھے انجام تک نہیں پہنچ پاتا اور عموماً ریورس ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کارگل کو آزاد اور نواز شریف کو قید کرنے سمیت شدت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جتنے اقدامات کیے ان کے نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی تلف کی جانے والی فصلیں اب اور زیادہ ہری بھری اور جوان ہو کر لہلہا رہی ہیں۔

کارگل تو دور کشمیر بھی بظاہر ہاتھ سے جا چکا جبکہ ان کی روشن خیالی کو شدت پسندی کی دیمک چاٹ چکی ہے۔ مذہبی شدت پسندی کے ساتھ ساتھ اب سیاسی شدت پسندی اور دہشت گردی کا نیا اضافہ بھی قوم کے شامل حال ہو چکا ہے۔ ان کی طرف سے سزائے موت کے سزاوار بنائے گئے ملزم نواز شریف چوتھی مرتبہ شیروانی سلوائے وزیراعظم بننے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس وقت کے ممکنہ امیر المؤمنین سے ملک کو بچانے کی کوششیں بعد کے ”صادق اور امین“ سے ملک کو برباد کروا چکی ہیں جبکہ آج کی سپریم کورٹ ان کی سزائے موت کا فیصلہ اور عدالت دونوں بحال کر چکی ہیں۔ اس فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ نے اپنے اضافی نوٹ میں جنرل مشرف کی لاش کو قبر سے نکال کر ڈی چوک میں لٹکانے کی رائے دی تھی۔

ملکی اور اجتماعی معاملات میں آپ کی ساری نیک نیتی اور اچھے اعمال اس صورت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب آپ کے پاس ان اعمال کا مینڈیٹ یا قانونی اتھارٹی نہ ہو۔ آپ ملاں ہوں یا ڈکٹیٹر، جج ہوں یا سیاستدان، سب کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جس بات کا آپ کو مینڈیٹ نہیں اس بات پر دنیا اور آخرت میں آپ کو کوئی جواب دہی بھی نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں زبردستی ہیرو یا خدائی فوجدار بننے سے سوائے ملک کو بحران میں ڈالنے اور مذہب، فوج، عدلیہ یا سیاست کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے حتمی طور کچھ حاصل وصول نہیں ہوتا۔ ملا کی فحاشی ختم کرنے کی کوشش اور ڈکٹیٹر کی سیاستدانوں کو کارنر کرنے کی کوششیں، پی ٹی آئی اور جسٹس مظاہر نقوی کی مشرف کو عدالتی سزا سے بچانے کی کوششیں اور بھٹو کو پھانسی سناتے ججز کے فیصلے، یہ سب اس امر کا وہ بین ثبوت ہیں جنہیں بند آنکھوں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS