کتاب اور کیبن کریو

کتابوں کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ہماری نظر میں بعض کتابوں کے عنوانات اس قدر معنی خیز ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعض کتابوں کے عنوانات کو دیکھ کر ہم پہلے سے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کتاب میں کیا درج ہو گا۔ اب یوں کرنا صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ قاری پہ رکھا جاتا ہے۔ ہم خود بعض کتابوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو ہی نہیں روک پاتے اور کتاب کی ورق گردانی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اسی سلسلے میں گزرے برس یعنی 2023 کو دسمبر کے مہینے میں کراچی آرٹس کونسل میں عالمی ادب کانفرنس منعقد کی گئی جہاں پر کتابوں کا میلہ بھی سجا تھا جسے دیکھ کے دل باغ باغ ہو گیا اور اسی باغ سے ہم نے ایک کتاب خرید لی تھی جو ہمارے سفر کی ساتھی بن سکے۔ ملازمت میں سال بھر کی تھکاوٹ اپنی جگہ مگر جس سربراہ کے ماتحت آپ کام کر رہے ہوتے ہیں اگر وہ ایک بہتر دوست اور رہبر کی مانند ہو تو ہر کام کرنے میں ایک نیا لطف ملتا ہے کیونکہ ہمارے معاملے میں سب کچھ متضاد تھا اسی لیے شہر اقتدار کی جانب سے ملازمت کے سلسلے میں حاضری یقینی بنانے کے لیے کہا گیا تو ہم اپنا رخت سفر باندھ کے نکلنے لگے کیونکہ اسلام آباد ہماری پہلی محبت ہے۔
جہاں ہم نے اپنے رخت سفر کو یقینی بنایا وہی ہم نے اپنی اس غذا کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم اکثر تنہا نہیں ہوتے۔ پہلی دوا کا بندوبست تو جدیدیت نے کر دیا ہے کہ ہم سمیر انجان صاحب کے لکھے ہوئے کلام سننا پسند کرتے اور دوسرا کتابیں پڑھنا۔ چونکہ کتاب کو اپنے ہاتھ میں تھام کر پڑھنے کا جو سرور آپ کو ملتا شاید وہ کسی جدید آلے میں کتاب پڑھنے سے ملے۔ ہمارے اس سفر کی ساتھی کا کا نام آئزک باشیوس سنگر کی تحریر شدہ کتاب A Young Man in Search of Love تھی جس کا اردو میں مشیر انور صاحب نے ”محبت کا متلاشی ایک نوجوان“ کے عنوان سے ترجمہ کر رکھا ہے۔
جب تمام مسافر اپنی اپنی نشستوں پہ براجمان ہوئے تو غائبانہ آواز نے اپنا اور اپنے ساتھی دوستوں کا تعارف کرایا اور مسافروں کو خوش آمدید کہا جہان چند حفاظتی انتظامات کے حوالے سے آگاہی دی گئی اور سفر کے لیے نیک تمنائیں پیش کی گئی۔ اس کے بعد ہمارے سفر کا آغاز ہوا تو ہم نے حسب معمول اپنی کتاب کھولی اور اس میں کھونے کی ایک ناقابل کوشش میں مصروف ہونے لگے اور اس کوشش میں ابھی آدھ گھنٹہ ہی مشکل سے گزرا ہو گا کہ کیبن کریو حسب معمول وقت کی مناسبت سے کھانے پینے کی اشیاء لے آئے اور باقی مسافروں کی طرح انہوں نے ہمیں بھی پیش کیا جس پہ ان کا شکریہ ادا کیا گیا تو انہوں نے ہماری کتاب پہ نظر ڈالی اور خوش آمدید کہا اور اپنی اپنی ذمہ داریوں میں سرگرم رہنے لگیں۔
کھانا کھاتے ہوئے ہمارے بائیں جانب ادھیڑ عمر کے محترم بیٹھے ہوئے تھے جن سے ہم نے مصافحہ کیا اور حال احوال پوچھنے لگے تو محترم پاکستان کے اس شہر سے نکلے جہاں پورے پنجاب کا خزانہ چند گلی کوچوں تک محدود ہے۔ خیر انہوں نے ہمارے ہاتھ میں کتاب دیکھی اور کہا کہ ہمیں بھی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خاص طور پر اسلام کے اوپر لکھی ہوئی کتب اور انہوں نے ہم سے عرض کیا کہ کون سی کتاب پڑھ رہے تو ہم نے کتاب دکھلا دی جس کو دیکھ کہ انہوں نے اپنا منہ پچکا اور بغیر کچھ کہے دوسری جانب رخ کر لیا۔
انہوں نے جیسے ہی منہ دوسری جانب کیا جس نے ہمیں ایک تذبذب میں ڈال دیا کہ انہیں کیا ہوا وہی کیبن کریو واپس آئی تاکہ وہ برتن جس پہ کھانا پروس کے دیا گیا تھا اسے واپس کے جا سکے۔ ہماری اضطرابی کیفیت ابھی حل نہ ہونے پائی تھی کہ محترمہ سے نہایت معصومانہ لہجے میں جو کہ ظاہری طور پہ بناوٹی تھی پوچھا کہ ایکسکیوز می سر کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں تو ہم جواب سے زیادہ انہیں سر ورق دکھانا مناسب سمجھا جس کے عنوان اور پھر اس پہ چھپی تصویر دیکھی اور نیم بناوٹی مسکراہٹ پہ ہم سے کہا کہ سر ان معاملوں سے دور رہیں اور برتن سمیٹ کے چلی گئی۔
ہم سب کچھ نظر انداز کر کے اپنی ناقابل کوشش جس میں خلل واقع ہو چکا تھا اسے پورا کرنے میں لگ گئے۔ ہم ابھی اس موڑ پہ پہنچے جہاں آئزک نے اپنی زندگی کے خوشگوار واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ بعض اوقات سب کچھ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنا کچھ نہیں ہوتا جس پہ لوگ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق آپ کے حوالے سے ایسی رائے قائم کر لیتے ہیں جس کا مٹنا زندگی میں اکثر نا ممکن رہتا ہے اور وہ اس شخص کے ذہن میں آپ کی ایک پوری پہچان بن جاتی ہے۔
ہم ابھی اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے اپنے کمزور ذہن پہ جہان زور لگا رہے تھے وہی یک دم سے ہوائی جہاز نے جہاز میدان میں ایسی لینڈنگ کی جس سے ہمارے حواس باختہ ہو گئے اور ہم ایک اور بہترین کیفیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گئے اور ہم نے کتاب کو بندھ کرتے ہوئے سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے ذہن میں اس محترم کا منہ پچکانا اور اس کیبن کریو کا جملہ ذہن میں گردش کرنے لگے اور ہماری پوری توجہ ان دونوں پہ مرکوز ہو گئی تھی اتنے میں کیپٹن کی آواز آ گئی کہ ہم اپنی منزل پہ پہنچ چکے ہیں اور اختتامی کلمات پیش کیے۔
ہم نے محترم کے اٹھنے سے پہلے ان کی طرف دیکھ سلام کیا اور ان سے عرض کیا کہ جناب یہ بہترین کتاب ہے جس میں ایک انسان کی آپ بیتی ہے پوری روداد لکھی گئی ہے موقع ملے تو اس کا مطالعہ کیجئے گا جس پہ انہوں نے اوکے کہا اور سامان اٹھا کے نکل پڑے اور انہی کے ساتھ ہم نے بھی اپنی کتاب تھامی اور باہر کی جانب جاتے ہوئے دیکھا کہ کیبن کریو دروازے پہ سب کو خدا حافظ کہہ رہی تھی ہم وہاں پہنچے اور مسکراہٹ کے ساتھ نیور جج آ بک بائی اٹس کور کے ساتھ خدا حافظ کہا اور اپنے ملازمت کے سفر کی جانب نکل پڑے۔

