بہت استاد ہو


بغیر نام و پتہ بھی یاد ہوتے ہیں
کچھ لوگ، واقعی استاد ہوتے ہیں
فیصل یہ شعر زور زور سے پڑھتا ہوا ہوٹل میں میرے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گیا۔
یار معلوم تاریخ میں تمہیں پتہ ہے کہ لوگوں نے ایک دوسرے کو استاد کہنے کا سلسلہ کب شروع کیا؟
یار اتنا استاد تو میں کبھی نہیں رہا۔
چلو یہ بتا دو تمہارے منہ سے کسی کے لئے یہ لفظ پہلے پہل کب نکلا تھا؟

یار ایک مولوی صاحب چائے کے ہوٹل پہ اپنے طالب علموں کے ساتھ بیٹھے تھے، تو چائے کے کپ میں مکھی گر گئی۔ ایک ہشیار طالب علم نے فوراً کہا اب استاد جی ہمیں سکھائیں گے کہ جب کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو کیا کرنا افضل ہے۔

مولوی صاحب نے کچھ سوچا اور پھر ہوٹل والے کو اشارہ کر کے کہا اس چائے میں مکھی گر گئی ہے اسے بدل دو ۔
طالب علم نے کہا استاد جی وہ مکھی ڈبو کر نہیں؟

مولوی صاحب نے کہا بیٹا جس مکھی کو ڈبو کر کھانے کا ذکر تھا وہ مدینہ کی مکھی تھی ماشا اللہ کھجوروں پہ بیٹھتی تھی یہ مکھی تو سامنے کچرے اور گوبر سے اٹھ کر آ رہی ہے۔ واللہ مدینے کی مکھی ہوتی تو میں ڈبو ڈبو کر چائے پیتا۔

بس یار یہ وہ پہلی استادی تھی جو میں نے حالت شعور میں دیکھی۔
فیصل نے قہقہہ لگایا اور کہا یعنی لوگ واقعی استاد ہوتے ہیں۔

یار استاد ایک مہذب لفظ ہے اسے اس طرح ضائع نہ کرو۔ میرا مشورہ ہے شعر بدل لو۔ استادوں کا احترام معاشرے کی اساس ہے۔

یار ایمی بدل بھی لوں تو کیا فائدہ تم شاید بھول رہے ہو کہ اسکول، کالج و یونیورسٹی میں پڑھانے والے اب کہاں خود کو استاد کہلواتے ہیں اب تو سب ٹیچر ہیں استاد تو کہیں کھو گیا یار، لفظ استاد تو اب استعمال ہی نہیں ہو پا رہا یا یوں کہو کہ ان کے لئے بولا ہی نہیں جاتا۔

تو پھر کن کے لئے بولا جاتا ہے؟
صبح سے شام تک کی کچھ مثالیں تمہارے سامنے ہیں، بلکہ رکو ہم تو ہوٹل پرہی ہیں نا۔ ابھی دیکھو!
ہاں استاد، دو چائے دودھ پتی!
اور کچھ دیر میں چائے حاضر۔ اور سن کل جب تو بائیک کا کام کروانے رکا تو تو نے خود کیا کہا تھا۔
میں نے چائے کا سپ بھرا۔ اور کہا۔ استاد ذرا یہ کلچ دیکھنا۔

بس تو یہی میں کہہ رہا ہوں کہ اب استاد استعمال ایسے ہی ہوتا ہے یا لڑکے لوگ ایک دوسرے کو کہہ رہے ہوتے ہیں ابے بہت استاد ہے تو ۔

آج تجھے یہ استاد یاد کیسے آ گئے ویسے؟

یار ابھی ہوٹل پہ بیٹھا تھا تو اک لڑکا پمفلٹ دے گیا رنگ گورا کرنے کی کریم کا ۔ تو مجھے اسکول کی مس یاد آ گئیں گوری رنگت اور پاؤں کالے بس وہیں سے مسیں، پرانی یادیں، وہیں سے میں جڑا اس لفظ سے۔

تجھے کریم سے کچھ یاد آیا؟

اور اس کے ساتھ ہی فیصی کے منہ سے چائے فوارے کی طرح باہر نکلی۔ ابے یار! کیا ٹیچر تھا وہ بندہ۔ ایسی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔

ہم آئی سی ایم اے کے پی فور میں اور ہم میں سے ایک لڑکے نے کہہ دیا سر آپ ہمیں کانسیپٹ کلیئر کریں ہم کریم ہیں اس ادارے کی جو فائنل ائر تک پہنچے۔

سر نے کتاب پر سے سر اٹھائے بغیر انتہائی آسانی سے کہا کہ اگر آپ کریم ہیں تو دودھ خراب ہو گا بیٹا۔ اوہوہوہو سب ہکا بکا یار بعد میں پوری کلاس کا نام ہی خراب دودھ پڑ گیا تھا۔ ہم تو ہنسے ہی ایک ہفتے بعد تھے۔

واقعی یار استاد و شاگرد کے عمدہ ترین لطیفوں میں شامل ہونا چاہیے اسے۔
ایمی تو مجھے تو یار اس شعر پہ منع کر رہے ہو اور وہ جو شعر ہے، جو تم اکثر پڑھتے ہو
میری تعلیم مکمل بھی بھلا کیسے ہوتی
ایک تو عشق ہوا اور عشق بھی استانی سے
یار یہ شاعر کی خالصتاً قافیہ پیمائی ہے اسے درگزر کردے۔
لیکن تمہاری بات صحیح ہے یہ اسکول، کالج، یونیورسٹی، کے ٹیچر خود کو استاد نہیں کہلواتے۔

یار مجھے تو اس میں بھی کوئی استادی ہی دکھ رہی ہے، ورنہ اتنا عام بول چال کا لفظ اچانک ایسے معدوم ہو رہا ہے جبکہ پیشہ پوری آب و تاب سے موجود ہے۔ اور ٹیوشن سنٹر کا تو نہ ہو پوچھو۔

اتنے میں برابر میں بیٹھے اک صاحب نے کہا میرا نام قاسم ہے میں آپ دونوں کی گفتگو سن رہا ہوں میں پیشے کے اعتبار سے مکینک ہوں، میری اپنی ورکشاپ ہے اور لوگ مجھے بھی استاد کہتے ہیں، میں شاید اس بات کا جواب دے سکوں۔

ہم دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔ بالکل۔

کہنے لگا لوگ ہمیں استاد اس لیے کہتے اور مانتے ہیں کہ ہم اپنا فن و ہنر مکمل اپنے شاگرد میں منتقل کر دیتے ہیں آپ کتنے ہی مکینک کی دکانوں پہ، یا کسی بھی ہنر کو لے کر اس کی دکانوں پہ جائیں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ کسی نہ کسی کے شاگرد ہی تھے اور ان کے شاگرد ان کے ساتھ آگے اس کام کو مکمل سنبھالنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں یہ ہے وہ بنیادی پراسیس جو استاد سے شاگرد میں منتقل ہو اور لوگ پھر شاگرد ہی کو استاد کہنے لگ جائیں یہ آپ کو اب اسکول، کالج و یونیورسٹی، یا ٹیوشن سنٹرز میں نہیں ملے گا۔

فیصل نے کہا بھیا جی آپ نویں جماعت سے لے کر ماسٹرز تک کے کوئی سے پانچ سال کے پیپرز کسی بھی کلاس کے اٹھا لو کوئی نیا سوال اگر پچھلے پانچ سال میں آیا ہو تو بتا دینا۔ پھر مزید استادی یہ کہ اسکول، کالج کے اساتذہ اسکول اور کالج کے اوقات کار کے بعد وہی چیز مزید پیسے لے کر ایک سے دو گھنٹے کے ٹیوشن سنٹر میں سمجھا رہے ہیں، یہ دیکھ یار استادی۔

بہت استاد ہیں یار یہ اس لیے انہیں ٹیچر ہی رہنے دو استاد ایک بڑا لفظ ہے اس کا کینوس بہت بڑا ہے اس میں یہ لوگ فٹ نہیں بیٹھتے۔
اتنے میں قریبی ٹیوشن سنٹر کے ایک ٹیچر بھی ہوٹل میں داخل ہوئے اور آواز لگائی۔
استاد ایک چائے دو بسکٹ۔

Facebook Comments HS