مکافات عمل اور لیول پلیئنگ فیلڈ
عدالتیں وہی اچھی جو میرے حق میں ہوں، فوج وہی محب وطن جو میرے ساتھ کھڑی ہو، ایماندار سیاستدان وہی جو میرے پیچھے کھڑا ہو اور عوام وہی جو میری ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرے ورنہ سب چور، غدار، ڈاکو، ملک دشمن، قوم دشمن ہیں۔ یہی عمران خان کا نظریہ اور بیانیہ تھا۔ عمران خان نے جو گڑھے دوسروں کے لیے کھودے اسی گڑھے میں آج خود گر گئے ہیں۔ تاریخ کا سبق سب پڑھاتے ہیں لیکن تاریخ سے سبق کوئی نہیں سیکھتا۔ یہ انسانی نفسیات ہیں کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتا ہے باقیوں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں عمران خان واحد سیاستدان تھا جو اپنے علاوہ سب کو چور سمجھتا تھا اس کی غلط فہمی تھی کہ میرے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے ملکی مسائل کا حل صرف میں ہوں وہ خود کو پاکستان کا آئین، قانون، آرمی چیف، چیف جسٹس، وزیراعظم، صدر، چیئرمین نیب سب عہدے پر براجمان ہونا چاہتا تھا اور اپنے ہر مخالف کو دیوار میں چنوا دینا چاہتا تھا۔ عمران خان پاکستان کی تاریخ کا خوش قسمت ترین وزیراعظم تھا جس کے ساتھ ایک ہی وقت میں عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، نیب، ایف آئی اے، کاروباری شخصیات، شوبز انڈسٹری کے نمایاں چہرے اور پاکستان کی ایلیٹ کلاس کی مکمل حمایت حاصل رہی۔
اس کے باوجود بھی عمران خان ڈلیور نہیں کر پائے۔ 45 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے لیکن قوم کو 50 لاکھ گھر تو دور ایک گھر نہ دے سکے۔ آخر میں پاکستانیوں کے حصے میں لنگر خانے پناہ گاہیں اور مرغیاں کٹے آئے۔ اقتدار میں تھا تو ہلاکو خان تھا اقتدار سے نکلا تو خطرے ناک خان بن گیا۔ جس اسٹیبلشمنٹ نے پالا پوسا ایوان اقتدار تک پہنچایا آخر میں اسی کے گلے پڑ گیا پھر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا دشمن بنا لیا۔ ایک وقت آیا سب اس کے مخالف ہو گئے اور وہ تنہا رہ گیا لیکن اب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
جن کو اپنے ہاتھوں سے پالا وہی بچے گلے پڑ گئے۔ آج عمران خان مکافات عمل کا شکار ہیں اور نون لیگ کو بھی لیول پلیئنگ فیلڈ مل گئی ہے جیسی وہ چاہتی تھی۔ نتیجہ اور سبق یہ ملتا ہے عوام کے نمائندے عوام کے ہی بنیں کسی کی کٹھ پتلی مت بنیں اگر کٹھ پتلیاں بنو گے تو انجام یہی ہو گا۔ کٹھ پتلیاں بنانے والوں کو بھی اب سبق سیکھ جانا چاہیے اسی چکر میں ہم پورے خطے میں ترقی کی دوڑ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ دیر آئے درست آئے اگر آپ نے سبق سیکھ لیا ہے تو مان لیتے ہیں ہمارا کیا ہے ہم تو حکم کے غلام ہیں آپ بادشاہ بھی ہیں اور حکم بھی آپ کا ہی چلتا ہے بس بادشاہ سلامت اب قوم پر رحم کھائیں اور قوم کے فیصلے قوم کے نمائندوں کو ہی کرنے دیں۔
پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے یہی پاکستان کو بچانے چلانے اور ترقی کی راہ پر لانے کا آخری اور آسان ترین فارمولا ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کریں ملک کے فیصلوں کا محور وزیراعظم ہاؤس کو ہی بننے دیں عوام کے فیصلے عوام کا منتخب وزیراعظم کرے گا تو وہ کل کو عوام کو جواب دہ ہو گا اگر عوام کے فیصلے آپ کریں گے تو پھر اپ کی طرف انگلیاں اٹھیں گی۔


