12 ویں فیل۔ سچ کی جستجو
2023 کے آخری مہینے میں ریلیز ہونے والی فلم 12 ویں فیل معاشرے کے غریب طلباء کے بارے میں ہے۔ اس فلم کا مرکزی کردار منوج کمار شرما ہے۔ جو ایک غریب نوجوان لڑکا تھا۔ اس کے والد، اس کے سرپرست، انتہائی دیانت اور اخلاقی درستگی کے حامل فرد ہیں۔ لیکن اس نے بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑی۔ اس لیے اسے معطل کر دیا گیا۔ منوج کی فیملی کو ما لی طور پر مشکل کا سامنا کرنا پڑھا۔ منوج کے گاؤں میں امتحان کے دوران دھوکہ دہی کی کھلی اجازت تھی۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی باز جگہوں پر امتحانات کے دوران کھلے عام دھوکہ دہی کی اجازت ہے۔
حال ہی میں صوبہ کے پی میں میڈیکل میں دھوکہ دہی کی وجہ سے دوبارہ منعقد کیا۔ منوج نے کہا، ”اگر شہری تعلیم یافتہ ہوں تو یہ لیڈروں کے لیے ایک حقیقی مسئلہ بن سکتا ہے۔ “ خاص طور پر کرپٹ لیڈر۔ ”فلم میں پولیس کو روایتی طور دیکھا گیا ہے کہ پولیس بھی خان، سردار، ملک اور نوابوں کے سامنے بے بس ہے۔ مگر جب منوج کے گاؤں میں ایک ڈی ایس پی نے دھوکہ دہی کو روکا تو وہ ڈی ایس پی سے بہت متاثر ہوا اور اس نے اگلے سال اپنے امتحانات کے دوران دھوکہ نہیں کیا۔
وہ ڈی ایس پی تو تبدیل ہو گیا اور پھر سے دھوکہ دہی شروع ہو گئی۔ مگر اس نے بغیر دھوکے کے 12 ویں جماعت پاس کر لی۔ کیونکہ ڈی ایس پی نے اس سے کہا، ”اگر تم ڈی ایس پی بننا چاہتے ہو تو پہلے دھوکہ دہی بند کرو“۔ ڈی ایس پی کی نوکری کے امتحان کے لیے وہ دہلی گئے لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنا سامان کھو بیٹھا۔ وہ بس میں ایک خاتون کے پاس بیٹھا تھا۔ تو اس خاتون نے اس کا بیگ چرا لیا۔ وہ واقعی بہت زیادہ پریشان تھا۔
اس تھیلے میں کچھ رقم تھی جو اس کی دادی نے اسے دی تھی۔ کئی دن وہ بھوک میں گزارتا ہے، لیکن غیر متوقع طور پر وہ ایک ریستوران کے مالک سے کھانے کی درخواست کرتا ہے۔ ریستوراں کا مالک اسے کھانا فراہم کرتا ہے وہ کھانا کھاتے ہوئے ایک اجنبی سے ملتا ہے۔ وہ دوست بن جاتے ہیں۔ وہ آئی پی ایس افسر بننے کے لیے اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ گواری نامی شخص سے ملتا ہے جو تین بار ٹیسٹ میں ناکام ہوا ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا مہربان شخص ہے۔ جو ضرورت مند طلبہ کی بغیر کسی فیس کے ان کی مدد کرتا ہے۔
تو وہ انگریزی اور ہندی میڈیم کے درمیان ایک دوڑ تھی۔ انگلش میڈیم طلباء نے تیاری کے لیے اعلیٰ ترین کوچنگ سینٹرز میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن گواری نامی وہ شخص اس ٹیسٹ کے لیے منوج کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کی ملاقات شاردا نامی لڑکی سے ایک کوچنگ سینٹر میں ہوتی ہے۔ منوج لائبریریوں، باتھ رومز اور بہت سی جگہوں کی صفائی کرتا ہے۔ وہ ایک بہت ہی چھوٹے سے کمرے میں بھی رہتا جہاں وہ سارا دن خاندان کے لیے کام کرتا ہے۔
منوج کہتا ہے ”مجھ پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے میں اپنے خاندان کے لیے کچھ کام کروں گا۔“ وہ ایک چھوٹی سی چکی میں کام کرتا اور اپنے خاندان کے مالی مسائل کو پورا کرنے کے لیے کچھ کمانے کے لیے آٹا پیستا۔ وہ دن بھر انتھک محنت کرتا اور رات کو مطالعہ کرتا۔ آخر میں گواری نے اس کی بہت مدد کی۔ اس کی پوری کوششوں میں خاطر خواہ مدد فراہم کی۔ اس نے اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔ اس نے اسے بغیر کسی قیمت کے تین گنا زیادہ کھانا دیا۔
اس نے اسے پریشان نہیں کیا اور اس نے مالی معاملات میں منوج کے خاندان کی ذمہ داری بھی لی۔ شردہ بھی اس کی مدد کرتی ہے۔ آخرکار وہ اپنی آخری کوشش میں پاس ہو جاتا ہے۔ آخری بار اس کی ملاقات اس ڈی ایس پی سے تھانے میں ہوئی تھی، اس نے اسے یاد دلایا اور اس سے کہا،“ سر، ایک آئی ایس پی افسر آپ کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ لڑکا جو 12 ویں جماعت میں دھوکہ دے رہا تھا، آپ نے اسے کہا تھا کہ دھوکہ دہی بند کرو، تم کامیاب ہو جاؤ گے، اس لیے اب میں حاضر ہوں۔“
وہ ڈی ایس پی اسے گلے لگا کر سلام کرتا ہے۔ یہ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح متوسط طبقے کے طلباء کامیاب ہونے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ صبر، ہمت، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصیبت کا سامنا کرنے پر دوبارہ شروع کرنے کی طاقت پر زور دیتی ہے۔ منوج کا نہ صرف ایک اعلی افسر بننا نہ تھا بلکہ ایک امانت دار افسر بننا تھا۔ منوج نوجوان اور متوسط طبقے کے طلباء کے لیے ایک بہترین سبق ہے جو بدعنوان نظاموں سے مایوس ہیں۔ لہذا اگر آپ محنت کریں گے تو آپ منوج کی طرح کامیاب ہوں گے۔
اسے اس کی ماں، دادی، بھائی، اس کے دوست، گواری (وہ شخص جو مفت تعلیم دیتا ہے، شردہ کی محبت، اس کی غریب زندگی، محرکات اور محنت نے سپورٹ کیا۔ منوج نے آخر میں کہا کہ ”یہ صرف میری جنگ نہیں ہے ؛ یہ تمام متوسط اور غریب طبقے کے خاندانوں اور طلباء کے لیے جنگ ہے جو کامیاب ہونا چاہتے ہیں لیکن مایوس ہیں“ ۔ ہر طالب علم کو یہ فلم ضرور دیکھنی چاہیے۔ بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد کو دیکھنی چاہیے جو زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ ہے۔ دیا نت داری، ایمانداری اور سچائی کو اپنا شعار بنائے۔ اور وقت کے ہر اس فرعون اور یزید کے سامنے ڈٹ جائے۔ جو انصاف، حق اور سچ کا دشمن ہو۔


